وزیراعظم کو ہٹانے کے سات طریقے

1,049

مولانا فضل الرحمان بالکل انہی خطوط پر چل رہے ہیں جن پر عمران خان چل رہے تھے۔ ان کی گفتگو کا رائٹر تو معلوم نہیں کون ہے تاہم اسکرپٹ وہی ہے جو عمران خان  صاحب کا پچھلے پنج سالہ پارلیمانی دور میں تھا۔ اقتدار کے کھیل میں کھلاڑیوں کے لیے ایمپائر کا اشارہ ہی فیصلہ کن کردار ادا کر تا ہے۔ ایمپائر آنکھوں سے اشارے کرتا ہے یا ہاتھوں سے، یہ کھلاڑیوں کو خوب پتہ ہوتا ہے۔

مولانا فضل الرحمان وہ شخصیت ہیں جو اس حکومت کے خلاف پہلے دن سے ہی  با آواز بلند احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے باقی اپوزیشن کی طرح ہلکی آنچ پر احتجاج کی دیگچی نہیں رکھی بلکہ احتجاج کا ڈھول گلے میں ڈال کر حکومت کے خلاف دما دم مست قلندر اور می رقصم می رقصم کی صدا بلند کر رہے ہیں۔

انہوں نے انتخابات کے اگلے روز ہی اسلام ٓاباد میں میاں اسلام کی رہائش گاہ پر ہارنے والے یا ہرائے گئے کھلاڑیوں سے کہا تھا کہ وہ ان “جعلی” اسمبلیوں کا حلف نہ اٹھائیں اور پارلیمان کا بائیکاٹ کریں لیکن اپوزیشن نے ان کی چیخ پکار نہ سنی۔ جیتنے والے تمام اراکین اسمبلی نے حلف اٹھا لیا۔ ستم تو یہ ہے کہ اس “جعلی” پارلیمان میں ان کی اپنی جماعت کے 16 اراکین نے بھی ان کے موقف کے خلاف لیکن ان کی مرضی سے نہ صرف حلف اٹھایا بلکہ ان کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود کو قومی اسمبلی میں مذہبی امور کی قائمہ کمیٹی کا چئیر مین بھی لگا دیا گیا۔

مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ ان کے مارچ کا واحد ایجنڈا ہے کہ جعلی حکمران اقتدار چھوڑ دیں اور انتخابات دوبارہ کروائے جائیں۔ حاجی صاحب کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان صاحب اگر موجودہ اسمبلی کو جعلی سمجھتے ہیں تو دراصل وہ اپنے بیٹے سمیت سولہ اراکین اسمبلی جن میں علماٗ اور مفتیان بھی شامل ہیں، ان کو بھی جعلی کہہ رہے ہوتے ہیں۔ مولانا کو چاہیے کہ وہ فوری طور اسمبلی سے اپنے اراکین کو مستعفی ہونے کا حکم دیں تاکہ اُن کی موجودہ حکومت کے خلاف سنجیدگی کا عوام کو یقین ہو۔

وہ کہتے ہیں کہ عمران خان اقتدار چھوڑ کر چلے جائیں۔ اس مطالبے کا مطلب کیا یہ ہے کہ ان کے احتجاج کے ” تیجے” میں حکومت کا تختہ الٹ جائے گا اور مولانا کو وزیر اعظم بنا دیا جائے گا۔ ایسا ہی اعتماد اور یقین انتخابات سے پہلے بھی مولانا صاحب کو حاصل تھا لیکن اس اعتماد کی پوری دیگ الٹا دی گئی۔ مولانا کی وزارت عظمی کے منصب سے عمران خان کی علاحدگی کی  خواہش صرف سات صورتوں میں پوری ہو سکتی ہے۔ ان میں سے چار صورتیں قانونی ہیں، دو اخلاقی ہیں اور ایک خدا کی مرضی پر منحصر ہے۔

پہلی یہ کہ عمران خان صاحب خود اس منصب سے مستعفی ہو جائیں۔ ایسا تو کسی صورت ممکن دکھائی نہیں دیتا۔

دوسرا یہ کہ  تحریک انصاف عمران خان کے بجائے کسی اور کو یہ عہدہ دینے کے لیے تیار ہو جائے۔ اسد عمر اور شاہ محمود قریشی جیسے لوگ تیاریاں تو کر رہے ہیں لیکن ایسا ہونا بھی اتنا آسان نہیں۔

ستم تو یہ ہے کہ اس “جعلی” پارلیمان میں ان کی اپنی جماعت کے 16 اراکین نے بھی ان کے موقف کے خلاف لیکن ان کی مرضی سے نہ صرف حلف اٹھایا بلکہ ان کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود کو قومی اسمبلی میں مذہبی امور کی قائمہ کمیٹی کا چئیر مین بھی لگا دیا گیا

