استنبول میں شناخت کا نیا معرکہ

ثروت منصور

136

ترکی میں ریپبلکن پیپلز پارٹی کی طرف سے استنبول کے نومنتخب میئر اکرم امام اوغلو نے ملک میں اپنے بعض فیصلوں کی وجہ سے ہلچل مچادی ہے۔ ریپبلکن پیپلز پارٹی ترکی کی سب سے قدیم سیاسی جماعت ہے۔ اس کی تاسیس کمال اتاترک کی خواہش پر رکھی گئی تھی اور اس کا تشخص سیکولر ہونے کا ہے۔ لیکن اس جماعت کے نامزد فاتح اکرم اوغلو کی کامیابی میں صرف سیکولر طبقے کا ہی ہاتھ نہیں ہے، بلکہ مذہبی حلقے کی ایک بڑی تعداد نے بھی انہیں ووٹ دیا ہے۔ استنبول کے بلدیاتی انتخابات میں انہیں ملنے والے ووٹ میں سے 20 فیصد مذہبی رجحان رکھنے والوں کی طرف سے حاصل ہوا۔ جیتنے سے قبل استنبول کی سڑکوں پر باحجاب خواتین کی ان کے ساتھ بہت ساری تصاویر سامنے آئی تھیں۔

نئے میئر کے نام میں اکرم اور امام آتا ہے اور ترکی میں ریپبلکن پارٹی کے کسی عہدے دار کا اس طرح کا نام ایک منفرد مثال ہے۔ لوگ خیال کر رہے تھے کہ میئر بننے کے بعد جماعت کے تشخص کی وجہ سے وہ اپنا نام تبدیل کردیں گے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کو اس نام پر فخر ہے۔ اسی طرح جب نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ ہوا تھا تو وہ شہید ہونے والوں کی روح کو ایصال ثواب کرنے کے لیے مسجد سلطان ایوب میں سورۃ یٰسین کی تلاوت کرتے نظر آئے تھے۔ لیکن انتخابات کا معرکہ سر کرنے کے بعد ان کے کچھ اقدامات نے مذہبی ووٹر کو حیران کردیا ہے۔ وہ رفتہ رفتہ استنبول کی شناخت بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اکرم امام اوغلو نے پہلے تو بلدیہ کے ماتحت چلنے والے ٹی وی چینل کے لوگو میں تبدیلی کی۔ اس میں ٹی وی چینل کے نام (ibb tv) کے ساتھ مسجد کے مینار بنے ہوئے تھے جنہیں حذف کرکے رنگ پینٹ کردیے گئے ہیں۔ صدر ایردوان کے حامی شہری اس پر ناراضی کا اظہار کررہے ہیں۔ کیونکہ ایک تو میناروں کی تصویر ہٹائی گئی پھر اس کی جگہ جو رنگ پینٹ کیے گئے وہ ہم جنس پرستی کی طرف اشارہ دینے والے ہیں۔ واضح رہے کہ امام اوغلو ہم جنس پرستی کی حمایت کرتے ہیں۔ ابھی اس فیصلے پر لے دے ہو رہی تھی کہ میئر کی طرف سے مزید کچھ ایسے احکامات جاری کیے گئے ہیں جن کے سبب ترکی کا معاشرہ تائید اور مخالفت میں منقسم نظر آتا ہے۔ نئے فیصلوں کے مطابق استنبول کے میٹرو اسٹیشنز کی مساجد جو پہلے چوبیس گھنٹے کھلی رہتی تھیں اب صرف نماز کے اوقات میں کھلی رہیں گی۔ میٹرو اسٹیشنز کے علاوہ باقی عام مساجد چونکہ وزارت مذہبی امور کے ماتحت ہیں اس لیے یہ فیصلہ ان پر لاگو نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ میٹرو گاڑیوں کے ڈرائیورز پر داڑھی رکھنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہیں، سوائے ان کے جنہیں جلد کے کسی مسئلے کی وجہ سے داڑھی رکھنا مجبوری ہے وہ اس کے لیے میڈیکل رپورٹ جمع کرائیں گے۔ ان ڈرائیورز کے لیے ایک وردی بھی مخصوص کردی گئی ہے۔ پچھلے مہینے امام اوغلو نے سرکاری سطح پر ’استنبول کے ڈرامے‘ کے نام سے چلنے والے ایک سلسلے کو بھی منسوخ کردیا ہے جس میں اسلامی طرز کے ڈرامے پیش کیے جاتے تھے، ان کا کہنا ہے اس پر کافی پیسے خرچ ہوتے ہیں اور ہمارے پاس بجٹ کی کمی ہے۔

