بلتستان کا ’پاری گاؤں‘، جہاں سسپلو سیب اور بدھ مت کے آثار ہیں

152

سسپلو سیب بالعموم پورے بلتستان اور بالخصوص پاری کھرمنگ کی دنیا بھر میں پہچان کا ذریعہ ہے۔ اب تک لوگ انفرادی سطح پر اس سیب کی مارکیٹنگ کرتے رہے ہیں جو ملک کے اندر محدود پیمانے پر تھی۔ ذایقہ، خوشبو اور جاذبِ نظر رنگت کے باعث یہ سیب خصوصی حیثیت کے حامل ہیں جس کا مقابلہ علاقے کی دوسری اقسام کے سیب نہیں کرتے۔ اس اہمیت کے پیش نظرکمشنر بلتستان نے علاقے کے عمایدین کے ساتھ مل کر سسپلو کو ملکی و غیر ملکی مارکیٹ تک پہنچانے کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ”سسپلو میلے“ کا انعقاد کیا، اس میں بڑے پیمانے پر سٹالز لگا کر سیب اوراس سے تیار شدہ دیگر اشیا نمائش و فروخت کے لئے رکھی گئی تھیں۔ اس سے قبل بلتستان میں ”چیری میلے“ اور ”خوبانی میلے“ کا کامیاب تجربہ بھی کیا جاچکا ہے۔

اس سیب کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ آزادی سے قبل پاری کے بزرگوں نے لداخ کے ضلعی دارلحکومت لیہہ سے 40 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع گاؤں سسپول سے اس سیب کا پودا لا کر پاری میں لگایا، یہ پھل تب سے یہاں پایا جاتا ہے اور سسپلو کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پاری کی زمین میں پوٹاش زیادہ ہے اور پہاڑی کے ساتھ واقع ہونے کے سبب یہاں دھوپ تیز پڑتی ہے جبکہ رات کا درجہ حرات کم ہوتا ہے، ان وجوہات کی بنا پر پاری کا سیب زیادہ عمدہ خیال کیا جاتا ہے، وگرنہ  بلتستان کے کم و بیش تمام علاقوں میں سسپلو سیب کے درخت موجود ہیں لیکن خاصیت کے اعتبار سے یہ اُس معیار کے نہیں۔

پاری کی زمین میں پوٹاش زیادہ ہے اور پہاڑی کے ساتھ واقع ہونے کے سبب یہاں دھوپ تیز پڑتی ہے جبکہ رات کا درجہ حرات کم ہوتا ہے، ان وجوہات کی بنا پر پاری کا سیب زیادہ عمدہ خیال کیا جاتا ہے

محکمے کے اعداد و شمارکے مطابق کھرمنگ ضلع میں سیب کی کُل پیداوار 1548 میٹرک ٹن ہے جن میں سے 550 میڑک ٹن سیب سسپلو کے ہوتے ہیں۔ محکمہ زراعت کھرمنگ کے پاس ضلع میں پھل دار درختوں کے پودے تیار کرنے کے لیے چار نرسریاں موجود ہیں جن میں سے ایک نرسری سسپلو سیب کی ہے۔ تاہم نجی سطح پردو نرسریاں سسپلو سیب کے پودے تیار کرنے لیے موجود ہیں جو آنے والے دنوں میں اس سیب کی ممکنہ بڑھنے والی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی نہیں۔ میلے میں علاقے کے عمایدین کی جانب سے اس نکتے کی جانب توجہ مبذول کرائی گئی کہ پاری کی پہاڑی پر ایک وسیع چراہ گا اور میدان موجودہے، اگر وہاں تک پانی پہنچانے کا انتظام کردیا جائے تو اس وسیع علاقے میں سسپلو کے درخت بڑے پیمانے پر لگائے جاسکتے ہیں۔

