عراق، لبنان مظاہرے: ایران کی مشرق وسطیٰ پر کمزور ہوتی گرفت

حنین غدار

120

دومہینوں کے مختصر عرصے کے دوران یکے بعد دیگرے کرپشن اور معاشی اصلاحات میں عدم توجہی کے باعث عراق اور لبنان میں سخت مظاہروں کا سلسلہ شروع ہواہے۔دونوں ممالک میں اہل تشیع کی آبادیوں والے شہروں کو ہلادینے دینے والے غیرروایتی احتجاج کی لہر سامنے آنے سے خطے میں اپنے رسوخ کو بڑھاوا دینے کا ایرانی طریقہ کار ناکام ثابت ہوا ہے۔عراق ولبنان کی شیعہ کمیونٹی سمجھتی ہے کہ تہران اپنی عسکری اور سیاسی فتوحات کو سماجی اور اقتصادی بہبود کے وژن میں تبدیل کرسکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ سادہ لفظوں میں ’مزاحمت کا بیانیہ دسترخوان پر روٹی مہیانہیں کرسکا‘۔

انقلابِ ایران کی کامیابی کی شروعات میں ہی حکومت اور پاسدان انقلاب نے مشرق وسطیٰ، بالخصوص شیعہ اکثریت والے ملکوں میں انقلاب کو ایکسپورٹ کرنے کے لیے طویل المدتی اور واضح منصوبہ بندی کرلی تھی۔ اس مقصد کی خاطر ایران نے کافی صبرکاحامل اور سخت جان ہونے کامظاہرہ کیا۔بڑے ہدف تک پہنچے کے لیے چھوٹی ہزیمتیں قبول کیں، وہ ہدف عراق، شام،لبنان اور یمن پر اپنی گرفت مضبوط کرنا تھا۔

آج لمبی لڑائی میں ایران بظاہر فاتح نظر آتا ہے۔لبنان میں اس کی پراکسی جماعت نے گزشتہ برس پارلیمنٹ میں برتری حاصل کرلی۔ شام میں اپنے حلیف بشارالاسد کو بچانے میں کامیاب ہوا۔ بغدادمیں پاپولر موبیلائزیشن فورسز (PMF)جیسی پراکسیز جو جو داعش سے لڑنے کے لیے تشکیل دی گئی تھیں،کے ذریعے زبردست نفوذ حاصل کرلیاہے۔

تاہم چار دہائیوں پر مشتمل منصوبہ بندی میں ایران نے اہم نکتہ نظرانداز کیے رکھا، حمایت کی اساس کومستحکم وبرقراررکھنے کے لیے کوئی سماجی معاشی خاکہ ترتیب نہیں دیا۔ اپنی تمام تر صلاحیتیں ریاستی اداروں میں تسلط جمانے کے لیے صرف کی گئیں جبکہ طاقت کے حصول اور فتح کے بعد اگلا مرحلہ معاشرتی بہبود کے وژن کاہوتا ہے۔ وقت جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے ایران حکومت کی اچھی مثال قائم کرنے میں ناکام ہورہا ہے۔ عراق اور لبنان کے حالات اس کے شاہدہیں۔

ایران نے دونوں ممالک میں اپنی پراکسیز بنائیں۔ انہیں اسلحہ اور مالی تعاون فراہم کیا،اور ریاست کے اداروں کے اندر رسائی میں ان کی مددکی۔ لیکن ان اداروں میں اب ان کا واحد کام بجائے شہریوں کے تحفظ اور ان کے لیے سہولت پیداکرنے کے ایرانی مفادات کا تحفظ اور ان کے لیے سہولت کار بننا رہ گیا ہے۔

ماہرین لبنان کے حالیہ مظاہروں کو چند اسباب کی وجہ سے منفردو غیرروایتی کہہ رہے ہیں۔ لبنانی پہلی بار یہ محسوس کررہے کہ دشمن باہر کا عنصر نہیں ہے، بلکہ اندر ہے،ان کی حکومت اور ان کے سیاسی ذمہ داران۔ سیاستدان احتجاج کی لہر کو کنٹرول بھی نہیں کرسکے، جو کسی خاص طبقے اور علاقے سے بالاتر ہے، طرابلس سے نبطیہ اور بیروت سے لے کر صیدا تک ایک ہی آواز ہے۔ اس پر کسی مسلک یا سیاسی نظریے کارنگ غالب نہیں۔ انہیں معاشی بحران نے ایک قطار میں کھڑا کیا ہے،جیساکہ مظاہرین میں سے ایک نے یہ نعرہ لگایا ’بھوک کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‘۔