جب وہ میئر منتخب ہوئے تو کچھ لوگوں نے اجتماع میں یہ نعرہ لگایا کہ ’ہم اتاترک کے سپاہی ہیں‘ اس پر انہوں نے ٹوک دیا اور مل کر سب کے ساتھ چلنے کی ضرورت پر زور دیا

صدر ایردوان نے اپنے طویل دور حکومت میں مذہبی تشخص کو غالب کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے ملک میں جدید ترکی کے بانی کمال اتاترک کی چھاپ کو مٹانے کے لیے بہت سارے نمایاں فیصلے کیے۔ مثال کے طور پر 1979 میں فوجی انقلاب کے بعد بند کیے جانے والے دینی مدارس کو دوبارہ کھول دیا گیا، ان کی تعداد اب چار ہزار تک پہنچ چکی ہے جن میں 1.3 ملین طلبہ زیرتعلیم ہیں۔ ان مدارس میں لڑکیوں کے لیے پڑھنے کا علیحدہ انتظام ہوتا ہے۔ 2013 میں انہوں نے شاہراہوں، ٹی وی چینلز اور موسیقی کی ویڈیوز میں شراب کے تشہیری اعلانات کو ممنوع قرار دیا اور رات 10 بجے سے صبح 6 تک اس کی فروخت کی اجازت بھی نہیں ہے۔ شراب پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی اور 2014 میں ملک کی شراب بنانے والی سب سے بڑی کمپنی خسارے کی وجہ سے بند ہوگئی۔

ایک جرمن ٹیلی ویژن کے مطابق ایردوان کا سب سے بڑا اقدام جسے یورپ میں اور مسیحیوں کی طرف نامناسب سمجھا گیا وہ 2016 میں ’آیا صوفیا‘ میں آذان دلوانا اور اسے براہ راست ٹی وی اور ریڈیو پر نشر کرنا تھا۔ جب نیوزی لینڈ مساجد پر حملہ ہوا تھا تو انہوں نے یورپ کو دھمکی دی تھی وہ ’آیا صوفیا‘ کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کردیں گے جسے 1935 میں عجائب گھر کی شکل دی گئی تھی۔ 2017 میں تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں کی گئیں۔ اس میں مذہبی تشخص کی بڑے پیمانے پر ترویج ہوئی۔

ترکی کے معروف سیاسی تجزیہ کار خیری اوغلو کہتے ہیں کہ ہر جماعت اپنی آئیڈیالوجی کی تنفیذ کی کوشش کرتی ہے۔ میئر امام اوغلو اسلامائزیشن کے عمل کے تحت سماج پر غالب ہونے والے مذہبی تشخص میں کمی لانا چاہتے ہیں۔ ترکی ایک سیاحتی علاقہ ہے، یہاں کسی کو اجنبیت محسوس نہیں ہونی چاہیے۔

خیری اوغلو کہتے ہیں کہ اکرم امام کے ان اقدامات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ معاشرے میں تقسیم کو جنم دینا چاہتے ہیں۔ جب وہ میئر منتخب ہوئے تو کچھ لوگوں نے اجتماع میں یہ نعرہ لگایا کہ ’ہم اتاترک کے سپاہی ہیں‘ اس پر انہوں نے ٹوک دیا اور مل کر سب کے ساتھ چلنے کی ضرورت پر زور دیا۔

سیاسی تاریخ کے ماہر فراس رضوان کا خیال ہے کہ ان نئے فیصلوں سے مذہبی تشخص پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ ترکی میں سب لوگ اسلام کو سماج اور ریاست کا محور سمجھتے ہیں۔ البتہ امام اوغلو اسلامائزیشن کی حد مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی جماعت اور ووٹرز کا مطالبہ بھی ہے جنہوں نے ان کو منتخب کیا ہے۔ فراس رضوان یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر امام نے اس سلسلے کو طول دیا، یا بہت زیادہ غیرمقبول فیصلے کیے جیسا کہ حجاب پر پابندی، تو پھر انہیں شدید ردعمل کا سامنا ہوگا کیونکہ ترکی کے اندر مذہب پسند چھوٹی طاقت نہیں ہیں۔ وہ ان اقدامات کو شخصی آزادی پر زد کے طور پہ دیکھیں گے۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: رصیف 22

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...