اسلام آباد کے تاریخی معبد

ذوالفقار علی کلہورو

131

عام طور پہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام آباد کے گردوپیش میں ماضی کے ایسے کوئی آثار موجود نہیں ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے سفرکیا جاسکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ 59 کی عمر کے اس شہر میں متعدد تاریخی عمارتیں جو اس کے زرخیز عہدرفتہ کا پتہ دیتی ہیں۔ باغ جوگیاں گاؤں میں نوادارات و سنگوارے،اورروات کی حدودمیں ماقبل تاریخ کی انسانی استعمال کی کئی دیگر اشیا دریافت کی جاسکتی ہیں جن سے حجری دور کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔ بلکہ اسلام آباد شہر کے اندر بھی چند قدیم عمارتیں موجود ہیں، جن میں راول جھیل مندر، گولڑہ مندر اور سیدپور گاؤں کے مندر معروف ہیں۔

راول جھیل کے پاس ایک ہندو مندر خستہ حالت میں نظرآتا ہے۔پہلے اس جگہ کا نام راول گاؤں تھا۔ مندر مستطیل شکل میں ہے، اس کی جنوبی طرف سے دو برآمدے کھلتے ہیں۔ داخلی حصے میں پانچ قدم کے فاصلے پر اندر ہندومذہب کاخاص مقدس مقام(گریبھاگریا،جہاں مورتی رکھی جاتی ہے) ہے۔ راول گاؤں ایک تاریخی علاقہ ہے جو مختلف جگہوں پر ٹوٹے پھوٹے بے آرائش مگررنگ کیے ہوئے مقامات سے اپنے ماضی میں جھانکنے کا موقع دیتا ہے۔ مندر کے شمال میں واقع بڑے پتھر کے کٹاؤ سے بنائی گئی پناہ گاہ سے اشارہ ملتا ہے کہ ماقبل تاریخ میں انسان اس جگہ کو اپنے استعمال میں لاتے رہے ہیں۔

سینتالیس کی تقسیم سے قبل راول گاؤں کے اکثر حصے میں ہندو رہائش پذیر تھے۔ یہاں لگ بھگ ایک سو گھر موجود تھے جن میں سے چالیس مسلمانوں کی ملکیت تھے۔تب اشار سنگھ نامی شخص اس گاؤں کا نمبردار تھا۔ مسلمانوں میں سے راجا،سید بافندا،ٹھکیال راجپوت اور ملہار ذات کے لوگ یہاں رہتے تھے۔

راول جھیل مندر

راول گاؤں میں دو اور مندر بھی تھے جن میں سے ایک تو مذکور مندر کے بالکل مقابل میں دوکمروں پر مشتمل تھا، اس کی آٹھ ڈیوڑھیاں تھیں جہاں سے عمارت کے اندر داخل ہواجاسکتا تھا۔ دوسرامندر گروکال کے نام سے مشہور تھا، یہ راول ڈیم کے پانی میں ڈوب گیا تھا۔

یہ مندر اب راول ٹاؤن اور اسلام آباد کے دوسرے قریبی گاؤں کے آس پاس کے چند باسیوں کی یاداشت کا حصہ ہیں۔ تقسیم سے پہلے، موجودہ راول چوک کے قریب میں ایک ناتھ جوگی ہندوسنیاسی کی سمادھی بھی تھی۔ یہ ایک مختصر گنبد نما ڈھانچہ تھا جہاں ہندو پیشوا عبادت کیا کرتے تھے۔

اسلام آباد کے گردوپیش میں ناتھ جوگیوں کی اور بھی متعدد مقدس جگہیں ہیں جو مراقبے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ باغ جوگیاں میں اس طرح کی جگہیں جانی پہچانی اور عام ہیں۔ جوگیوں کے ساتھ مخصوص ایک اور مقام بھی ہے جو بری امام دربار سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ٹیکسلا اور دیگر علاقوں کی طرف سفر کرنے والے جوگی یہاں سے گزرتے ہوئے قیام کرتے تھے۔بری امام کے جنوب میں ایک ناتھ جوگی مندر تھا جو اب ختم کردیا گیا ہے۔

