معاشی استحکام کیسے ممکن ہے؟

جاوید بخاری

181

اقتصادی بحران کے سنگین مرحلے میں صورتحال کا تناظر عام حالات سے کچھ الگ ہوتا ہے۔ بالخصوص جب اس مرحلے میں ایک فیز سے دوسرے فیز کی جانب انتقال ہو رہا ہو تو جلد یا بدیر بہرحال پولیٹیکل اکانومی ہی وہ عنصر ہے جو ابتدائی سطح پر اصلاحاتی عمل کی ہیئت اور اس کا سانچہ تشکیل دیتی ہے۔

داخلی تجارت کی حوصلہ افزا فعالیت کے تقاضے اور اس حوالے سے شہریوں اور سیاسی حلقوں کے دباؤ پر ردعمل دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر دہرایا کہ ان کی اولین ترجیح اقتصادی سسٹم کو پائیدار بنیادوں پر کھڑا کرنا ہے، ایک ایسا سسٹم جو ملازمتوں کے زبزردست مواقع پیدا کرے ، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مہمیز دے اور لوکل انڈسٹری میں جان ڈال دے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ بڑھتی ہوتی مہنگائی میں اشیا کے نرخوں کو کم سطح پر لایا جاسکے۔

اس مقصد کے لیے وزیراعظم نے معاشی ٹیم کو ریگولر بنیادوں پر میٹنگز کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ وزراء اور ذمہ داران کے مابین باہمی ربط و ہم آہنگی کا سلسلہ شروع ہو اور تجویز کردہ پالیسی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پیش قدمی کی رفتار تیز ہوسکے۔ وزارت خزانہ کو اس کا بھرپور ادراک ہونا چاہیے کہ دیگر معاشی وزراء ومشیران کیا کہہ اور کر رہے ہیں۔  فی الوقت دوطرفہ خسارے(کرنٹ خسارہ اور بجٹ خسارہ) کے چیلنج پر قابو پانا کچھ مشکل ہے، اس پر مستزاد یہ ہے کہ اختلاف رائے رکھنے والوں کا دباؤ شدید ہوتا جا رہا ہے جو اس امر کا متقاضی ہے کہ صورتحال کو زیادہ وسیع تناظر میں دیکھا پرکھا جائے۔ وزیراعظم ہفتہ وار بنیاد پہ خود بھی اس تمام پیش رفت کا جائزہ لے رہیں تاکہ مسائل کے جلد حل کو یقینی بنیا جاسکے۔

اضافی گرانٹس جاری کرنے کا اختیار وزارت خزانہ سے وفاقی حکومت کی طرف منتقل کردیا گیا ہے اور رواں مالی سال کے پہلے تین مہینوں میں کوئی گرانٹ منظور نہیں کی گئی تھی۔

مقامی صنعت کی تباہ حالی کی قیمت پر زیادہ ٹیکس وصولی کے فیصلے پر نظرثانی ممکن ہے۔ حکومت نے چینی صنعتی یونٹس کو گوادر منتقل کرنے اور بندرگاہ پہ بھاری مشینری کی تنصیب کی خاطر ’چائنا اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی‘ کو 23 سال کے لیے ٹیکس کی چھوٹ دی ہے۔ نئے سال کی شروعات میں ایکسچینج ریٹ کے استحکام کے حوالے سے آفیشل بات چیت ہوسکتی ہے۔ اگر معاشی صورتحال میں بہتری آتی ہے تو ٹیکس ریوینیو میں بھی خودبخود اضافہ ہوجائے گا۔

بحران سے نمٹنے کے لیے پالیسی میکرز ابھی تک روایتی و رسمی تراکیب کو استعمال میں لارہے ہیں، جبکہ اکنامکس کا جدید عالمی لٹریچر اس بدحالی کا سدباب کرنے کے لیے مختلف حکمت عملی پیش کرتا ہے

بلاشبہ اس وقت ہنگامی طور پہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سرمایہ کاری کو تازہ دم کیا جائے اور ڈوبتی مقامی صنعت کو کنارے لگایا جائے۔ صنعتکاری کے پرائیویٹ سیکٹر کا بینکوں سے مسلسل قرض لینا تشویشناک اشارہ ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں پرائیویٹ سیکٹر نے محض 49.39 ارب روپے بینکوں کو واپس کیے ہیں، جبکہ پچھلے سال اِسی عرصے میں اس نے 113 ارب روپے کا قرض لیا تھا۔ اس کا مطلب ہے اس کی پیداواری شرح روزافزوں سکڑتی جارہی ہے۔ حقیقت میں حکومت پاکستان شیڈول بینکس سے ادھار لینے والی قرضدار ریاستوں کا حصہ بن گئی ہے۔ مشیرتجارت عبدالرزاق داود کا کہنا ہے کہ ملک میں صنعتی پیداوار کے پہیے کی رفتار آہستہ ہوگئی ہے کیونکہ صنعتی خام مال کی امپورٹ کم ہے۔

پائیدار ومستحکم اساسات پر قائم اقتصادی سسٹم کی تشکیل کے ہدف میں وزیراعظم کے لیے آئی ایم ایف چیف کے خطاب میں ایسا کافی کچھ ہے جس سے سیکھا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ ’عدم مساوات کی صورتیں سماجی تنوع اور اکنامک گروتھ دونوں کے لیے خطرہ ہیں‘۔

آئی ایم ایف ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے اپنی پہلی تقریر میں کہا ’دنیا کے کئی ممالک میں پالیسی میکرز نے ان لوگوں کو نظرانداز کیے رکھا جنہیں گلوبلائزیشن نے زک پہنچائی، گلوبلائزیشن پڑھے لکھے، شہری اور نوجوان افراد کے لیے سودمند ہے‘۔

