مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ: کیا ہونے جا رہا ہے؟

600

آزادی مارچ کے لئے جس اعتماد کے ساتھ مولانا فضل الرحمن آرہے ہیں اور بظاہر میڈیا میں مخالفت کے باوجود مولانا کو میڈیا کے جن بڑے بڑے ناموں کی حمایت حاصل ہے اس سے یہ سارا معاملہ پیچیدہ بن جاتا ہے۔ ماضی میں مولانا کے بہت بڑے بڑے جلسوں کو بالکل بھی کوریج نہ دی گئی اور اس انداز میں نظرانداز کیا گیا کہ مولانا بالکل ہی عضو معطل بن کر رہ گئے تھے۔ مگر اس بار مولانا کی مخالفت میں وزراء و سوشل میڈیائی فورسز ایکٹو ہیں مگر اس سب کے باوجود مولانا کے مارچ کی بھرپور تشہیر چل رہی ہے۔

آخر یہ سب کیا ہے؟

ہماری رائے میں اسٹیبلشمنٹ نے بالآخر وزیر اعظم عمران خان کو بوجھ سمجھ کر ڈراپ کرنے کے آپشن پر کام شروع کردیا ہے۔ عمران خان کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی میں ضد اور خود پسندی نمایاں ہیں۔ بطور وزیر اعظم وہ ڈومیسٹک محاذ پر مکمل ناکام رہے ہیں۔ معیشت کی تباہ حالی زبان زد عام ہے۔ بیوروکریسی و سیاسی قوتوں کو دیوار سے لگا کر عمران خان نے پورے حکومتی نظام کو تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ ٹیکس اصطلاحات کے نام پر کاروبار و سرمایہ کاری کا جنازہ نکل گیا ہے۔ مہنگائی و بیروزگاری کا عفریت منہ کھولے دھاڑ رہا ہے۔ دوسری طرف بیرون ملک بھی وزیر اعظم آئے روز شرمندگی کا سامان پیدا کردیتے ہیں۔ سعودی عرب کے دوروں میں جو کچھ ہوتا رہا وہ سب کے سامنے ہے۔ روس و امریکہ کے دوروں کے دوران سفارتی پروڑوکول کو مضحکہ خیز انداز میں رگیدا گیا۔ ایران کے دورے میں جو گفتگو کی گئی اور دہشت گردی کے الزامات کو جس طرح قبول کیا گیا اس سے ملکی سلامتی کے ادارے ششدر رہ گئے۔ وزیر اعظم کے کریڈٹ پر واحد نمایاں کارنامہ اقوام متحدہ کے فورم پر ان کی تقریر تھی جس نے انہیں وقتی طور پر آکسیجن فراہم کردی۔

وزیر اعظم عمران خان کی ان تمام تر ناکامیوں کا خمیازہ اسٹیبلشمنٹ کو بھگتنا پڑ رہا ہے کہ بچے بچے کو معلوم ہے کہ حکومت کس کی تائید و تعاون سے قائم ہوئی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ اس ناروا بوجھ کو اب تک کچھ مفادات کے تابع ہوکر اٹھاتی رہی ہے مگر اب ان مفادات کی تکمیل پر اور حالات کی بڑھتی ہوئی خرابی و سنگینی پر اسٹیبلشمنٹ نے اس بوجھ کو اپنے سر سے اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مولانا کے مارچ کو کسی نہ کسی سطح پر مقتدر قوتوں کی حمایت حاصل ہے۔ اگر یہ منصوبہ کسی وجہ سے کامیاب نہیں ہوتا تو اسٹیبلشمنٹ وقتی طور پر پیچھے ہٹ جائے گی کہ بظاہر اس وقت بھی وہ وزیراعظم کے ساتھ ہی کھڑے ہیں

وزیر اعظم کو پچھلے کئی ماہ کے دوران متعدد بار مشورے دیئے گئے اور سمجھانے کی کوشش کی گئی مگر وہ اپنی مخصوص فضا اور تعلی میں اتنا اونچا اڑ رہے کہ انہیں قابو کرنا ناممکن ہے۔ وہ کرپشن کے نام پر بنائے گئے بیانیے کے حصار میں پھنس کر رہ گئے ہیں اور اپنے مخالفین کو اس حصار کے دائرے میں قید کر کے ختم کرنے کے خواہشمند ہیں۔ انہیں لاکھ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ سیاسی نعرے بازی الگ چیز ہے اور زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں۔ کرپشن کے بیانیے کی غیر ضروری طوالت نے معاشی عدم استحکام کو جنم دیا ہے جس سے پورا ملک بے یقینی کا شکار ہو کر جمود کی کیفیت میں چلا گیا ہے۔ مگر وزیر اعظم کسی طور پر ٹلنے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ سمجھانے والوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور اپنی مشہور زمانہ من مانی پسندی سے ہی حکومتی معاملات چلانے پر مصر ہیں۔ پنجاب میں عثمان بزدار کی تبدیلی کا مسئلہ ہی دیکھ لیں کہ اس پر ملکی اداروں کا اتفاق رائے ہے کہ نااہلی کی اوج ثریا پر فائز وزیر اعلیٰ کو فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے مگر وزیراعظم ہیں کہ اپنی ہی لے میں پکے راگ کو الاپ رہے ہیں۔

