مولانا فضل الرحمان کی اصل کامیابی

886

ہ مولانا فضل الرحمان کی بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے عسکریت پسندی اور فرقہ واریت اور دہشت گردی کے بڑے بڑے بحرانوں کے دوران اپنی جماعت کو ان فتنوں سے بچائے رکھا

جمیعت علمائے اسلام (ف)خیبرپختون خواہ کے ضلع نوشہرہ کے علاقے اضاخیل میں قمری کیلنڈر کے مطابق جمعیت کا صد سالہ جشن منا رہی ہے ۔ اس کانفرنس میں انہوں نے پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان سمیت مکتب دیوبند کی تمام جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی ہے ۔ کانفرنس میں وزیر اعظم ، امام کعبہ ، سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور ، جمیعت علمائے ہند کے سربراہ بھی شریک ہو رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر اپنے سیاسی حریف عمران خان اور مولانا سمیع الحق کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہیں دی ۔ یہ سوال اہم ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے عمران خان اور مولانا سمیع الحق کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت کیوں نہیں دی ؟

دعوت نہ دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید مولانا فضل الرحمان کو مولانا سمیع الحق کی عمران خان سے قربتیں پسند نہیں آئیں ۔ مولانا فضل الرحمان نے درس نظامی مولانا سمیع الحق کے مدرسے جامعہ حقانیہ اکوڑی خٹک سے ہی کیا تھا ۔ درس نظامی دینی مدارس میں پڑھائے جانے والے آٹھ سالہ نصاب کو کہا جاتا ہے جسے آج سے ٹھیک تین سو برس پہلے فرنگی محل لکھنو کے استاد ملا نظام الدین محمد سہالوی نے ترتیب دیا تھا۔ مولانا سمیع الحق مولانا فضل الرحمان کے براہ راست استاد تو نہیں لیکن اس وقت وہ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں استاد تھے جب مولانا فضل الرحمان وہاں زیر تعلیم تھے ۔

مولانا سمیع الحق کو صد سالہ اجتماع میں دعوت نہ دینے کے عمل کو مکتب دیوبند کی کچھ اہم شخصیات نے نجی مجالس میں “نامناسب ” عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو اس اہم موقع کو اپنی “سیاست” کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے تھا۔ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ مولانا فضل الرحمان ایک عرصے سے مولانا سمیع الحق کے ساتھ معاملات بہتر بنانے کی کوششیں کر رہے تھے جو کامیاب نہیں ہوئیں۔

مولانا فضل الرحمان ،مولانا سمیع الحق کا حد درجہ احترام کرتے ہیں جس کا میں عینی شاہد ہوں ۔ اسی طرح مولانا سمیع الحق بھی مولانا فضل الرحمان کی قابلیت اور صلاحیت کے معترف ہیں ۔مولانا فضل الرحمان ذاتی طور پر مولانا سمیع الحق کے “خاص سیاسی کردار ” کو پسند نہیں کرتے ۔

مولانا سمیع الحق ملک میں ” خاص سیاسی کردار” کے ساتھ ساتھ عسکری گروہوں کی سر پرستی کا بھی دم بھرتے ہیں ۔ انہوں نے کبھی اس کا انکار نہیں کیا۔ نیو نیوز کی اینکر پرسن عاصمہ چوہدری کے ساتھ گذشتہ دنوں میں ایک انٹرویوکے دوران انہوں نے اسامہ بن لادن کو اپنا ہیرو قرار دیا ۔ ان کے مدرسے کو طالبان کی نرسری کہا جاتا ہے اور وہ اس پر فخر کرتے ہیں۔ انہوں نے افغان طالبان کے امیر ملا محمد عمر کو جامعہ حقانیہ سے درس نظامی کی اعزازی ڈگری بھی دی تھی ۔ مولانا سمیع الحق نے ہمیشہ مسلح تحریکوں اور فرقہ وارنہ جماعتوں کا کھل کر ساتھ دیا اور انہیں اپنا سرمایہ قراردیا ۔ جامعہ حقانیہ کے در و دیوار ہمیشہ سخت گیر عناصر کو پناہ دیتے آئے ہیں۔

