نطشے: شر اور خیر کے درمیان جھولتی شخصیت

ہیوگو ڈروکن

172

سٹیون پنکر سے ایک انٹرویو میں سوال کیا گیا آپ کے خیال میں وہ کونسا مصنف ہے جس کے وصف میں سب سے زیادہ مبالغہ آرائی کی گئی۔ ہارورڈیونیورسٹی میں نفسیات کے پروفیسر نے جواب میں کہا:’فریڈرک نطشے‘۔ انہوں نے مزید کہا، یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس فلسفی کے نفسیاتی مریضانہ افکار سے بیسویں اور اکیسویں صدی کی نفرت کی ترجمان جماعتیں اور تحریکیں کیوں متأئر ہوئیں،جن میں فاشسٹ نازی، بالشویک، لبرٹیرینزم، اور آج کی متبادل دایاں بازو(American alt-right) اور نیونازی تحرکیں شامل ہیں۔

پنکر کے مطابق برٹرینڈرسل نے 1945 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب’مغربی فلسفہ کی تاریخ‘ میں درست کہا تھا کہ نطشے کی شخصیت کے لیے موزوں زمانہ عصر حاضر نہیں تھا۔ اگروہ ایتھنز میں پیرکلیز، یا فلورنس میں میڈیچی کے عہد میں پیدا ہوتا تو اس کے لیے وہ درست وقت ہوتا۔ پوسٹ ماڈرن ازم کے حوالے سے نطشے کے طرز فکر پر تنقید کے لیے مشہور کینیڈین ماہرنفسیات جورڈن پیٹرسن جنہیں متبادل دایاں بازو گروہ میں بھی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، وہ نطشے کو روایت اور کلاسیکل لبرل ازم کا محافظ گردانتے ہیں۔ ان کے ساتھی اور ٹورنٹو یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر رونلڈ بینر نے اپنی کتاب Dangerous Minds میں نطشے کا تعلق متبادل دایاں بازو سے جوڑا ہے۔ بینر کے خیال میں نطشے کے تنویریت کو مسترد کرنے کے اثرات رچرڈ سپنسر سے سٹیو بینن تک تمام دائیں بازو کے فکری رہنماؤں پر واضح ہیں۔

کیا نطشے کو سمجھنے میں تساہل سے کام لیا گیا ہے؟ یہ جاننے کے لیے بطورمثال رسل کی کتاب ’مغربی فلسفہ کی تاریخ‘ کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ یہ کتاب دوسری جنگ عظیم کے دوران لکھی گئی، اس کا اسلوب چاشنی دار ادبی ہے۔ اگرچہ اسی کتاب کی وجہ سے انہیں نوبل انعام سے بھی نوازا گیا لیکن اس میں بعض فلاسفہ کے حوالے سے وارد ہونے والی آراء کی صحت پر ماہرین تحفظات کااظہار کرتے ہیں۔

رسل جنہیں ایک امن کے داعی کے طور جانا جاتا ہے اور جنہوں نے پہلے جنگ کو بالکلیہ غیرمجاز کہا، پھر ہٹلر کے فساد کے مقابل اسے ’چھوٹی برائی‘ سے تعبیرکیا، اس کتاب میں  ان کاسارا کام جنگ کی مخالفت پرمرکوز رہا۔ ان کے پیش نظر ہٹلر کی شخصی تحلیل اور یہ سمجھنے کی کوشش بھی تھی کہ ہٹلر کا ظہور آخر کیونکر ممکن ہوا۔ اس کا جواب انہیں ملا کہ ’نطشے‘۔یہ اصل میں نطشے کی جنگ ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں پہنچنے اور آلٹ رائٹ کے گلی بازاروں میں پھیل جانے کے بعد کچھ لوگ یہ سوال کررہے ہیں کیا فاشزم امریکا میں پہنچ گیا ہے۔ یہ بہت زیادہ عجیب نہیں اگر کچھ لوگ اس کاموازنہ 1930 کے مرحلے سے بھی کررہے ہیں۔ موسولینی نے کہا تھا کہ وہ نطشے سے متأثر ہیں اور ہٹلر نے خود کو نطشے کا وہ سپرمین کہا جو آرین نسل کی برتری وفتح کے لیے تگ ودو کررہا ہے۔

