قبائل کا اسلحہ کلچر اور کتاب کا عہد

دانش مراد

135

بلوچستان کے قبائلی نظام میں اسلحے کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ اسلحے کے بغیر قبائلی معاشرے کے اندر، خصوصاََ دوردرازکے علاقوں میں رہائش اختیار کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ قبائلی علاقوں میں اسلحے کو خصوصی حیثیت حاصل ہے، اس کاایک مقصد اپنے قبائلی ہونے کا ثبوت دینا بھی ہے۔ قدیم اسلحہ یہاں افتخار اور شان وشوکت کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے آج جدید دور میں بھی قبائل کے اندر پرانے ہتھیار عام دیکھنے کو مل جاتے ہیں، جن میں تیری کلاشن، دو نلی، سیہ تیری، پنچ تیری اور بارہ بور مشہور ہیں۔ بلوچستان کے دیہی علاقوں میں شاذ ہی کوئی ایسا گھر ہوگا جہاں بارہ بورکی رائفل موجود نہ ہو۔ ان بندوقوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ ان کا لائسنس نہیں ہوتا جبکہ یہ عام بندوقوں سے بڑی بھی ہوتی ہیں۔

تاریخی طور پہ قبائل، خصوصاََ خیبرپختونخوا کے،1897 سے دستی بندوقیں تیار کررہے ہیں۔ برطانوی راج کے دوران وہ برطانوی بندوقوں کی کاپیاں بناتے تھے۔ حکومت نے خیبرپاس سے محفوظ راہ گزر حاصل کرنے کے لیے اس کی اجازت دے رکھی تھی۔اس لیے یہاں چھوٹے اسلحے کی ہمہ قسم کی اقسام تیار کرنے کا فن عروج پر رہا ہے۔ درہ آدم خیل دنیا میں غیرقانونی اسلحہ بنانے کی سب سے بڑی مارکیٹ سمجھا جاتا تھا۔ نائن الیون سے قبل ایک دکاندار ہفتے میں کم ازکم پچاس بندوقیں اور پستول بیچ لیا کرتا تھا۔ ماضی میں اس کاروبار سے وابستہ رہنے والے ایک بزرگ کے مطابق اس نے تقریباََ دس ہزار کے قریب بندوقیں اور پستول وغیرہ فروخت کیے ہوں گے، لیکن کبھی بھی خرابی کی کوئی شکایت نہیں آئی۔

بلوچستان کے قبائل کے بارے میں یہ رسم معروف ہے کہ وہ اپنے ہر خوشی کے موقع کا آغاز فائرنگ سے کرتے ہیں۔ بچے کی پیدائش ہو، شادی کا دن ہو تو یا کوئی کامیابی حاصل ہو، ہوائی فائرنگ ضروری خیال کی جاتی ہے۔ دیہی علاقوں میں تو آج بھی یہ رسم آب و تاب کے ساتھ تھ قائم و دائم ہے، البتہ دارالحکومت کوئٹہ سمیت کئی چند شہروں میں اب اس کے مظاہر کم دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ رواج بھی موجود ہے کہ جب کوئی شہری دیہات میں جاتا ہے تو وہاں کے لوگ اسے شکار کے لیے ساتھ لے جا تے ہیں اور پہاڑوں پر شکار کراتے ہیں۔ اس کے علاوہ میڑھ اور جرگہ بندوقوں کے سائے تلے ہوتے ہیں۔ قبائلی علاقوں میں بندوق کا حقیقی استعمال اس وقت ہوتا ہے جب دوقوموں میں لڑائی ہوجائے، ورنہ عام طور پر لوگ بندوقوں کو شوقیہ، نشانہ بازی اور شکار کی غرض سے رکھتے ہیں۔

تاریخی طور پہ قبائل، خصوصاََ خیبرپختونخوا کے، 1897 سے دستی بندوقیں تیار کررہے ہیں۔ برطانوی راج کے دوران وہ برطانوی بندوقوں کی کاپیاں بناتے تھے۔ انگریز حکومت نے خیبرپاس سے محفوظ راہ گزر حاصل کرنے کے لیے اس کی اجازت دے رکھی تھی