دوسری طرف مولانا فضل الرحمان شروع سے ہی قومی دھارے میں رہ کر سیاست کرنے کے قائل رہے ہیں ۔ انہوں نے ہر اس تحریک اور تنظیم سے عملا لاتعلقی کا اعلان کیا جو عسکریت پسندی یا فرقہ وارایت کی جانب مائل ہو ۔

بار خوفناک خود کش حملے کیے،ان کی جماعت کے کئی جید اور بزرگ علماء کو محض اس وجہ سے قتل کر دیا گیا کہ انہوں نے اس وقت دہشت گردی کی علمی اور عملی میدان میں مذمت کی جب ملک میں دہشت گردوں کا طوطی بولتا تھا ۔ بڑے بڑے سیاستدان اس ماحول میں گھروں سے باہر نکلنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ مولانا کی جماعت کے اندر بھی کچھ افراد “نظریات” کے نام پر شدت پسند دھڑوں کی حمایت کی طرف مائل تھے ، انہوں نے جے یو آئی “نظریاتی” کے نام سے ایک دھڑا بھی قائم کر لیا تھا تاہم مولانا نے کچھ عرصے بعد سیاسی انداز میں افہام و تفہیم کے ذریعے اس گروہ کو عملا ختم کر دیا

سپاہ صحابہ نے بھی جمیعت علمائے اسلام کے بطن سے جنم لیا ۔ سپاہ صحابہ کے بانی اور سربراہ مولانا حق نواز جھنگوی جمیعت علمائے اسلام پنجاب کے امیر تھے ۔ مولانا فضل الرحمان نے انہیں فرقہ وارانہ سر گرمیوں سے روکا اور بعد میں انہیں جمیعت سے بھی الگ کر دیا ۔ سپاہ صحابہ نے جمیعت علمائے اسلام کو سیاسی حوالے سے بہت زیادہ نقصان دیا ۔ پنجاب اور سندھ کے کئی علاقوں میں جمیعت کی سیاسی طاقت کمزور پڑ گئی ۔ سپاہ صحابہ نے ان کے خلاف مختلف مقامات پر انتخابات میں امیدوار کھڑے کیے ۔

2002 کے انتخابات کے مولانا فضل الرحمان وزارت عظمیٰ کے امیدوار تھے اور ان کے مقابلے میں مسلم لیگ ق کے میر ظفراللہ خان جمالی تھے ۔ ظفر اللہ خان جمالی ایک ووٹ سے وزیر اعظم بنے اور وہ ایک ووٹ سپاہ صحابہ کے نائب سر پرست اعلی اور جھنگ سے منتخب رکن قومی اسمبلی مولانا اعظم طارق کا تھا ۔ مولانا فضل الرحمان اپنے ہی مکتب فکر کے عسکریت پسندوں اور فرقہ پرستوں کے نشانے پر رہے تاہم انہوں نے عشروں بعد اس نقصان پر بھی “قابو” پانا شروع کر دیا ہے ۔