اس فلسفی کو اس وقت کچھ امان ملی جب 1950میں والٹرکافمین نے تفصیلاََ لکھا کہ نطشے کی کتاب Will to Powerمیں جعلبندی کی گئی ہے

بیسویں صدی کی ثقافتی دنیا پر نطشے کے اثرات اس حدتک نمایاں ہیں کہ اس میں مبالغہ آرائی سے کام لینے کی حاجت ہی نہیں۔ نطشے کے ادبی اسلوب کے اثرات البرٹ کامو، آندرے ژید، ڈی ایچ لارنس، جیک لندن، تھامس من، یوکیومشیما، یوجین اونیل، ولیم بٹلر، وندم لیوس اور جارج برناڈشا پر بالکل واضح ہیں۔ جبکہ اس کی فلسفی فکر نے مارٹن ہائیڈگر، ژاں پال سارتر، دریدا اور فوکو کو متأثر کیا۔ اسے وجودیت، کرٹیکل تھیوری، پوسٹ سٹرکچرل ازم، ڈی کنسٹرکشن اور پوسٹ ماڈرن ازم کا بانی بھی خیال کیا جاتا ہے۔ اس کی کتابیں ’ٹریجیڈی کا جنم‘، ’زردشت نے کہا‘ اور ’مسیح کا دشمن‘ جیسے متنوع حوالے رکھتی ہیں۔ بالخصوص اس کی کتاب جینیالوجی آف موریلیٹی پر اب بھی بہت بات ہوتی ہے جس میں درج تین مضامین سے یہ تصور پیش کیا گیا ہے کہ تمام انسانی تاریخ کا محور اخلاقیات کی دو انواع کے مظاہر ہیں: برتر و بالادست اخلاقیات(جوطاقت،خوبصورتی،حوصلے اور کامیابی کا منبع ہے)، اور ماتحت اخلاقیات جو غلاموں کی ہوتی ہیں (جونرمی،احساس اور ہمدردی کا منبع ہوتی ہے)۔ اس نے مسحیت کو دوسری قسم کا مظہر قراردیا۔

نطشے نے اپنی فکر  و نظریات کی اساس پر اپنے عہد کے سیاسی حالات کا تجزیہ بھی کیا۔ اوتوفون بسمارک(جدیدجرمنی کا بانی) کا مقصد جرمنی کی منتشر ریاستوں کو متحد کرکے اسے فرانس، برطانیا اور رُوس جیسی عظیم اقوام کی فہرست میں شامل کرنا تھا۔ نطشے نے نیشنل ازم اور زینوفوبیا اور یوپ کی تقسیم پر قائم سیاسی تصور کو مسترد کردیا، کیونکہ یہ سب غلاموں کی اخلاقیات کی ترجمانی کا عکس ہے۔ اس نے گریٹ پالیٹکس کے عنوان سے اپنا نظریہ پیش کیا جس کا مقصد یورپ کو بالادست عنصر کی قیادت میں متحد کرنا تھا۔ اس میں سب سے ا ہم چیز یورپین بالاتر اخلاقیات کی بنیاد رکھنے کی خواہش کا ظہار ہے۔

نطشے نازی جرمنی کے’تھرڈ ریخ‘ کا فلسفی کیسے بن گیا؟ الفرڈ بیملر جو نازی حکام کا ترجمان فلسفی تھا،اس نے نطشے کو’ہٹلر کا پیش گو‘ کے رُوپ میں ڈھال دیا تھا۔ بیملر کا تعاون نطشے کی بہن الیزابتھ نے کیا تھا جس نے جس نے اس کی آخری کتاب Will to Power کے نام سے شائع کی تھی۔ الیزابتھ اس سے دو برس چھوٹی تھی۔ دونوں میں اس وقت دوری پیدا ہوگئی جب بہن نے نطشے کولوآندریاز سالوم نامی لڑکی کے ساتھ محبت کے تعلق پریہ کہتے ہوئے اعتراض کیا تھا کہ یہ غیراخلاقی اور ناجائز ہے۔ مکمل قطع تعلقی تب ہوگئی جب الیزابتھ نے برنہارڈ فارسٹر کے ساتھ شادی کرلی، جو سامی نسل سے عداوت رکھتا تھا۔