سسپلو میلے میں شرکت کا موقع غنیمت جانتے ہوئے ہم نے پاری میں موجود آثار قدیمہ دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ میلے کی کوریج کے لیے سکردو سے آنے واے میڈیا دوستوں کو لے کر ہم پاری گاؤں سے متصل پہاڑی کی طرف چل پڑے جہاں اسلام کی آمد سے قبل موجود بدھ مت آبادی کے آثار موجود ہیں۔اوپر تک پہنچنے کے لیے بہت ہی مشکل چڑھائی ہے،اس پر ایسے موڑ ہیں جن کو عبور کرنے کے لیے گاڑی کو دو سے تین بار ریورس گئیر لگانا پڑتا ہے۔ اُوپر پہنچ کر پاری کا سب بڑا قبرسان ہے۔ اس قبرستان کے آخری کونے پر پرانے زمانے میں یہاں بسنے والے بدھ مت کے پیروکاروں کی قبریں تھیں،جن میں سے چند ایک تو آج بھی محفوظ ہیں لیکن کئی قبریں ایسی دیکھیں جنہیں مقامی لوگوں نے نوادرات کی تلاش میں کھود ڈالاہے۔

قبرستان کے ساتھ ایک چٹان جڑی ہوئی ہے جس کے تین اطراف سے کھائی ہے، اِن اطراف سے یہ چٹان ناقابل تسخیر ہے۔ جبکہ مشرق کی جانب سے ڈھلان نما ہے جہاں سے چٹان پرچڑھا جا سکتا ہے۔ اس چٹان کے اوپر بدھ مت کے راجہ کا محل موجود تھا جو ”بودھی چوئے کھر“ سے موسوم ہے۔ یہاں اسلام کی آمد کو تقریباًسات سو سال کا عرصہ ہونے کو ہے۔ یوں یہ محل کم از کم بھی سات سو سال پرانا ہے۔ یہ دریا ئے سندھ کے کنارے اس انداز سے تعمیر کیاگیا ہے کہ یہاں رہنے والوں کی بالکل ناک کے نیچے سکردو اور لداخ کو ملانے والی مین سڑک موجود ہے، اس محل کی حفاظتی چوکیوں سے اس سڑک پرسے ہر گزرنے والے پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔

پاری محل کی بد قسمتی ہے کہ لوگوں نے جو حال اُس دور کے قبرسان کے ساتھ کر رکھا ہے وہی اس محل کا بھی کیا ہے۔ محل کے کمروں کے ساتھ دیواریں اور ان کی بنیادیں بھی نودرات کی تلاش میں کھود ڈالی ہیں

پاری محل کی بد قسمتی ہے کہ لوگوں نے جو حال اُس دور کے قبرسان کے ساتھ کر رکھا ہے وہی اس محل کا بھی کیا ہے۔ اس محل کے کمروں کے ساتھ دیواریں اور ان کی بنیادیں بھی نودرات کی تلاش میں کھود ڈالی ہیں۔چند سال پہلے تک دیواروں کے کچھ حصے موجود تھے لیکن اب پتھروں کا ڈھیر دیکھنے کو ملتا ہے۔ مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے اِدھر اُدھر بکھرے پڑے ہیں۔ سفید رنگت کے دوقدیم بڑے پتھروہاں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ شاید اس وجہ سے رہ گئے ہیں کہ جسامت میں اتنے بڑے ہیں کہ پہاڑی سے نیچے لائے نہیں جا سکتے، البتہ پتھر کی ایک سِل جو قدرے چھوٹے سائز کی تھی وہ پہاڑی کے درمیان میں راستے میں ٹوٹی پڑی ہوئی، لگتا ہے کہ پہاڑ سے نیچے لانے کی کوشش میں راستے میں ہی ٹوٹ گئی ہے اور کسی کام کی نہیں رہی۔

اس پہاڑی کے دامن میں قدیم بلتی رسم الخط میں ایک عبارت بھی درج ہے ”اومنے پدمے ہوم“  اور کچھ اشکال کندہ ہیں جو بدھ مت کے ہاں متبرک سمجھی جاتی ہیں۔یہاں محکمہ آثار قدیمہ نہ سہی، لیکن ایسے قدیم آثار کی دیکھ بھال اور اور ان کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے ضلعی حکام کو بھی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے زیادہ ذمہ داری مقامی آبادی کی ہے، اگریہاں کی آبادی ان آثارکو لاوارث سمجھ کر ضائع کرنے کی بجائے اِسے قومی ورثہ خیال کرکے تحفظ کرتی تو آج علاقے میں ملک اور باہر کی دنیا سے نہ صرف سیاح ان کو دیکھنے آتے بلکہ دنیا بھر میں موجود بدھ مت کے پیروکار ان مقامات کی زیارت کی نیت سے آتے جو علاقے کی معاشی قسمت کو بدلنے کا ذریعہ باعث بن سکتا تھا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...