ایف اے ٹی ایف کی تلوار:کم وقت اور مشکل اہداف

124

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے دو دن قبل جاری کردہ رپورٹ میں دہشت گردی کی معاونت کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے اُٹھائے گئے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پاکستان نے اگرچہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے کافی کوششیں کی ہیں لیکن کئی معاملات میں ابھی تک خلاموجود ہیں۔ کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت کوپوری طرح نہیں روکا جاسکا، بعض جماعتیں جہادی ٹریننگ کاعمل جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنی ذیلی شاخوں کے توسط سے انتخابات میں حصہ بھی لیتی ہیں۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان نے افغان امن مذاکرات میں تعاون کیا ہے تاہم ملک کے مخصوص علاقوں میں تحریک طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے عناصر متحرک ہیں۔ واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف کے زیرعتاب ممالک بارے تنظیم کی حتمی رپورٹ کے فیصلے میں امریکا کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔

پاکستان گزشتہ ماہ اپنے تین دوست ممالک کے ووٹ کی وجہ سے بلیک لسٹ ہونے سے محفوظ رہا تھا، تاہم ایف اے ٹی ایف نے اسے فروری تک کا مزید وقت دیا تھا جس میں پاکستان کو ان تمام شقوں پر عملدرآمد ممکن بنانا ہے جن میں عالمی ترجیحات کے مطابق کامیابی کا حصول ممکن نہیں ہوسکا تھا۔

تنظیم کے سربراہ نے پاکستان کو متنبہ کیا تھا کہ آپ کے پاس کرنے کے لیے بہت سارا کام اور وقت کم ہے۔ اس انتباہ کے بعد امریکا کی طرف سے آنے والابیان اس امر کا اشارہ ہے کہ حالات پاکستان کے لیے انتہائی غیرموافق ہیں۔ صرف تین ماہ کا وقت باقی ہے جس میں بلیک لسٹ ہونے سے بچنے کے لیے تسلی بخش کارکردگی پیش کرنی ہے، لیکن حکومتی مشینری اور متعلقہ ادارے داخلی سطح پر سیاسی کھینچا تانی میں مصروف ہیں۔ اس سے قبل تنطیم کے ایکشن پلان میں طے کیے گئے 27 میں سے صرف 5 اشاریوں میں مکمل عملدرآمد یقینی بنایا گیا تھا۔ ایف اے ٹی ایف کا لاگوکردہ پروگرام اتنا وسیع اور تفصیلی ہے کہ اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خاطرخواہ استعداد اور تیزرفتاری درکار ہے۔

سیاسی عدم استحکام میں تسلسل اور مایوس کن معاشی اشاریے حکومتی مشینری کے ارتکاز کو مزید تقسیم کرنے اور اس کی عملی صلاحیت کو کمزور کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ تنظیم کی گزشتہ ماہ کی حتمی رپورٹ کے بعد بظاہر اس حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ ضرورت ہے کہ حکومت اور ذمہ دار حلقے فی الوقت اپنی تمام تر توجہ اس پر مرکوز کریں کہ یہ مشکل ہدف کیسے پار کرنا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...