فارسٹر نے بعد میں خودکشی کرلی۔ الیزابتھ قرضوں کے بوجھ تلے دب چکی تھی، وہ 1890 کی شروعات میں جرمنی واپس آئی۔ اس نے دیکھا کہ اس کا بھائی جودماغی توازن کھوچکا ہے، ایک سیلیبریٹی بن چکا ہے۔ اسے یہ عمدہ موقع نظرآیا۔

ڈنمارک سے تعلق رکھنے والا عظیم تنقیدنگار جارج برینڈزجو یہودی النسل تھا، کوپن ہیگن میں نطشے کی فکر و فلسفے پر باقاعدہ لیکچرز کا اہتمام کرچکا تھا۔ الیزابتھ اپنے بھائی کی میراث کی وارث بن گئی تھی۔ اس دوران اس نے ایک کتاب Will to Power کے نام سے یہ کہہ کر شائع کردی کہ نطشے کا آخری کام ہے جو چھپ نہیں سکا تھا، حالانکہ نطشے نے’مسیح کا دشمن‘کتاب شائع کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اس کی مکمل آخری کتاب ہے۔ نازیوں نے نطشے کو اپنا فلسفی کہا۔1934 میں ہٹلر نے اس آرکائیوکا دورہ کیا تھا جسے الیزابتھ نے ترتیب دیا تھا، اس نے اس موقع پر نطشے کاعصا ہٹلر کو تحفے میں دیدیا۔

کارل جیسپرز نے نطشے کے بارے میں سب سے پہلی مربوط کتاب لکھی تھی جس میں اس نے کہا کہ اس کا مقصد ان قوم پرست گروہوں پر رد کرنا ہے جنہوں نے اس فلسفی کی شناخت اپنی فکر سے جوڑ ڈالی ہے۔ اچھے اور برے نطشے کے بارے میں جھگڑا شروع سے چلا آرہا ہے۔ اس فلسفی کو اس وقت کچھ امان ملی جب 1950میں والٹرکافمین نے تفصیلاََ لکھا کہ نطشے کی کتاب Will to Powerمیں جعلبندی کی گئی ہے۔

اِس حلقے کی رُو سے نطشے کی شخصیت اچھی تھی، اس کا ربط شعروادب سے زیادہ جوڑا گیا اور اسے یوں دکھا گیا کہ وہ ذات کی تعمیر وتجمیل کا قائل ہے جس طرح کہ فلم Eternal Sunshine of the Spotless Mind میں عکس بندی ہوئی۔ لیکن 1980میں ایک بار پھر بُرا نطشے واپس آگیاجب امریکا میں ثقافتی جنگوں (culture wars) کی تحریک شروع ہوئی۔ فلاسفر ایلن بلوم نے نظریہ عدمیت یا لاوجودیت(نطشے کاnihilism) پر حملہ کیا اور کہا کہ یہ امریکی جامعات میں غلبہ پارہا ہے۔ بلوم، نطشے کی فکری دانش کا احترام کرتے ہیں لیکن ان کے خیال میں یہ’شناخت کی سیاست‘ کو ہوا دینے کی ذمہ دار ہے۔ یہ بھی کیا اتفاق ہے کہ culture wars کی اصطلاح بسمارک کی  اصطلاح cultural struggle سے مستعار لی گئی ہے، جوبسمارک نے کیتھولک فکر کے خلاف استعمال کی تھی جو اس کے خیال میں ’پروٹسٹنٹ ریخ‘ کے حق میں وفادار ثابت نہیں ہوگی۔

اصل میں نطشے شر کی علامت ہو یا خیر کی، ہم اسے اس کی ذات سے دیکھنے کی بجائے اپنے حالات سے جانچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب چیزیں ٹھیک ہوں تو نطشے انفرادی خودتخلیقیت (individual self-creation)کا نمونہ نظرآتا ہے،اور اگر معاشرے میں اتھل پتھل اور ناہمواری محسوس ہوتو یہ فاشزم کا گاڈفادر محسوس ہونے لگتا ہے۔

نوٹ: یہ ترجمہ مکمل نہیں ہے۔

مترجم:شفیق منصور، بشکریہ: نیوسٹیٹس مین

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...