اسلام کی بیخ کنی یا جمہوریت پہ ضرب؟

مقتدر خان

168

دُنیا کے متعدد جمہوری ممالک کے طرزعمل سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انہوں نے اپنی ماضی کی تاریخ اور حال سے اسلام اور اس سے متعلقہ ثقافتی ورثے کی بیخ کنی کا تہیہ کر لیا ہے۔ شاید وہ اس ارادے و سعی میں کامیاب تو نہ ہوسکیں گے تاہم ان لاحاصل اقدامات کی وجہ سے جارج آرویل والے منفی نیشنل ازم کی ہیجانی واستحصالی شکل کی ترویج کرکے جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

اسرائیل میں ہونے والے حالیہ انتخابات کا نتیجہ کسی ایک پارٹی یا اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملنے کے سبب ڈیڈلاک کی صورت میں ظاہر ہوا۔ وزیراعظم نتنیاھو نے پہلے تو نتائج قبول کرنے سے انکار کردیا تھا کیونکہ ان کے خیال میں یہ صہیونی حکومت کی شکست کا مناسب وقت نہیں ہے۔ بعد میں انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ حکومت بنانے والا کوئی بھی اتحاد اٹھارہ فیصد اسرائیلی مسلمانوں اور دو فیصد مسیحی آبادی کی نمائندگی کرنے والی ’’یونائٹڈ عرب لسٹ‘‘ کو اپنے ساتھ شامل نہ کرے۔ عرب لسٹ پارلیمنٹ میں تیسری بڑی جماعت کے طور پہ سامنے آئی ہے۔ نتائج کو مسترد کرنے کا اقدام ہو یا اسرائیلی مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے رہنماؤں کو حکومتی ڈھانچے سے دور رکھنے کی تجویز، حقیقت میں ہر دو سے جمہوریت پر زد پڑتی ہے اور اس سے عربوں کی حیثیت دوسرے درجہ کے شہری کی سی ظاہر ہوتی ہے۔ اسلام اور مسیحی مذہب کے ماننے والوں کو حکومت سے علیحدہ رکھنے کا مطلب بطور شہری اسرائیلی جمہوریت میں اس مساوی کردار ادا کرنے کے حق سلب کرنا ہے جس سے یہودی اسرائیلی لطف اندوز ہوتے ہیں۔

الیکشن میں ظاہر ہونے والی غیریقینی کی صورتحال نے اسرائیل کو مجبور کردیا ہے کہ وہ جمہوریت یا صہیونیت میں سے ایک کا انتخاب کرے۔ جارج آرویل نے باوجود اپنے مخفی سامیت دشمنی کے نظریے کے، صہیونیت کو مثبت نیشنل ازم کی فہرست میں شمار کیا ہے۔ اس کے مطابق اپنی سرزمین یا لوگوں کے مفاد میں زبردست جذبات کا حامل ہونا مثبت نیشنل ازم ہے، جبکہ اس کے ساتھ کسی اور گروہ کے خلاف نفرت آمیز احساسات رکھنا نیشنل ازم کی منفی جہت ہے۔ نتنیاھو اور دیگر دائیں بازو کے عناصر کا اسرائیلی عربوں کے خلاف رویہ صہیونیت کو قوم پرستی کی مثبت جہت سے منفی خانے کی دھیکل رہا ہے اور صہیونیت کے تحفظ کے لیے عربوں کی شہریت کو مشکوک بنانے کا عمل اسرائیل کو جمہوریت کے دائرے سے خارج کردیتا ہے۔

ممکن ہے بعض لوگ یہ سمجھ رہے ہوں کہ نتنیاھو کی شکست سے اسرائیل کی جمہوری رُوح کو فتح حاصل ہوگی۔ یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ نتنیاھو کے عرب دشمن بیانیے کی گونج اسرائیل کی زیادہ تر آبادی کی سوچ میں نمایاں طور پہ محسوس کی جاسکتی ہے۔ لیکود(نتنیاھو کی پارٹی) اور اس کی متبادل جماعت کاھول وِلاوان کی آئیڈیالوجی کے مابین کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔

ایسے ہی بھارت جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے دعوے پر فخر کرتا ہے، وہاں بھی ہندو نیشنل ازم بعینہ اسی راستے پر گامزن ہے اور اسلام و مسلمانوں کے وجود کو مٹانے کے درپے ہے۔ نریندر مودی اور قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی مسلم اقلیت کے خلاف کھلے عام معاندانہ طرزعمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

مسلمان دنیا کی کُل آبادی کا 25 فیصد ہیں۔ یہ ہر براعظم اور ہر ملک میں مذہبی حوالے سے ترتیب میں پہلے یا دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ ان کے بنیادی حقوق کا استحصال نہ جمہوریت کے مفاد میں ہے نہ ملکی وبین الاقوامی امن کے لیے اچھا شگون

بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبران کے حمایت یافتہ تخریب کار عناصر مسلمان شہریوں کو سرعام تشدد کا نشانہ بناتے اور مارپیٹ کرتے ہیں۔ پولیس آفیسرز مسلم عورتوں کو جنسی زیادتی کا نسانہ بناتے ہیں اور سیاستدان بلوائیوں کو مسلمانوں کے قتل عام پر اُکساتے ہیں۔ حکومت باقاعدہ طویل المدتی منصوبوں کے تحت مسلمانوں اور آسام کے شمالی صوبے کے افراد کا استحصال کرنے اور انہیں حقوق سے محروم کرنے کے مشن پر کام کر رہی ہے۔ بھارت میں حراستی کیمپس تعمیر کیے جارہے ہیں جہاں ان لوگوں کو غیرمعینہ مدت تک رکھا جائے گا جن کی شہریت کالعدم قرار دے دی گئی ہے۔ ملک کے مخصوص نظریہ ساز عناصر ’نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز‘ دستاویز تیار کرنے پر اصرار کررہے ہیں جس کے بعد اقلیتوں کو یا تو دیس نکالا دیا جائے گا یا کم ازکم انہیں ووٹ کے حق سے محروم کردیا جائے گا۔

حالیہ دنوں میں مسلم عنصر کی بیخ کنی کا سب سے بھدا مظاہرہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ساتھ کیا گیا، جو ملک میں مسلمانوں کی واحد نمائندہ حکومت تھی۔ بھارت عشروں تک مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کثیرالفریق مداخلت کو اس بنیاد پر مسترد کرتا رہا کہ یہ دوطرفہ تنازع ہے، لیکن پھر اچانک یک طرفہ اقدام کے ذریعے اس کے الگ ریاستی درجے کو ختم کرتے ہوئے وفاق کے ماتحت کردیا جاتا ہے۔ اب دو ماہ سے زائد کا عرصہ ہوچکا ہے اور کشمیری عوام بندوق کے زور پر محصور ہیں۔ پانچ لاکھ سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے ساتھ علاقہ فوجی قبضے کی صورت پیش کر رہا ہے۔

بھارت میں مسلم تشخص والے مقامات کے ناموں کی تبدیلی تواتر سے ہو رہی ہے۔ شہروں اور کھیلوں میدانوں کے ناموں کی تبدیلی سے لے کر مسلمانوں کی شہریت پر سوالیہ نشان لگانے تک کے تصرفات سے، بی جے پی کا منفی نیشنل ازم ملک سے اسلامی تہذویب وثقافت کے وجود اور تاریخی ورثے کو ہمیشہ کے لیے مٹا دینا چاہتا ہے۔ لیکن اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ہندو قوم پرستی نے جمہوریت کو کئی طرح سے زک پہنچائی ہے۔ ملک کا آئین، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکومتی مشینری، سب مسلم عنصر کے خاتمے کے لیے یکسو ہیں۔

اِسی حالت کی عکاسی میانمار بھی کرتا ہے۔ 2012 سے 2015 تک عالمی سطح پر آزادیوں کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے یہ ملک بہترین جمہوریتوں کی فہرست میں شامل رہا، لیکن 2017 میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی مہم شروع ہوگئی اور 6 لاکھ 70 ہزار افراد پناہ گزین بن گئے۔ اب میانمار ایک مطلق العنان ریاست خیال کی جاتی ہے۔

قدیم ترین جمہوریت اور آزاد دنیا کی نمائندہ ریاست ہاے متحدہ امریکا بھی رفتہ رفتہ ان ممالک کی لسٹ میں جگہ بناتی نظر آتی ہے۔ ملک میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کی مہم اور ان کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرت پر مبنی جرائم بتدریج انسانی حقوق کے حفاظتی حصار کو ختم کرنے پر آمادہ ہیں، یوں جمہوریت کا عالمی محافظ اپنی سرزمین پر اپنی ہی اقدار کا تحفظ کرنے سے قاصر ہے۔ امریکا اب جمہوری اقدار کا پاس رکھنے والے ممالک کی فہرست میں پچیسویں نمبر پر ہے۔

چین مسلمانوں کو صنعتی پیمانے پر اپنے قومی تشخص سے الگ کرنے کے منصوبے پر کاربند ہے۔ چین نہ جمہوری ملک ہے، نہ وہ ایسا بننے کی خواہش رکھتا ہے لیکن دنیا کی جمہوریتیں بھی اسے  ظلم کرنے سے روکنے کی خاص تگ ودو نہیں کر رہیں، نہ ہی اسے جوابدہ بنایا گیا۔

کسی بھی جمہوریت کی حیثیت کو جانچنے کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ ملک اپنی اقلیتوں کا احترام کس حد تک یقینی بناتا ہے۔ اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی نیشنل ازم کی مختلف منفی شکلوں کی ترویج کے ذریعے ان سیاسی اداروں کو کمزور کیا جارہا ہے جو تنوع، قانون کے اطلاق اور گڈ گورننس کا تحفظ کرتے ہیں۔ پاپولزم کا ظہور اور بین الاقوامی سطح پر اقلیتوں کے زیادتی کی روش جمہوریت پر تازیانے برسانے کے مترادف ہے۔

مسلمان دنیا کی کُل آبادی کا 25 فیصد ہیں۔ یہ ہر براعظم اور ہر ملک میں مذہبی حوالے سے ترتیب میں پہلے یا دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ ان کے بنیادی حقوق کا استحصال نہ جمہوریت کے مفاد میں ہے نہ ملکی وبین الاقوامی امن کے لیے اچھا شگون۔ تمام اقوام پر لازم ہے کہ وہ منفی آئیڈیالوجیز و منفی نیشنل ازم کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اسرائیل میں نتنیاھو کی شکست اس پراسس کی جانب پہلا قدم ہوسکتا ہے۔ امید ہے کہ باقی دنیا بھی اس کی پیروی کرے۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: سینٹر فار گلوبل پالیسی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...