تیسرا یہ کہ ایک چوتھائی یعنی 171  ارکان قومی اسمبلی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے کر آئیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ کم از کم بیس فیصد اراکین اسمبلی کے دستخطوں سے تحریک عدم اعتماد پیش کی جائے گی۔ قوانین کے مطابق  تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے تین سے سات دنوں کے اندر ووٹنگ ہوگی۔ اگر تحریک عدم اعتماد میں اپوزیشن اپنی اکثریت ثابت کر دیتی ہے تو تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے گی اور عمران خان وزیر اعظم نہیں رہیں گے۔ لیکن یہاں ایک بات یہ یاد رکھنی چاہیے کہ تحریک عدم اعتماد تو ایوان بالا میں اکثریت رکھنے والی اپوزیشن چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف بھی لائی تھی جس میں اپوزیشن کے پورے 14 ارکان نے صادق سنجرانی کو ووٹ دیا تھا۔ انسانی عقل کو عاجز کر دینے والے واقعات ختم نہیں ہو سکتے۔ ذرا یاد کیجئے کہ مسلم لیگ ن، جے یو آئی اور پیپلز پارٹی نے اپنی جماعتوں میں تحقیقات کا اعلان کیا تھا، وہ تحقیقاتی کمیٹیاں کہاں ہیں آج کل؟

چوتھا  یہ کہ پوری اپوزیشن جو تقریباََ ایک سو چھپن افراد پر مشتمل ہے، وہ مولانا صاحب کی خواہش پر اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائے۔ جب پوری اپوزیشن وزیر اعظم پر یوں عدم اعتماد کا اظہار کر دے تو اخلاقی طور پر وزیر اعظم کو یہ منصب چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ اخلاقی عمل تو ہو سکتا ہے لیکن کوئی قانونی راستہ نہیں۔

استعفوں کی صورت میں تین باتیں ہو سکتی ہیں۔

ایک یہ کہ اسپیکر ان کے استعفے منظور نہ کرے جیسے ن لیگ کے  دور میں  تحریک انصاف نے اسمبلیوں سے  استعفے دے دیے تھے تاہم ن لیگ کے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے وہ استعفے منظور نہیں کیے۔ مولانا فضل الرحمان نے اس وقت  بہت اصرار بھی کیا تھا کہ استعفے منظور کر کے ان حلقوں میں دوبارہ انتخابات کروائے جائیں۔ استعفے منظور نہ ہونے کی صورت میں انتخابات نہیں ہو سکتے۔

دوسرا یہ کہ اسپیکر قومی اسمبلی ان اپوزیشن ارکان کے استعفے منظور کر کے الیکشن کمیشن کو ان حلقوں میں دوبارہ انتخابات کا شیڈول جاری کرے۔ ان حلقوں میں دوبارہ انتخابات کروائے جائیں، لیکن اس صورت میں کیا گارنٹی ہے کہ اپوزیشن دوبارہ انتخابات جیت سکے گی۔ اگر جیت جاتی ہے تو پارلیمان میں کیا تبدیلی آئے گی، وہی نمبر دوبارہ پارلیمان میں آکر بیٹھ جائے۔ ہلچل تو بہت ہوگی لیکن وزیر اعظم تو عمران خان ہی ہوں گے۔

تیسرا یہ کہ بعض حلقوں میں ممکن ہے کہ جے یو آئی ف اور تحریک انصاف کا اتحاد بھی ہو جائے جیسے ابھی لاڑکانہ میں جے یو آئی ف اور تحریک انصاف متحد ہو کر پیپلز پارٹی کا مقابلہ کر رہی ہیں یوں تحریک انصاف اور جے یو آئی ف کی نشستیں بڑھ بھی سکتی ہیں۔

وزیراعظم کو ہٹانے کی پانچویں صورت یہ ہے کہ مولانا اپنی ڈنڈا بردار فورس کے ساتھ مل کر اسلام آباد کو پانی پت کے میدان میں تبدیل کر دیں اور جنگ کے ذریعے فیصلہ ہو۔ دوسرا مرحلہ یہ ہو سکتا ہے کہ مولانا اور عمران خان ایک دوسرے کو مباہلے کا چیلنج دیں جس میں حق والا باطل والے پر فتح پا جائے۔ تیسرا یہ ہو سکتا ہے کہ مولانا اپنے کارکنان کو لے کر ریڈزون پر قبضہ کرلیں جہاں پارلیمان، ایوان صدر، ایوان وزیراعظم، پی ٹی وی، سپریم کورٹ واقع ہیں۔ یوں انقلاب کے ذریعے اس حکومت کا خاتمہ کر دیں۔

چھٹی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ کھیلوں گی اور نا کھیلنے دوں گی کے اصول کے تحت اسلام آباد میں وہ حالات پیدا کر دیے جائیں کہ فوج کو “مجبورا” حالات کو بہتر بنانے کے لیے اقتدار پر قبضہ کرنا پڑے۔ صدارتی نظام وغیرہ کی باتوں کو بھی چھٹی صورت میں ہی پڑھ لیں۔

ساتویں صورت یہ ہو سکتی ہے کہ خدا کی طرف سے  کوئی  فیصلہ آ جائے۔

مولانا سے اگر ملاقات ہوئی تو ان سے ضرور پوچھوں گا کہ وہ آج کل  مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں کون سی خوشبو سونگھ رہے ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...