لیکن پاکستان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے پروفیشلنز میں بے روزگاری کے پھیلاؤ کی شرح کافی تیز ہے، اور معقول وموزوں ملازمتیں تو بہت کم ہیں۔ عبدالحفیظ پاشا کہتے ہیں کہ ’مزدور طویل دورانیہ کام کرتے ہیں لیکن تنخواہ نہیں مل رہی‘۔

’پاکستان لیبر سروے‘2017-18  کے مطابق مجموعی طور پہ کم اجرتوں پر کام کرنے والے 53 فیصد مزدور تنخواہ سے محروم رہے۔ اب تو صورتحال مزید بگڑ گئی ہے ہے، کھیتوں پہ کام کرنے والے 89 فیصد، مزدوری کرنے والے 56 فیصد، جبکہ صنعتکاری کا حصہ بننے والے 54 فیصد افراد تنخواہ نہیں پارہے۔ اس کے علاوہ پبلک ایڈمنسٹریشن اور ڈیفیینس سروسز میں کام کرنے والوں میں سے 9 فیصد کو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ان شعبوں کی کم سے کم اجرت سے بھی کم تنخواہ مل سکی۔

جنوبی ایشیاکی اقتصادی صورتحال پر مرکوز ورلڈ بینک کی رپورٹ making decentralisation work میں کہا گیا ہے کہ غربت میں کمی جو 2001 سے بغیر رکاوٹ کے مسلسل چلی آرہی تھی اب یہ امکان ہے کہ یہ کمی ’میکرو اکنامک ایڈجسٹمنٹ‘ مرحلے میں رک جائے گی۔

بے روزگاری اور غربت میں اضافے کے پیش نظر مس جارجیوا کے اس موضوع پر خیالات کو آئی ایم ایف پروگرام کی اس پالیسی کا حصہ بنانا چاہیے جس پر اسلام آباد عمل پیرا ہے۔اس سے پاکستان جیسے قرضداروں کو یہ فائدہ ہوگا کہ انہیں پروگرام کی کامیابی
کا جائزہ لیتے رہنے کا موقع مل جائے گا اور وہ مستحکم حکمت عملی کے مقابل بہتر اقتصادی نمو یقینی بناسکتے ہیں۔

وقفے وقفے سے غیرحکومتی ماہرین معاشیات اس پر زور دیتے رہتے ہیں کہ پالیسی میکرز ابھی سے مقامی صنعت کی أٹھان پر زیادہ توجہ دیں بجائے اس کہ وہ تاخیر سے اس جانب آئیں۔ یہ ماہرین حکومت سے آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط کے فریم ورک باہر نکلنے کا مشورہ نہیں دیتے بلکہ اکنامک گروتھ میں تیزی لانے کے لیے اصلاحات تجویز کرتے ہیں۔ پلاننگ کمیشن کے سابق نائب چیئرمین ڈاکٹرنعیم الحق کہتے ہیں کہ جب ملک کی اکثریت آبادی روزگار تلاش کرنے اور روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہو تو اس وقت پیداواری صلاحیت میں اضافے کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت اہم ترجیح بن جاتی ہے۔

صنعتی پیداوار کے ضمن میں لاحق بڑے مسائل یہ ہیں،ٹیکس وصولی کا حریصانہ ہدف، بلوں میں اضافہ،دوگنی مہنگائی اور روپے کی گرتی قدر۔آئی ایم ایف  اکانومسٹ جیان ماریا کا خیال ہے کہ پروگرام کے حوالے سے اسلام آباد کی کارکردگی توقعات سے بہتر جارہی ہے اور ملک اب استحکام کی طرف گامزن ہے۔

لیکن ایک مسئلہ اپنی جگہ باقی ہے کہ بحران سے نمٹنے کے لیے پالیسی میکرز ابھی تک روایتی ورسمی تراکیب کو استعمال میں لارہے ہیں، جبکہ اکنامکس کا جدید عالمی لٹریچر اس بدحالی کا سدباب کرنے کے لیے مختلف حکمت عملی پیش کرتا ہے۔ اس کے مطابق عدم مساوات کی شرح کو کم سے کم کرنے والی معیشتیں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتی ہیں۔

پوی دنیا میں عدم مساوات کے بڑھتے رجحان اور چین امریکا کشمکش کے تناظر میں آئی ایم ایف ڈائرکٹر جارجیوا کا کہنا تھا’ دو ہزار اُنیس میں دنیا کے نوے فیصد ممالک میں پیداواری شرح میں کمی متوقع ہے۔عالمی معیشت ڈھلوان کی جانب رُو بہ سفر ہے۔ اس بحران سے کوئی محفوظ نہیں ہے اور سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں کردار ادا کرے‘۔

وزیراعظم عمران خان نے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے یہ حل پیش کیا ہے کہ لوکل سطح پر چھوٹے صنعتی یونٹس کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ یہ درست تجویز ہے۔ لیکن معاملات کو ان کی اساسات میں درست سمت گامزن کرنے کے ضروری ہے کہ غیرجانبدارانہ جمہوری فضا کو فروغ دیا جائے جوسماجی تبدیلی کا حقیقی ذریعہ ہے۔ کمزورحلقوں کو حقوق دینے اور پسماندہ  افراد کو خودمختار بنانے کے عمل سے عدم مساوات کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔

افرادی صلاحیت جو ڈیجیٹل عہد میں بنیادی پیداواری اثاثہ شمار ہوتی ہے،اس میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ یہ افرادی صلاحیت اپنے وسائل خود پیدا کرسکتی ہے اور معاشی نمو میں تیزی لاسکتی ہے۔

مترجم:شفیق منصور، بشکریہ:روزنامہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...