پبلک ٹرانسپورٹ شعبہ میں اصلاحات حکومتوں کی ترجیحات میں شامل کیوں نہیں ہوتیں؟

143

آج کراچی سے چلنے والی تیزگام ایکسرپیس لیاقت پور کے نزدیک ایک حادثے کا شکار ہوئی جس میں ستر کے قریب افراد جاں بحق اور چالیس زخمی ہوگئے۔ وزیرریلوے کے مطابق یہ حادثہ گیس سلینڈر پھٹنے سے پیش آیا۔ وزیراعظم نے ٹویٹ میں دکھ کا اظہار کیا اور واقعے کی تحقیقات کا حکم جاری کیا ہے۔

پوری دنیا میں ٹرانسپورٹ کے دیگر ذرائع کے مقابلے میں ریل کے سفر کو محفوظ ترین سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان میں صورتحال ایسی نہیں ہے۔ یہاں آئے روز کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوجاتا ہے اور کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ 2013 سے اب تک ٹرین کے چھوٹے بڑے 562 حادثات میں 450 کے قریب شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ہر واقعے کے بعد روایتی بیانات کی آڑلیتے ہوئے ذمہ داری قبول کرنے سے احتراز کیا جاتا ہے اور تحقیقاتی کمیٹیاں بنادی جاتی ہیں جن کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوتے۔ پچھلے چھ سالوں کے دوران بنائی گئی 63 کمیٹیوں کے حاصلات کا عوام کوئی کوئی علم نہیں۔

ریلوے حادثات میں تسلسل سراسر شعبے کے انتظامی امور میں تساہل برتنے کا نتیجہ ہے۔ ٹرانسپورٹ سکیورٹی وسیفٹی کبھی حکومتوں کی ترجیحات میں شامل نہیں رہی۔ بالخصوص ریلوے کے شعبے میں بہت زیادہ انتظامی خلا ہیں جو سیاسی عزم اور توجہ کے مستحق ہیں۔

گزشتہ حکومت کے دورمیں بھی اور اب بھی قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کی طرف سے متعدد بار ریلوے میں موجود مسائل کے حوالے سے جہاں کئی اور چیزیں زیربحث لائی گئیں وہاں اس بات کی نشاندہی بھی ہوئی کہ اس ادارے میں سٹاف کی تسلی بخش تربیت نہیں ہوتی اور سپروائزر اپنی ذمہ داریاں درست طور نہیں نبھاتے۔ اگر صورتحال یہ ہے اور حکومت یہ جانتی ہے تو یومیہ لاکھوں مسافروں کی زندگیوں کے تحفظ کی ضمانت کون دے گا؟

آج کے حادثے کا حقیقی سبب تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گا، لیکن ناگزیر امر یہ ہے کہ شعبہ ریلوے کے ذمہ داران وعہدیداران روایتی طرزعمل اختیار کرنے کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اصلاحات کویقینی بنانے کے لیے درست سمت کا تعین کریں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...