عالمی یومِ عدم تشدد اور کشمیر

98

آج دنیا میں عالمی یوم تشدد منایا جا رہا ہے۔ 15 جُون 2007 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 2 اکتوبر کو عدمِ تشدد کے حوالے سے آگہی پھیلانے کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔ یہ تاریخ مہاتما گاندھی کا یوم پیدائش ہے جو عدمِ تشدد کے فلسفے کے بڑے داعی سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ آج عدم تشدد کے داعی کہلائے جانے والے کی زمین پر انسانی حقوق کی بھانک ترین خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اس سال کا دو اکتوبر گاندھی کے ملک میں سب سے زیادہ سوگوار ہے۔

گاندھی نے تقسیم کے بعد اور موت سے قبل کشمیر کے بارے میں بہت کچھ لکھا اور کہا تھا۔  مثلاََ جولائی 1947 کو دہلی میں ایک میٹنگ کے دوران کہا ’میں مہاراجہ کو ایسا کوئی مشورہ نہیں دوں گا کہ وہ کشمیر کو پاکستان کی بجائے ہندوستان میں ضم کرے۔ حقیقی مقتدر عوام ہیں۔ حکمران محض خادم ہوتا ہے۔ اگر وہ ایسان ہیں تو حکمران کہلانے کا حقدار بھی نہیں۔ یہ میرا ایمان ہے اور اسی اساس پر میں برطانوی راج سے بغاوت کی، کیونکہ اس نے ہندوستان کے عوام کی بجائے خود کو حکمران کہا۔ کشمیر میں بھی اصل طاقت عوام ہیں۔ انہیں آزادی دیں کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں‘۔

3 جنوری 1948 کو کہا ’کشمیر میں بدامنی کا زہر سرایت کرتا اور پھیلتا جا رہا ہے۔ اگر جنگ ہوئی تو دونوں ملک خون میں نہا جائیں گے۔ میری خواہش اور دعا ہے کہ ایسی کسی صورتحال کو دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہوں۔ آپ سب بھی میرے لیے یہ دعا کریں‘۔

گاندھی کو بھارت نے قبول نہیں کیا۔ تشدد باقی ہے اور کشمیر میں ’اس کا زہر مزید سرایت کرتا اور پھیلتا جا رہا ہے‘۔ گاندھی نے تشدد کے ماحول کو دیکھنے سے بچنے کے لیے مرنے کی دعا کی تھی۔ ان کو قتل کر دیا گیا۔ جب تک تشدد کی جگہ باقی ہے گاندھی کا قتل ہوتا رہے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...