عمران خان نے پنجاب اور کراچی کے ساتھ ساتھ ان علاقوں میں بھی اپنا اثر ورسوخ بڑھانا شروع کر دیا جو مولانا فضل الرحمان کے روایتی حلقے شمار ہوتے تھے ۔ اس کے جواب میں مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت نے عمران خان کے خلاف مذہبی بنیادوں پر پروپیگنڈا شروع کیا ۔ انہیں یہودیوں کا ایجنٹ قرار دیا گیا تاہم عمران خان نے اقتدار میں آکر خیبر پختون خواہ میں کچھ ایسے اقدامات کیے جو مذہبی جماعتوں پر مشتمل چھ جماعتی اتحاد اپنے دور میں نہیں کر سکا ۔ پولیس اصلاحات ، مدارس کی مین سٹریمنگ ، تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی بھرتیاں کی گئیں ۔ اساتذہ کو غیر حاضری پر جرمانے اور حاضری پر انعام دیا گیا ۔ صرف اس سال 35 ہزار بچے پرائیویٹ اسکول چھوڑ کر سرکاری اسکولوں میں داخل ہوئے ۔بارہویں جماعت تک با ترجمعہ قرآن کی تعلیم کی منظوری دی گئی ۔جہیز کے خلاف بل کی منظوری اور یکم محرم الحرام کو یوم عمر کی چھٹی سمیت کئی اقدامات ایسے ہیں جس کی وجہ سے خیبرپختون خواہ کے روایتی مذہبی طبقے کی عمران خان کے بارے میں رائے بدلی ۔ مولانا کی جانب سے عمران خان کے خلاف مذہبی بنیادوں پر کئے گئے پروپیگنڈے کو لوگوں نے سنجیدہ نہیں لیا بلکہ اس کا مولانا کو نقصان ہوا ۔

مولانا کو یہ بھی تشویش ہے کہ تحریک انصاف اگر آئندہ انتخابات میں جماعت اسلامی ، مولانا سمیع الحق اور اہل سنت والجماعت کے ساتھ انتخابی اتحاد کر لیتی ہی تو جمعیت علمائے اسلام کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں ۔ یہ جماعتیں مختلف علاقوں میں براہ راست انتخاب جیتنے کی صلاحیت رکھتی ہیں تاہم اکثر علاقوں میں انتخابات پر اس حد تک اثر انداز ضرور ہوتی ہیں کہ فتح و شکست میں کردار ادا کر سکیں ۔ جمعیت علمائے اسلام مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ بھی انتخابی اتحاد کر سکتی ہے تاہم مذہبی قوتوں کی تقسیم کی وجہ سے مولانا کی انتخابات میں امیدواروں کے لحاظ سے ان جماعتوں کے ساتھ بارگینگ پوزیشن کمزور پڑ سکتی ہے ۔ مولانا ماہر سیاسی کھلاڑی ہیں اور اپنی بساط سے ہمیشہ زیادہ حاصل کرتے ہیں ، گذشتہ دنوں مذہبی جماعتوں کی اتحاد کے حوالے سے گفتگو کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔

ذمہ دار ذرائع کے مطابق کالعدم تنظیم اہلسنت والجماعت فرقہ وارانہ فسادات ،قتل غارت گری، گرفتاریوں سے تنگ آکر اب خود مرکزی دھارے میں آنے کی خواہشمند ہے۔ گذشتہ دونوں معروف تھنک ٹینک پاک انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ورکنگ گروپ کے اجلاس کے دوران جماعت کے سربراہ نے تکفیر کے نعرے سے سمیت اپنا روایتی موقف چھوڑنے کا بھی اعلان کیا ہے ۔ اہلسنت والجماعت نے جمعیت علمائے اسلام کے بطن سے ہی جنم لیا تھا اور اب اس جماعت کی قیادت دوبارہ جمعیت کے پرچم تلے مرکزی دھارے کی سیاست کرنا چاہتی ہے ۔ اس حوالے سے جے یو آئی ف سے بات چیت بھی کسی حد تک ہو چکی ہے ۔ جھنگ میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخاب میں سپاہ کے مقتول بانی مولانا حق نواز جھنگوی کے بیٹے مسرور نواز جھنگوی بھی اسی وجہ سے الیکشن جیتنے کے بعد جمعیت علمائے اسلام میں شامل ہوئے تھے، کالعدم اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے مسرور نواز جھنگوی کو مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد خود جمعیت میں شامل کرایا ۔ مسرور جھنگوی پنجاب اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر ہیں ۔ یوں 32 برس بعد جمعیت کو پنجاب میں اپنا متحرک حلقہ واپس مل گیا ۔