اہم چیز یہ ہے کہ حزب اللہ نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ حیران کن ہے۔ جماعت اپنی تاسیس سے اب تک اس بات کے افتخار کا دم بھرتی رہی ہے کہ وہ ظلم وناانصافی کے خلاف کھڑی ہوتی ہے۔ لیکن اس دفعہ حسن نصراللہ نے سڑکوں پر موجود عام لوگوں کاساتھ دینے کی بجائے ان کے خلاف حکومت کی معاونت کی ہے۔ یہ بنیادی تبدیلی ہے۔

1980 میں حزب اللہ کی تاسیس کے وقت سے پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ لبنانی شیعہ اس کی مخالفت میں سڑکوں پر آئے ہیں۔جنوبی لبنان میں جماعت کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے ’نبطیہ‘ میں اہل تشیع نوجوانوں نے اس کے دفاتر کو نذرآتش بھی کیا

اہل تشیع کے دیگر لبنانیوں کے ساتھ باہر نکلنے نے جماعت کی قیادت کو چونکا دیا ہے۔ لبنانی شیعہ حزب اللہ کے لیے ملک کے اندر اور خطے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ انتخابات میں اسے اور اس کی حلیف جماعت ’امل‘ کو ووٹ دیتے ہیں اور لبنان کے علاوہ یمن وشام میں اس کے لیے لڑتے ہیں۔ بدلے میں ایران اور حزب اللہ کی جانب سے انہیں تنخواہیں اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

تاہم 1980 میں حزب اللہ کی تاسیس کے وقت سے پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ لبنانی شیعہ اس کی مخالفت میں سڑکوں پر آئے ہیں۔ جنوبی لبنان میں جماعت کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے ’نبطیہ‘ میں اہل تشیع نوجوانوں نے اس کے دفاتر کو نذرآتش بھی کیا۔

صورتحال کی اچانک کایاکلپ کے تین اسباب ہیں۔حزب اللہ کی شام میں مہنگی جنگ میں شراکت اور ایران پر امریکی پابندیوں کے وجہ سے جماعت عسکری خدمات فراہم کرنے والے نوجوانوں کی تنخواہوں اور سہولیات میں کٹوتی پر مجبور ہوئی۔ یہ جنگجو زیادہ تر غریب علاقوں سے ہوتے ہیں،اس لیے بحران کی وجہ سے وہ شدید متأثر ہوئے۔تاہم جماعت کے اندر بالاطبقہ امیر ترین ہوتا گیا جس سے بداعتمادی پیداہوئی۔

دوسری وجہ یہ تھی کہ پارلیمنٹ کے اندر اہل تشیع میں اتحاد قائم رکھنے کی خاطر حزب اللہ قیادت نے اپنے حلیف نبیہ بری کو سپیکر کا عہدہ تفویض کردیا تھا، حالانکہ یہ شخص کرپٹ مشہور ہے۔عام اہل تشیع نے ایک عرصے تک اس سے آنکھیں موندے رکھیں۔ لیکن جونہی حزب اللہ مالی بحران کا شکار ہوئی، ساتھ میں ملک کی معیشت ڈانواڈول ہوئی اور حالت یہ ہوگئی کہ شیعہ آبادی میں بڑی تعداد بِل ادا کرنے سے قاصر ہوگئی تو نبیہ بری کی کرپشن اور بے تحاشا ثروت سے آنکھیں موندے رکھنا ناممکن ہوگیا۔

تیسرے، حزب اللہ نے 2000میں لبنان سے اسرائیلی پسپائی اور پھر دوبارہ 2006میں اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد سے اپنی مکمل توجہ عسکری بیانیے پر مرکوز کردی تھی۔شام میں نئے دشمن ’سُنی انتہاپسندی‘ کو شکست دینے کا سہرا بھی اپنے سرلیا۔ یہ بڑ ی فتوحات ہوسکتی ہیں لیکن اس میں عوامی بہبود کی رُوح مفقود تھی۔ممکن ہے ایران نے اس سے فائدہ اُٹھایاہو، مگر لبنانی شیعوں میں تنہائی کا احساس بڑھتا گیا۔یہی وجہ ہے کہ اب اس کے مظاہروں میں اہل تشیع مذہبی کی جگہ اپنی لبنانی شناخت کی بحالی کامطالبہ کررہے ہیں۔

