بلوچستان کا قبائلی نظام

184

قبائلی نظام بلوچستان کی رُوح کا اب اس طرح سے حصہ نہیں رہا جیسے پہلے تھا کیونکہ اب یہ وہ فوائد نہیں دے پارہا جو اس خصوصیت تھی۔ لیکن اسے مصنوعی طریقے سے آکسیجن فراہم کرکے زندہ رکھا گیا ہے

قبائلی نظام دنیاکے متعددعلاقوں میں مختلف حیثیتوں کے ساتھ وجود رکھتا ہے۔ بلوچستان بھی ان میں سے ایک ہے، جہاں اس وقت 17 بڑے قبائل اور 400 کے قریب چھوٹے قبائل اور ان کی شاخیں پائی جاتی ہیں۔ ایک قبائلی معاشرہ ہونے کی وجہ سے یہاں کا سرداری سسٹم بہت مضبوط ہے اور سیاسی وسماجی سطح پر بہت زیادہ اثر انداز بھی، تاہم اس کے اثرات اب تعمیری نہیں ہیں۔

بلوچستان میں یہ نظام ویسے تو صدیوں سے چلا آرہا ہے لیکن جدیددور میں اس نظام کو مضبوط کرنے میں انگریزوں کا کردار بھی نمایاں رہاکیونکہ اس سے ان کے مفادات وابستہ تھے،وہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے کسی کو نواب، میر یا ٹکری کا درجہ دیدیتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد صوبے سے سرداری سسٹم کو ختم کرکے جدیدجمہوری عمل میں لانے کی کوشش نہیں کی گئی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت پاکستان نے کئی مواقع پر فیصلہ کیا کہ اس کو ختم کردیا جائے لیکن اصل مسئلہ متبادل کا ہے کہ جب تک ایک بہتر متبادل سامنے نہیں آتا اس وقت تک اسے جڑ سے اُکھاڑنا ممکن نہیں، اور ایسا متبادل معاشرے کے اندر سے جنم لے تو وہ قابل قبول سمجھا جائے گا، جس کی بنیاد میں سب سے اہم عنصر تعلیم کا ہے۔ اگر صوبے میں تعلیمی رجحان کو فروغ دیا جائے اور شعور کی آبیاری ہو توسیاست ومعاشرت کا قدیم ڈھانچہ وقت کے ساتھ تحلیل ہوجائے گا۔بھٹودور میں ریاست کی طرف سے سرداروں کو پیش کی جانے والی مراعات کا خاتمہ کردیاگیا تھاجس کا سلسلہ انگریز عہد سے چلا آرہا تھا۔ اس کے بعد لیویزفورس جو صوبے کے پچانوے فیصد علاقے کاکنٹرول سنبھالتی تھی اور صرف پانچ فیصد علاقوں میں پولیس کام کرتی تھی،اب کئی اضلاع میں اس کو بھی رفتہ رفتہ ختم کردیاگیا۔یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ قبائلی یا سرداری نظام کو جوں جوں تحلیل کیا جارہے اس کے ساتھ کچھ مسائل بھی جنم لے رہیں،جیسے جرائم میں اضافہ اور بدامنی وغیرہ۔ اس کا سبب وہی ہے کہ ایک بہتر متبادل نظام کا خاکہ ترتیب نہیں دیا گیا۔

قبائلی نظام اگرچہ صدیوں تک مقبول رہا ہے اور لوگ اب بھی اس کا احترام کرتے ہیں لیکن بلوچستان کے اندر کچھ عرصہ سے ایسے عناصر بھی موجود رہے ہیں جو اس پر تنقیدکرتے آئے ہیں اور آزاد معاشرت کے فروغ کی دعوت دیتے ہیں۔بلکہ بعض سردار بھی اس نظام میں اصلاحات کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ اس کی مثال میریوسف عزیز مگسی ہیں جو اپنے وقت میں نواب کا درجہ رکھتے تھے، وہ عام آدمی کی بہبود کے لیے آگے آئے۔محمدحسین عنقا،میرعبدالعزیز اور میر غوث بخش بزنجو بھی ان کے شریک سفر رہے۔جب بلوچستان میں ترقی پسند سیاست عروج پر تھی تو طلبہ تنظیموں کے اندر سے بھی کھلے عام سرداریت مخالف نعرے سامنے آئے اور کافی حدتک مقبولیت بھی حاصل کی۔پچھلی دو دہائیوں سے تو حالات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔بلوچستان کے نوجوان کا سیاسی شعور آزاد فکر کا نقیب اور جبر کا مخالف بن کر سامنے آیا ہے۔بدامنی نے نئی نسل میں سوچنے کی روایت ڈالی ہے۔ اب انسانی حقوق جیسی اصطلاحات عام استعمال ہوتی ہیں، ان کی بناپر جدیدسیاست ومعاشرت کی داغ بیل ڈالی جارہی ہے جس سے ہر طرح کے جبرکو بشمول سرداری ونوابی اثرورسوخ کے، مستردکرنے کا شعور پیدا ہوا ہے کیونکہ یہ ان کے معاشی ومعاشرتی مسائل کو حل نہیں کرپارہااور انہ ان کے جان ومال کی حفاظت کرسکتا ہے۔

سردار اور نواب جو پہلے خود کو برتر خیال کرتے تھے اور ایسی اتھارٹی تھے جس کے فیصلے سے روگردانی ممکن نہیں۔اب یہ ذہنیت بھی بڑی حد تک تبدیل ہوئی ہے۔اب کئی سردار سیاسی جماعتوں کے اندر بطور کارکن بھی کام کرتے نظر آتے ہیں۔ہم نے سیاسی رہنما محراب مری سے اس حوالے سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ قبالی نظام مختلف ادوارمیں تبدیلیوں سے گزرتا رہا ہے۔ اِس وقت بلوچستان میں جو نظام رائج ہے یہ ترمیم شدہ ہے۔حتیٰ کہ معاشرتی سطح پر بہت ساری رسوم ورواج میں بھی تغیر آچکا ہے۔سرداری سسٹم میں موروثیت بلوچ قوم میں ہمیشہ سے نہیں رہی،اسے انگریزوں نے رواج دیا تھا، ورنہ پہلے تو فرد قوم میں زیادہ نڈر، ذہین اور اصول پرست ہوتا اس کے سرپر قیادت کا تاج رکھا جاتا تھا۔ انگریزوں کے بعد شاید یہ رواج واپس آجاتالیکن ریاست کے بعض حلقے موروثیت کی حمایت کرتے اور اب بھی کرتے ہیں جس کی وجوہات روایتی ہیں جو جمہوری عمل کو کمزور رکھتی اور عام آدمی کو فیصلہ سازی سے دور رکھتی ہیں۔

دیکھا جائے تو قبائلی نظام بلوچستان کی رُوح کا اب اس طرح سے حصہ نہیں رہا جیسے پہلے تھا۔ کیونکہ اب یہ وہ فوائد نہیں دے پارہا جو اس خصوصیت تھی۔ لیکن اسے مصنوعی طریقے سے آکسیجن فراہم کرکے زندہ رکھا گیا ہے۔اس میں ناپسندیدہ امر یہ ہے کہ اس کا استعمال مثبت سے زیادہ منفی ہے جس کے نقصانات برآمد ہورہے ہیں۔ بلوچ سماج اپنے اندر سے بحران کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور امن پسند بھی ہے۔اگر اسے فیصلہ سازی میں آزاد چھوڑ دیا جائے تو یہ ضرور روایتی موجودہ قبائلی نظم پر نظرثانی کرلے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...