سیدپور کا ایک مندر، مرمت سے قبل

راول جھیل مندر اب انتہائی خستہ اور بری حالت میں ہے۔اس کی چاردیواری مکمل طور پہ گرچکی ہے۔ کیا متعلقہ سرکاری اتھارٹی تاریخی ورثے کومزید ٹھوٹ ٹھوٹ سے بچانے کے لیے کوئی اقدام کرے گی؟

گولڑہ مندر کی صورتحال بھی خوش آئندنہیں ہے۔گولڑہ میں دوتاریخی عمارتیں ہیں جن میں سے ایک ہندوؤں سے منسوب ہے اور دوسری سکھ مذہب سے۔ سکھوں سے خاص عمارت دھرم شالہ کو 2002 میں سیکٹر E-11 کی تعمیر کے دوران زمین بوس کردیا گیا تھا، جبکہ ہندو برادری کا مندر موجود تو ہے لیکن خستہ اور بے کار حالت میں۔یہ مندر پیر آف گولڑہ شریف کی حویلی کے بالکل پیچھے واقع ہے۔ یہ سکھ عہد کے پرانے بازار سے بھی متصل ہے جہاں آج بھی سکھوں اور ہندوؤں کی کچھ دکانیں نظر آتی ہیں۔

گولڑہ مندر اپنے برگ دار ستونوں کی وجہ سے خصوصی پہچان رکھتا ہے جو چاردیواری کے کونوں کو خوبصورت بناتے ہیں۔اس کا مرکزی دروازہ مشرقی جانب ہے جو مندر کے صحن میں کھلتا ہے۔ پہلے یہ صحن اوپر سے ڈھکا ہوا تھا لیکن اب اس کی چھت گرگئی ہے۔ صحن کی اندرونی دیوار میں اس کے مشرقی، شمالی اور مغربی اطراف میں ایک ایک کھڑکی بھی تھی جودھنسی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔

ای الیون کا دھرم شالہ جو ترقیاتی منصوبے کی نذر ہوگیا

مندر کے قریب سکھ دھرم شالہ جو ترقیاتی پراجیکٹ کی نذر ہوگیا تھا یہ گولڑہ شریف سے دوکلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ مقامی رہائیشیوں کے مطابق دھرم شالہ ایک ٹیلے پر واقع تھا اور اس نے بہت تھوڑی جگہ گھیری ہوئی تھی۔ جب میں  2002 میں یہاں آیا تھا تووہ اچھی حالت میں تھا۔اس کی جگہ چوکور تھی اور اوپر ایک گنبد تھا۔ اس کے دروازوں پر مور کی شکلوں کے نقش تراشے ہوئے تھے، انہیں کچھ لوگ اکھاڑ کرلے گئے۔ دھرم شالے کے باہر سامنے کے حصے کواور عمارت کے اندر سکھ مذہب کے ثقافتی نقش ونگارسے مزین کیا گیا تھا۔ گرونانک اور ان کے ساتھی بھائی بالا اور بھائی مردانا کی تصویریں شمالی اور مغربی دیواروں پر کندہ تھیں۔

راول اور گولڑہ کے علاوہ سیدپور ٹیمپل کمپلیکس بھی ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے لیے خاص زیارت کا مقام تھا،اسے سی ڈی اے نے ایک ساحتی علاقے کی حیثیت دے دی ہے۔ رامائنا کے چار مشہور کردار: رام کند،لکشمن کند،سیتاکند اور ہنومان کندکی یادگاریں یہاں ہیں۔تقسیم سے قبل راولپنڈی کی ہندوبرادری کے لیے راما مندر بہت مقبول مقام تھا۔یہاں ایک مندر میں لکشمی ماتا اور کالی کے تصاویر کندہ ہیں۔ اِسی مندر کے عقب میں ایک گردوارہ تھا جو اب میوزیم ہے، اس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کو سکھوں نے بیسویں صدی کے شروع میں تعمیر کیا تھا۔تمام عمارتوں کی اصل خوبصورتی باقی نہیں رہی، سیدپور کوسیاحتی مقام قراردینے کے بعد اس کی مرمت کرنے سے اصل ورثے کی شکل مسخ کردی گئی ہے۔

مترجم:شفیق منصور، بشکریہ:فرائیڈے ٹائمز

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...