یہی کہانی عراق کی بھی ہے جہاں اِس ماہ بغداد اور دیگر شیعہ اکثریتی علاقوں سے لاکھوں لوگ ضروریات زندگی کی فراہمی، بے روزگاری اور کرپشن کے خاتمے کے مطالبات کے ساتھ سیاسی مقتدرہ کے خلاف احتجاج کے لیے باہر نکلے۔ حکومت نے فوری اور سخت جواب دینے کا فیصلہ کیا، نتیجے میں 100کے قریب افراد ہلاک ہوگئے۔ رانٹرز نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاز کے نشانہ بازوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ گھروں کی چھتوں سے مظاہرہ کرنے والوں کو سبق سکھائیں۔

ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاز کے سابقہ لیڈران اب عراقی پارلیمان کا حصہ ہیں جس سے ایک طرف ایرانی ایجنڈے کو آسان نفوذ ملتا ہے تودوسری طرف امریکی پابندیوں کا شکار ایران معیشت کو سہارا بھی۔

داعش کے خلاف ایرانی بیانیے نے اس کے حمایت یافتہ ارکان کے لیے رفتہ رفتہ لبنان کی طرح عراق میں کے ریاستی اداروں میں بھی در وا کیے۔اور لبنان میں حزب اللہ ماڈل کی طرح اگر عراق میں بھی اغماض برتا گیا تو ایرانی پراکسیز آہستہ آہستہ مگریقینی طور پہ عراقی آرمی سے زیادہ طاقتور بن جائیں گی۔ اس کے بعد امن یا جنگ کا فیصلہ صرف تہران سے ہوگا۔

یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ عراق میں مظاہرہ کرنے والے صرف شیعہ تھے۔ بعض سُنی اور کرد رہنماؤں نے مظاہرین کی زبانی حمایت کا اعلان کیا لیکن وہ ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ ان کو داعش سے منسوب کردیا جائے گا۔ایران اس کو جواز بنا کر عراق وشام میں پہلے بھی کئی شہری مظاہروں کا قلع قمع کرچکا ہے۔

تاہم دونوں ملکوں میں جتنے بھی احتجاج ہوں ایران آخری حد تک لڑائی کے بغیر اپنی قوت کے ڈھانچے کو تحلیل نہیں ہونے دے گا۔

ایران آگے کس ردعمل کی توقع ہوسکتی ہے؟ لبنان میں اہل وزارء کی تبدیلی کے ساتھ نئی حکومت کی تشکیل کا امکان کم ہے جیساکہ حسن نصراللہ نے واضح کہا کہ اس کی حکومت کو گرایانہیں جاسکتا۔

حزب اللہ عراقی پاپولر موبیلائزیشن کی طرح زیادہ تشدد کے استعمال کا تجربہ نہیں کرے گی۔جماعت ایک اور یونٹ(lebanese Resistance brigades)تیار کررہی ہے جس کا حزب اللہ کے ساتھ انتساب نہیں کیا جائے گا، یہ ملک کے اندر ایسے چیلنجز سے نمٹنے کی ذمہ داری انجام دے گی۔ مظاہروں کو کاؤنٹر کرنے کے لیے  پہلے حزب اللہ اور امل کے عناصر جماعتوں کے جھنڈے لے کر باہر نکلے تھے اور مظاہرین پر حملے کی کوشش کی لیکن آرمی نے انہیں زیادہ قریب نہیں آنے دیا،تاہم انہوں نے بیروت سے باہر شیعہ آبادی کے علاقوں میں بعض افراد کو جسمانی نقصان پہنچا کر خوفزہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

عراق میں مظاہروں کی ایک اور لہر سامنے آسکتی ہے جس میں ملیشیاز ایک بار پھر تشدد کا استعمال کرسکتی ہیں۔ حکومت میں کسی تبدیلی کے امکان کے بغیر مزید کچھ لوگ موت کے منہ میں جائیں گے، البتہ اس سے خطے اور دنیا میں ایران کی شبیہ اور زیادہ متأثر ہوگی۔

پورے خطے میں ایک جیسی صورتحال ہے۔ ایران جنگ میں فاتح تو بن سکتا ہے لیکن حکومت چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ خطے میں اگر اس کے تعاون کار اہل تشیع کے اندر بے زاری جنم لے رہی ہے تو یہ غور کا مقام ہے۔

حالیہ مظاہرے یہ ثابت کرتے ہیں کہ ایران عوامی سطح پر اتنی مربوط قوت نہیں جتناکہ دنیا میں خیال کی جاتی ہے۔ اور سب سے اہم، دنیا کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ تشیع صرف ایران کے ساتھ خاص نہیں ہے، شاید یہ وقت ہے کہ براہ راست سماجی شیعہ طبقات کے ساتھ بات چیت کی جائے۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ:فارن پالیسی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...