ماحولیاتی آلودگی کا خطرہ اور ہمارے عارضی حل

112

گزشتہ شام لاہور میں سموگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی میں شدید اضافہ ہوا جس کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے جمعرات کے دن شہر میں سکولوں کوبند رکھنے کا اعلان کیا گیا ۔ شہر میں ایئر کوالٹی انڈیکس 580 ریکارڈ کیاگیا جو خطرناک سطح ہے۔

پاکستان میں سموگ اب موسمی مسئلہ بن گیا ہے جو پچھلے چار برسوں سے مسلسل ملک کے بعض شہروں، بالخصوص لاہور کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے جس کی وجہ سے نظام زندگی متاَثر ہوتا اور شہری زیادہ تعداد میں بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ چلڈرن ہسپتال لاہور کی رپورٹ کے مطابق حالیہ چند سالوں کے دوران بچوں میں سانس اور چھاتی کے امراض میں تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

حکومت نے سردیوں کے سموگ سے بچنے کے لیے ملک میں پہلے سے بعض اقدامات اٹھائے تھے جن میں فصلوں کا بھوسہ جلانے پر پابندی، اینٹوں کے بھٹوں کی بندش اور فیکٹریوں کو ٹیکنالوجی میں بہتری لانے کے نوٹس جاری کرنا اور ان کا معائنہ وغیرہ شامل تھے۔ لیکن اس کے باوجود سموگ کے ایئر کوالٹی انڈیکس کا ریکارڈ تشویشناک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سموگ کی وجوہات کے اعتبار سے مسئلہ صرف خاص حدود میں پابندیاں لاگو کرنے سے حل نہیں ہوسکتا۔ پنجاب تحفظ ماحولیات کونسل کے مطابق سموگ کی پیدائش میں ہماری انڈسٹری کا حصہ صرف دو فیصد ہے، ملک میں انڈسٹری کا حلقہ ویسے بھی انتہائی محدود ہے، اگر اس پہ زیادہ باوَ ڈالا گیا تو معاشی نقصان ہوگا۔

ماحولیاتی آلودگی شرح کے فرق کے ساتھ ساری دنیا کا مسئلہ ہے اور یہ عارضی نہیں بلکہ مستقل ہے۔ لہذا اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تحفظ ماحولیات کے ملکی وعالمی اداروں کی تحقیق و نتائج سے استفادہ کرتے ہوئے منصوبہ بندی کے ساتھ اجتماعی کوششیں بروئے کار لانے اور اس حوالے سے ذرائع ابلاغ کے توسط سے آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے ۔ چندروز قبل ٹیلی گراف نے خبر دی کہ ایئر کوالٹی انڈیکس میں دنیا کے بیس آلودہ ترین شہروں میں پاکستان کے پانچ شہر شامل ہیں۔ یہ صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ ماحول و فضا کو صاف رکھنے کے لیے علمی تحقیقات و وسائل استعمال میں لائے جائیں۔ اس کے ساتھ رویوں کی تہذیب، قوانین کے اطلاق اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی منظم و مستقل بنیادوں پر سعی کی جائے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...