داعش کا نیا سربراہ کون ہے؟

شمس الدین نقاز

130

تنظیم کے ترجمان ابوحمزہ نے کہا کہ ’ہم ایسا جواب دیں گے کہ تم بغدادی کے عہد کو یاد کرو گے‘

گزشتہ جمعے کو ایک امریکی کاروائی کے دوران داعش میں خلیفہ سمجھے جانے والی شخصیت ابوبکرالبغدادی کو ہلاک کردیاگیا تھا جس کی تصدیق جماعت کی طرف سے بھی کردی گئی تھی۔ ترجمان ابوحمزہ القرشی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ابوبکرالبغدادی کو ماردیا گیا ہے اور اُن کی جگہ نئے خلیفہ ابوابراہیم الہاشمی القرشی آئے ہیں۔ اس اعلان کے بعد دنیا کے مختلف حصوں سے داعش کی ذیلی شاخیں سمجھی جانے والی جماعتوں کی طرف سے بیعت کا سلسلہ جاری ہے، جن میں صومالیہ اور مصر کی بعض جماعتوں کے نام نمایاں طور پہ سامنے آئے ہیں۔

سابق خلیفہ بغدادی کی موت کے ساتھ چند حیران کن چیزیں بھی سامنے آئی ہیں۔ مثلاََ یہ کہ انہوں نے عراق کی بجائے شام میں پناہ لے رکھی تھی، حالانکہ عراق داعش کے لیے زیادہ محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔شام میں بھی ادلب شہر کی بستی ’باریشا‘ میں کئی ماہ سے موجود تھے۔ ادلب ان مسلح گروہوں کا آخری گڑھ ہے جوشامی افواج اور داعش، دونوں کے مخالف سمجھے جاتے ہیں۔ باریشا پر بالخصوص القاعدہ کی ذیلی تنظیم ’حراس الدین(انصار الاسلام)‘ قابض ہے جو داعش کے ساتھ حالت جنگ میں رہی ہے۔ داعش نے ایک وقت میں اس کی تکفیر کا فتویٰ بھی دیا تھا۔ جس گھر پر حملے میں بغدادی کی موت ہوئی وہ القاعدہ کے رکن ابوالبراء کی ملکیت تھا۔ ادلب میں شام کے اندر دخل انداز طاقتوں کی کڑی نظر ہے۔ یہاں القاعدہ کے نائب لیڈر ابوالخیر سمیت کئی جہادی رہنما قتل کیے جاچکے ہیں۔

نیا سربراہ کون ہے؟ ٹرمپ نے بغدادی کے قتل کے بعد یہ بھی کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ نیا خلیفہ کون ہے۔ تاہم غالب گمان یہ ہے کہ نام کے اندازوں کے علاوہ نئی قیادت کے بارے میں تفصیلی معلومات موجود نہیں ہیں۔ ان کی کنیت تو ابوابراہیم القرشی ہے لیکن اصل نام کے متعلق فی الحال قیاس آرائیاں ہیں۔ زیادہ تر صحافی اور دفاعی تجزیہ کار عبداللہ قرداش کا نام لے رہے ہیں۔ عبداللہ قرداش ’مدمر‘کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے جس کا مطلب ہے ’مٹا دینے والا‘۔ اسلامی جماعتوں اور دہشت گردی کے امور کے ماہر ابوہنیہ کہتے ہیں کہ قرادش کا تعلق ترکمانستان سے ہے۔ ہشام الہاشمی کے مطابق اس کی شہریت کا کسی کو علم نہیں، وہ اردن، تیونس یا مصر سے ہوسکتا ہے۔ عموماََ داعش کلیدی سربراہی عہدوں کے لیے عراقی شہریت کے حامل افراد کا انتخاب کرتی ہے کیونکہ یہ اس کی جائے پیدائش اور گڑھ ہے لیکن قرداش عراقی نہیں ہے۔ یہ بغدادی کے قریب رہا ہے، مجلس شوریٰ کا رکن ہونے کے علاوہ عسکری ونگ کے کئی شعبوں کی نگرانی کرتا رہا ہے، جس میں عالمی سطح پر کاروائیوں کا شعبہ بھی شامل ہے۔

بغدادی کی موت سے تنظیم پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ رواں سال اگست میں ایک عراقی مجلے ’القضاء‘ نے عراق کے جنوبی حصے کے سربراہ ابوعیسیٰ القیسی کے بیانات شائع کیے جس میں اس کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے سے تنظیم کے کئی شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے، مناصب اور شعبوں کا پھیلاؤ کم کیاگیا ہے۔ یہ اپنے تنظیمی ڈھانچے میں پہلے سے زیادہ مربوط  ہوئی ہے اور اسی وجہ سے داخلی سطح پر باہمی اعتماد کاعنصر طاقتور ہے۔ ابوہنیہ کہتے ہیں کہ داعش پہلے سے زیادہ سخت کاروائیاں عمل میں لاسکتی ہے، بالخصوص یورپ میں۔ جیساکہ تنظیم کے ترجمان ابوحمزہ نے کہا کہ ہم ایسا جواب دیں گے کہ تم بغدادی کے عہد کو یاد کروگے۔

جن حالات میں بغدادی کی موت ہوئی ہے اس سے یہ خیال تقویت اختیار کرگیا ہے کہ داعش اور القاعدہ کے مابین تعاون کا سلسلہ قائم ہو رہا ہے۔اس سے قبل یہ خبریں موجود تھیں لیکن تنظیم کے سابق سربراہ کی القاعدہ کے رکن کے گھر میں پناہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مابین مشرکہ روابط کی کڑی مضبوط ہورہی ہے۔ ویسے بھی دونوں جماعتوں کو مشکلات کا سامنا ہے اس لیے عین ممکن ہے کہ مستقبل میں مشترکہ کاروائیاں بھی عمل میں لائی جائیں۔

داعش کی نئی قیادت ابوابراہیم الہاشمی القرشی جو بھی ہو، اس کا تقرر بغدادی نے کیا تھا۔ لہذا تنظیم کے سابق استعارے کے منظر سے غائب ہونے سے تنظیم کے اندر افتراق پیدا ہونے کا احتمال کم ہی ہے۔

مترجم:شفیق منصور، بشکریہ:ن پوسٹ-الحیاۃ

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...