نااہلی، بد انتظامی، ضد اور معاشی تباہ حالی کے اس بوجھ کو اسٹیبلشمنٹ نے مزید کندھا نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کام کے لئے کئی متبادل ماڈل زیر غور رہے ہیں جن میں ایک مولانا کا آزادی مارچ ہے۔ مولانا کے مارچ کو کسی نہ کسی سطح پر مقتدر قوتوں کی حمایت حاصل ہے۔ گو کہ اس وقت یہ حمایت کھل کر سامنے نہیں آئی مگر اپنی پراکسیز کے ذریعے اس حمایت کا اظہار کردیا گیا ہے۔ اگر یہ منصوبہ کسی وجہ سے کامیاب نہیں ہوتا تو اسٹیبلشمنٹ وقتی طور پر پیچھے ہٹ جائے گی کہ بظاہر اس وقت بھی وہ وزیراعظم کے ساتھ ہی کھڑے ہیں۔ مولانا کے مارچ کی تیاری کے دنوں میں ایک دوست ملک کی اہم شخصیات کا گذشتہ ہفتے دورہ پاکستان بہت اہمیت کا حامل تھا۔ اس دورے کو بظاہر زیادہ کوریج نہیں دی گئی اور اگر لکھا بھی گیا تو یہ کہا گیا کہ مولانا کو آزادی مارچ سے روکنے کے لئے دوست ملک کی مدد لی گئی ہے۔ واقفان حال اس کے برعکس یہ کہتے ہیں کہ دوست ملک کے خصوصی طیارے سے آنے والی شخصیات نے مختلف لوگوں سے ملاقات میں پرانے تعلقات کی بھرپور انداز میں “تجدید” کی اور اس سلسلے میں اپنے محبت و اخلاص کا یقین دلایا۔ مگر اس دوران آزادی مارچ سے روکنے کا کوئی عندیہ نہیں دیا گیا۔

تجزیے کو بروئے کار لایا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ دوست ملک نے اسٹیبلشمنٹ کے فیصلے کو سراہا ہے اور وزیراعظم عمران خان کے بارے میں دونوں ایک ہی صفحے پر آچکے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے پلان برائے تبدیلی وزیراعظم کو کامیاب بنانے کے لئے جو کمک دوست ملک فراہم کرسکتا تھا اسے گذشتہ ہفتے بظاہر آزادی مارچ کو روکنے کی خبروں کی آڑ میں فراہم کردیا گیا۔

اس وقت صورتحال یہ ہے وزیراعظم عمران خان کی تبدیلی کی حد تک ایک پھرپور کوشش ہونے جا رہی ہے جس کا دارومدار مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کی کامیابی سے مشروط ہے۔ اگر مولانا بھرپور شو کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو وزیراعظم سے راستہ چھوڑنے کو کہا جائے گا۔ اس کے بعد سہرا کس کے سر بندھے گا اس بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ شاہ محمود قریشی سے شہباز شریف تک کئی امیدوار لیلی اقتدار کے حجلہ عروسی میں داخلے کے خواہشمند ہیں۔ دیکھئے قرعہ کس کے نام پر نکلتا ہے!

سیاسی قوتیں اور خاص کر میاں نواز شریف و زرداری اس سارے کھیل کو سمجھ رہے ہیں اور گومگو کا شکار ہیں کہ انہیں وزیر اعظم کو ہٹانے کی اس کوشش میں اسٹیبلشمنٹ کو اپنا کندھا پیش کرنا چاہئیے یا نہیں۔ سیاسی ضرورت کی حرکیات تو اس بات کو تقاضہ کرتی ہیں کہ یہ کام کر گزرنا چاہیئے۔ دوسری طرف وہ یہ بھی سوچ رہے ہیں کہ عمران خان کو اپنی ناکامیوں کے بوجھ تلے دب کر ختم ہونے دینا چاہئے کہ اس سے پہلے کی گئی کسی دخل اندازی سے مظلومیت کا نہ ختم ہونے والا تاثر جڑ پکڑے گا اور ایک حقیقی سیاسی قوت کے حامل عمران خان کی نشاة ثانیہ کا عمل شروع ہونے کا احتمال بھی موجود ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...