یہ مولانا فضل الرحمان کی بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے عسکریت پسندی اور فرقہ واریت اور دہشت گردی کے بڑے بڑے بحرانوں کے دوران اپنی جماعت کو ان فتنوں سے بچائے رکھا ۔ انہوں نے اس کی بھاری قیمت بھی ادا کی ۔ مولانا فضل الرحمان کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے دیوبندی مکتب فکر کے دینی مدارس اور اپنی جماعت کو دہشت گردی اور فرقہ واریت کے “زر خیز ماحول” کا شکار نہیں بننے دیا ۔ جمعیت کے اندر کئی دھڑے بھی بنے لیکن وہ سب دوبارہ مولانا فضل الرحمان کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے واپس آچکے ہیں ۔

طالبان نے جب 2013 کے انتخابات کے بعد حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے بنائی گئی اپنی کمیٹی میں مولانا سمیع الحق ، مولانا عبدالعزیز ، پروفیسر ابراہیم اور عمران خان کے ساتھ مفتی کفایت اللہ کا نام پیش کیا تو جمعیت علمائے اسلام کی شوریٰ نے اپنے بےتاب اور شرکت کے خواہشمند نمائندے کو مذاکرات میں شرکت سے روک دیا ۔ اس موقع پر میں نے مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر پوچھا تھا کہ ملک میں امن کے قیام کیلئے کردار ادا کرنے کا وقت آیا تو آپ پیچھے ہٹ گئے ۔ مولانا نے کہا کہ یہ ریاست کا کام ہے ، ہم اس میں فریق ہیں اور نا حلیف مجھے ہتھیلی پہ لکھا نظر آ رہا ہے کہ کیا ہو گا ، ہم کیوں اس گند میں شریک ہوں ۔”

مولانا نے ہمیشہ پارلیمانی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا ۔انہوں نے اپنے قول و فعل سے ہمیشہ جمہوری قوتوں کی حمایت کی تاہم وہ پاکستان میں اپنے روایتی مذہبی ذہن کو جمہوری بنانے میں نمایاں حد تک کامیاب نہیں ہو سکے۔ ان کا اسیر اب بھی قومی ریاستوں کی حقیقت کو ماننے کے بجائے پوری دنیا پر اسلام کے غلبے کی خواہشیں لیے مارا مارا پھر رہا ہے ۔ آج ہر جگہ نئے بیانیے کی باتیں ہو رہی ہیں تو مولانا فضل الرحمان بھی صد سالہ کانفرنس میں پوری قوت کے ساتھ پاکستان میں نئے بیانیے کا اعلان کریں گے ۔ وہ بتائیں گے کہ مکتب دیوبند کی اصل سوچ اور فکر کیا تھی اور اب کیا ہے ؟ وہ بتائیں گے کہ جمعیت علمائے اسلام کی مستقبل میں سیاست کا مزاج کیا ہو گا۔ اکوڑہ خٹک ، مریدکے ،منصورہ اور بنی گالا میں اس تقریر کو سننے کا بطور خاص اہتمام کیا گیا ہے ۔ کچھ لوگوں کیلئے مولانا فضل الرحمان کی اس گفتگو کو قبول کرنا شاید مشکل ہو لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ۔ ان کی گفتگو سے ایک نئی بحث کا آغاز ہو گا اور اس کے عملی نتائج بھی دکھائی دیں گے ۔

آج مولانا فضل الرحمان جب عسکریت پسندی اور فرقہ پرستی کے خلاف بات کرتے ہیں تو ان کی زندگی سامنے کھڑی نظر آتی ہے ۔ ایک لمحے کیلئے سوچیے کہ اگر مولانا فضل الرحمان اور جمعیت علمائے اسلام دہشت گردی اور فرقہ واریت کے منہ زور طوفان کا رخ نہ موڑتے تو آج پاکستان اور مکتب دیوبند کا کیا حشر ہو تا ؟ انہوں نے ایک نسل کو دہشت گردی اور فرقہ پرستی کی آگ کا ایندھن بننے سے بچایا ۔ میرے نزدیک جمعیت علمائے اسلام اور مولانا فضل الرحمان کی اصل کامیابی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...