یہاں نشانہ بازی ایک مقبول کھیل ہے۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں باقاعدہ نشانہ بازی کے مقابلے منعقد کرائے جاتے ہیں جہاں صوبے بھر سے نشانہ باز مقابلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ایک مخصوص میدان میں 100،200 اور500 میٹرز کی دوری پر رکھے گئے ہدف کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔ قبائلی لوگوں کا نشانہ عمدہ ہونے کی وجہ ایسے مقابلے ہیں۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اب بھی شکار اور نشانہ بازی کے لیے مقامی سطح پر خصوصی طور پر بندوقیں تیار کی جاتی ہیں جن میں سب سے زیادہ مشہور”پچ پر“ بندوق ہے جسے ڈھاڈر میں بنایا جاتا ہے۔ ’پچ پر‘ کو اس لیے بھی زیادہ پسند کیا جاتا ہے کہ پائیداراور مضبوط ہونے کے ساتھ اس کا نشانہ نہیں چوکتا، جبکہ اس کی رینچ بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔ پہلے قبائلی نوابوں اور سرداروں کے محافظوں کے پاس یہی بندوق ہواکرتی تھی، تاہم اب تحفظ کے لیے شہر کی حد تک کلاشن کوف اور اسلحے کی دیگر انواع استعمال ہونے لگی ہیں۔ قبائلی علاقوں میں اگرچہ جدید اسلحہ متعارف ہوچکاہے مگر لوگ آج بھی پرانی بندوقوں کا شوق رکھتے ہیں۔

ہزاروں سالوں پر محیط قبائلی تاریخ میں بندوقوں کی تاریخ بھی صدیوں کی ہے۔ اسلحے کا روزگار سے بھی خاص تعلق رہا ہے۔ ایک رائفل شوٹنگ کے مقابلے کے دوران چند بزرگوں سے گفتگو کا موقع ملا تو انکا کہنا تھا کہ پرانے زمانے میں جس کا نشانہ اچھا ہوتا تھا اسے علاقے کے نواب یا سردار کا محافظ رکھ لیا جاتا تھا جبکہ ایسے لوگوں کو روزگار آسانی سے ملتا تھا۔

سنہء 1990سے بلوچستان کے صوبائی دارلحکومت میں بظاہر بندوق کلچر کے خاتمے کا سلسلہ شروع ہواہے۔ اب کوئٹہ میں اسلحہ اتنا عام نہیں جتنا اندرو ن بلوچستان ہے، شایداس کی وجہ قانونی اداروں کی جانب سے سختی ہے کہ لوگ شہرمیں اسلحہ منظر عام پر نہیں لاتے۔ تاہم بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بندوق کلچر آج بھی اپنے عروج پر باقی ہے۔

خیبرپختونخوا کے درہ آدم خیل میں بھی اب اسلحے کی مارکیٹ تقریباََ ختم ہوچکی ہے۔ اب وہاں گزشتہ برس اگست کے مہینے میں سید محمد نے پہلی لائبریری کی بنیاد رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب بندوق کا دور نہیں رہا، کتاب کا زمانہ ہے۔ 32 سالہ اس نوجوان نے پشاور یونیورسٹی سے شعبہ اردو میں تعلیم حاصل کی ہے۔ انہوں نے یہ لائبریری اپنے والد کی اسلحے کی دوکان کے اوپر ایک کمرے میں کھولی ہے جہاں ساڑھے تین ہزار کتب دستیاب ہیں۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پہلے ان کا مذاق بنایا گیا تھا کہ تم یہاں لائبریری کھولوگے، کون پڑھنے آئے گا۔ لیکن پہلے چند ہی ماہ میں ڈھائی سو کے قریب نوجوانوں نے اس کی ممبر شپ حاصل کرلی، ان میں تیس خواتین بھی شامل ہیں۔

اسلحہ کلچر اب بے ضرر نہیں رہا۔ اس لیے اب حکومت کو کوشش کرنی چاہیے کہ رفتہ رفتہ کتاب کلچر کے فروغ کے لیے اقدامات کرے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...