صحت کا شعبہ: رواں سال عوام کے لیے مشکل ترین

252

پاکستان وزارت صحت کے مطابق ملک میں پچھلے چوبیس گھنٹوں میں مزید 215 افراد ڈینگی سے متأثر ہوئے ہیں۔ اس وائرس کا شکار ہونے والوں کی کُل تعداد سولہ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ 23 ستمبر کو یہ تعداد 10 ہزار 13 تھی۔ ڈینگی بخار کے نتیجے میں پچیس کے قریب شہری وفات پاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ دو دن قبل جاری ہونے والے بیان کے مطابق پاکستان میں پولیو کے مریض بچوں کی تعداد 69 تک پہنچ گئی ہے۔

ڈینگی وائرس دو ہزار گیارہ سے ہر سال ملک کے مختلف علاقوں میں حملہ آور ہوتا ہے جس سے نمٹنے کے لیے موسم سے قبل اقدامات شروع کردیے جاتے ہیں، لیکن اس سال بروقت ضروری اقدامات نہیں اٹھائے گئے جس کی وجہ سے یہ وائرس قابو سے باہر ہوچکا ہے۔ غیرسنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ دو ہفتے قبل تک حکومتی ذمہ داران ڈینگی کو بڑا خطرہ تسلیم کرنے کے لیے ہی تیار نہیں تھے۔ خیبرپختونخوا میں اس بیماری کے 1189 کیسز رپورٹ ہوچکے تھے تب وزیراعلیٰ محمود خان کہہ رہے تھے کہ وائرس کا پھیلاؤ بڑے پیمانے پر نہیں ہے، غلط خبریں پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

پولیو سے متأثرہ بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں جب بھی حکومت بدلتی ہے تو اپنی جماعت سے نئی اور ناتجربہ کار بھرتیوں کی وجہ سے پولیو پروگرام متأثر ہوتا ہے اور حکومت کے پہلے سال اس کا شکار ہونے والوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ گزشتہ حکومت کے پہلے سال میں بھی ان کی تعداد 306 ہوگئی تھی جو دو ہزار اٹھارہ میں گھٹ کر 12 تک آگئی۔ اب نئی حکومت کے پہلے سال میں پولیو سے متأثر ہونے والے بچوں کی تعداد میں ایک بار پھر مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ افغانستان اور پاکستان کے علاوہ ساری دنیا پولیو فری ہوچکی ہے۔ اگر پاکستان میں پولیو پروگرام کو سیاسی وابستگیوں کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے تو معذور شہریوں کی تعداد میں مزید اضافے کو روکا جاسکتا ہے۔

رواں سال ایک تو ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے بھی عام آدمی پر بوجھ کو بڑھا دیا ہے، اس کے علاوہ کینسر کی بیماری کا شکار رجسٹرڈ مریضوں کی ادویات بھی بند کردی گئی ہیں جنہیں پہلے یہ مفت سہولت دی جا رہی تھی۔ کینسر کی ادویات پہلے ہی آسانی سے دستیاب نہیں تھیں، اب سرکاری سہولت کی بندش کے بعد ان ادویات کی بلیک مارکیٹنگ شروع ہوگئی ہے اور قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے متأثرہ افراد ان کو خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ صحت کے شعبے میں ایسی ناورائی اور احساس ذمہ داری کا فقدان عوام کے لیے دن بدن مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...