جامعہ بلوچستان بے انت راتوں کے سائے میں

268

جامعہ بلوچستان جو ون یونٹ کے بعد 1971ء میں وجود میں آئی، اپنی نوعیت کا واحد تعلیمی ادارہ ہے جس نے تقریباََ پچاس سال تک ملک کے وسیع وعریض صوبے میں واحد و یکتا یونیورسٹٰی کے طور پر علم، دانش اور تحقیق کی شمع کو فروزاں رکھا۔ تاہم گزشتہ ایک ہفتے سے اس تاریخی و قدیم جامعہ کی ساکھ اور تعلیمی حیثیت داو پر لگی ہوئی ہے۔ منظم انداز میں طالبات کے ہراساں کیے جانے کےانکشافات سے ایسی حیرت و بے چینی پھیلی ہے کہ طلبہ، سول سوسائٹی، سیاسی جماعتوں، اور معاشرے کے مختلف حلقوں میں اس کے اثرات یکساں طور پر محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ طالبات کے والدین جس اضطرابی کیفیت سے گزر رہے ہیں، اس کا انہوں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا۔

بدقسمتی سے انسانی وسائل کے مؤثر استعمال اور ان کی ترقی کے حوالے سے بلوچستان ملک کے دیگر علاقوں کی نسبت پیچھے رہا ہے، خصوصاََ یہاں خواتین کی اعلیٰ تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ محض 3 سے 5 فیصد لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرپاتی ہیں جن میں سے 70فیصد پرائیویٹ امتحانات دیتی ہیں، گویا لے دے کے یونیورسٹی تک پہنچنے والی لڑکیوں کی شرح ڈیڑھ دو فیصد بنتی ہے۔ لڑکی کی اعلیٰ تعلیم کا معاملہ محض معاشی یا مالی نہیں ہوتا، اسے ایک ثقافتی اور سماجی مسئلہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ دیہی بلوچستان سے کسی لڑکی کا صوبائی درالحکومت (کوئٹہ) میں پڑھنے کی غرض سے آنا آسان نہیں۔ جہاں خاندانی وقار کی کسوٹٰی مخصوص نسوانی رویے اور ان کا کردار ہو، وہاں لڑکی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے گھر سے سینکڑوں، ہزاروں میل دور بھیجنا یقیناََ کانٹوں پر چلنے کی طرح ہے۔

قبائلی سماج باہمی جوابدہی کےغیر تحریری آئین کے مطابق چلتا ہے، لسانی پیمان کی روایت پورے سماج کو ایک زبانی کلامی دستور کی لڑی میں اس طرح پروتی ہے جو جدید دنیا کے علمائے بشریات کے لیے بھی حیران کن ہے۔ یہ ایک خودکار عمل ہوتاہے، بقول پشتو کے عظیم فلسفی شاعر غنی خان کے، ’’اس نظام کی پاسداری پر شیطان مامور ہوتا ہے‘‘، جوابدہی اپنے عملی ردعمل میں سماجی فشار کی صورت میں ظہور کرتی ہے، ایک پدرسری قبائلی سماج میں کھرے کھوٹے کی کسوٹٰی بس عورت کی پاکی اور پاکدامنی قرار پاتی ہے۔ قبائلی سماج میں لہو گرم رکھنے کا سب سے بڑا بہانا باہمی جوابدہی کے خودکار عمل کو شعور اور آدرش کا خراج پیش کرنا ہے۔ پدرشاہی جہاں جنگوں اور پرتشدد ماحول میں جنم لیتی اورقوت پاتی  ہے، وہیں جدید ریاست کے ادارہ جاتی فریم ورک کی نااہلی اور کم مائیگی بھی غیر رسمی اور قبائلی ضابطوں کی بقا وتحفظ پر مہر ثبت کردیتی ہے۔

ایف آئی اے کی حالیہ تفتیش آتش فشاں کا شرارہ ثابت ہوتی ہے یا محض چائے کی پیالی میں طغیانی، دونوں صورتوں میں یہ ایک ایسی  خبر ہے جو یہاں پر زیرتعلیم طالبات، درس وتدریس سے وابستہ اور انتظامیہ میں کام کرنے والی خواتین اور ان کے خاندانوں پر  قہرِ آسمانی بن کر ٹوٹی ہے۔

غورطلب پہلو ان خواتین کے مستقبل کا بھی ہے جنہوں نے ابھی اس مادرعلمی میں قدم رکھنا تھا، کیا اپنی بچیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجنے کا سوچتے وقت والدین کو سب سے پہلے عدمِ تحفظ کا احساس نہیں گھیر لے گا؟

اب اس کے بعد کس سلطان کے تاج سے کتنے پر نکالے جائیں گے، کس کے حصے میں کتنی رسوائی آئے گی، سوشل میڈیا پر کس نوعیت کے ٹرینڈ چلیں گے، کتنی کالی بھیڑیں پکڑی جائیں گی، کس کے ہاتھ صاف ہوں گے اور کون ادارہ جاتی و پیشہ ورانہ جیلسی کی بھینٹ چڑھے گا؟ یہ اور اس طرح کی کئی کہانیاں اپنی جگہ چلتی رہیں گی اور قانونی چارہ جوئیوں اور تفتیش کی غلام گردشوں میں گردش کرتی رہیں گی۔ اس ضمن میں البتہ غور طلب پہلو اُن طالبات کے مستقبل کا ہے جنہوں نے ابھی اس مادر علمی میں قدم رکھنا ہے۔

اس مبینہ سکینڈل سے لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم سے متعلق وہ خدشات سچ ثابت ہوجاتے ہیں جو سال ہا سال سے دیہی علاقوں کی ذہنیت میں پختہ ہیں اور جو عورت کو سونپے گئے سماجی کردار کو ان کی قدرتی مجبوری کے ساتھ خلط ملط کرتے رہے ہیں۔

تین سے پانچ فیصد کے درمیان سمٹٰی ہوئی یہ اقلیت جو صوبے کی منتشر آبادی سے یکجا ہوکر، جامعہ میں حصول علم کے لیے آتی ہے، کے پیچھے ان کے والدین اور سرپرستوں کی بہادری ہے جو معاشرتی دباؤ کو برداشت کرکے اور معاشی تنگدستی کا مقابلہ کرکے کر اپنی بچیوں کو یہاں پڑھانے کے لیے بھیجتے ہیں، یہ معدودے چند لوگ یقیناََ اپنی اور اپنی بچیوں کی حالت و حیثیت بدلنے پر یقین رکھتے ہیں اور روشنی کی تلاش میں نکلنے والی اپنے بچیوں کے روشن مستقبل کا خیال آنکھوں میں سجائے خوف اور اجنبیت سے لڑتے رہتے ہیں۔ فیض احمد فیض نے روشنی کے متلاشی معصوم طالبات کے لیے ہی شاہد لکھا تھا:

پڑھنے والوں کے نام!

جو اصحاب طبل وعلم ۔۔۔۔

کے دروں پر کتاب اور قلم ۔۔۔۔

کا تقاضا لیے ، ہاتھ پھیلائے ۔۔۔۔

پہنچے مگر لوٹ کر گھر نہ آئے ۔۔۔۔

وہ معصوم جو بھولپن میں ۔۔۔۔

وہاں اپنے ننھے چراغوں میں لو کی لگن ۔۔

لے کر پہنچے ۔۔۔۔

جہاں بٹ رہے تھے گھٹا ٹوپ ، بے انت راتوں کے سائے

(فیض)

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...