جب ہمالیہ کی برف پگھل جائے گی

342

قطب شمالی اور قطب جنوبی کا نام تو ہر کسی نے سنا ہوگا، دونوں اپنی بے انتہا برف کی وجہ سے مشہور ہیں۔ مگر ایک خطہ ایسا بھی ہے جسے “تیسرا قطب” کہا جاتا ہے- وہاں دنیا کی 15 فیصد برف پائی جاتی ہے، یا یوں کہیے کہ وہ زمین پر جمے ہوئے پانی کا تیسرا سب سے بڑا علاقہ ہے۔

جی ہاں وہ ہے ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلے۔ جو تبت سے شروع ہو کر میانمار، چین، بھوٹان، نیپال، بنگلہ دیش، انڈیا، پاکستان سے ہوتے ہوئے افغانستان کو سیراب کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ شمالی اور جنوبی قطبی خطوں سے بہت چھوٹا ہے، لیکن یہ پھر بھی غیرمعمولی ہے، جس نے 46،000 گلیشیروں کے ساتھ 100،000 مربع کلومیٹر کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ تیسرا قطب دنیا کے سب سے اونچے پہاڑوں پر مشتمل ہے، یہ ماؤنٹ ایورسٹ کے ٹو سمیت 8 ہزار میٹر سے زیادہ کی 14 چوٹیوں اور 10 بڑے دریاؤں و ندیوں کا ماخذ ہے، یہ سب مل کر ایک زبردست عالمی ماحولیاتی بفر تشکیل دیتے ہیں۔

اس خطے کی سب سے بڑی اہمیت اس کا تازہ پانی ہے جو  قطبی خطوں سے باہر تازہ پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے. سندھو، گنگا جمنا دریاؤں کی تہذیبیں اسی تیسرے قطب کی مرہوں منت ہیں۔ مزید اس کے ساتھ چین کا یلو اور دریائے یانگسی، میانمار میں دریائے ارراوڈی اور میکونگ دریا، ہندوستان اور بنگلہ دیش میں گنگا بھی شامل ہیں۔ یہ دریا صدیوں سے اس خطے کے انسانوں کی پیاس بجھاتے آئے ہیں۔ موجودہ دور میں اس خطے کے دریاؤں اور ندیوں کا نظام ایشیا کے تقریباََ 210 ملین انسانوں کو براہ راست اور  1.3بلین سے زیادہ لوگوں کو بالواسطہ طور پر آبپاشی، بجلی اور پینے کا پانی مہیا کرتا ہے. یہ دنیا کی آبادی کا بیس فیصد بنتا ہے۔ ان دریاؤں، ندیوں اور ان کے زیر زمین پانیوں سے پیدا ہونے والی خوراک اور توانائی سے 3 ارب سے زیادہ افراد مستفید ہوتے ہیں. تیسرے قطب کے برفیلے پہاڑ اس سب کا اصل اور زندگی کا مصدر ہیں.

قطبی خطوں میں ہونے والی تبدیلیاں عالمی اثرات کی حامل ہیں۔ وہاں پیدا والے آب و ہوا کے تغیرات کو انتہائی سنجیدہ لیا جاتا ہے۔ جب قطبی خطوں کی برف مسلسل پگھل رہی ہو تو واضح اشارہ ہے کہ زمیں گرم ہو رہی ہے۔ تیسرا قطب ماحولیاتی لحاظ سے متنوع اور کمزور خطوں میں سے ایک ہے اور اس پر ماحولیاتی تبدیلی کا اثر نسبتاً زیادہ ہے۔ کیونکہ یہ سطح سمندر سے اونچا ہے۔ یہ سارا نظام ایک دوسرے کے ساتھ تسبیح کے دانوں کی طرح جڑا ہوا ہے۔ ایک بھی دانہ یہاں سے وہاں ہوا اور سارا نظام خطرے کا شکار ہو جاتا ہے. انسانوں نے گذشتہ صدی سے ان برفیلے پہاڑوں کو صرف فتح کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔ بہت کم وقت میں انسانوں نے گلیشیروں کو سرخرو کر لیا ہے. بڑے پیمانے پر انسانی سرخروئی کے اس عمل سے جنم لینے والی آلودگی اور دیگر سرگرمیوں سے ان برفانی صحراؤں کا چہرہ بدل رہا ہے۔ محققین اب خطے پر انسانی اثرات کے پیمانے کو سمجھنے اور سامنے لانے لگے ہیں۔

ماحولیاتی تبدیلی نے اس خطے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ لیکن تیسرے قطب میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات پر اتنی زیادہ توجہ نہیں دی گئی جتنی شمالی اور جنوبی قطبوں پر سائنسی تحقیق ہوئی ہے۔ دوسرے قطبوں کے مقابلے میں یہاں تحقیق کا کام سست ہے. ہندوستانی اور دوسری حکومتیں ہائیڈروولوجیکل اعداد و شمار شائع نہیں کرتیں اور نہ ہی کسی سے ان کا تبادلہ کرتی ہیں۔ تبت کا سطح مرتفع ایک وسیع اور سخت جان خطہ ہے اور گلیشولوجسٹوں کے کام کرنے کے لئے تقریباََ ناقابل عمل جگہ ہے۔ سائنس دانوں کو مینگونگ گلیشیر پر تحقیق میں ان مقامی لوگوں کی طرف سے بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کافی جگہوں کو مقدس مانتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان دو طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔ ایک طرف درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف یہ پانی کی شدید کمی کا شکار ہوتا جا رہا ہے

سیئٹل میں واشنگٹن یونیورسٹی کے انتھونی آرینڈٹ کی سربراہی میں ناسا کی ہائی ماؤنٹین ایشیا ٹیم (HiMAT) کے محققین نے سرد جنگ کے زمانے کی جاسوس سیٹلائٹ کی تصاویر کا تجزیہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ تیسرے قطب کی برف میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ اس صدی میں تو اس کے پگھلنے کی رفتار 1975 سے 2000ء کے مقابلے میں دگنی ہو گئی ہے. یہ نتیجہ ہمالیائی حدود میں گلیشیروں پر سیٹلائٹ ڈیٹا کے 40 سال کے تجزیہ کو سامنے رکھتے ہوئے اخذ کیا گیا ہے۔  یاد رہے 1970 سے اب تک اس کی ایک چوتھائی برف پگھل چکی ہے. گلیشیر اس وقت عالمی حدت کی وجہ سے سالانہ تقریبا آدھا میٹر برف کھو رہے ہیں۔

رواں ماہ، انٹرگورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی) کی کرائزوفیر سے متعلق ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق آرکٹک اور انٹارکٹک کے بعد دنیا کی سب سے بڑی برف شیٹ کے دو تہائی گلیشیر 80 سالوں میں غائب ہو جائیں گے. (کریوسفیرک سائنس بنیادی طور پر زمین کی سطح پر ، پیرما فراسٹ، برف اور برف کا بین الکلیاتی مطالعہ ہے). اگر عالمی حدت کو بین الاقوامی سطح کے متفقہ اہداف 1.5 ڈگری کی سطح پر بھی رکھا گیا تو بھی برف کا ایک تہائی حصہ ضائع ہوجائے گا۔

تیسرے قطب کے برفیلے پہاڑوں کے آس پاس بسنے والے 240 ملین انسانوں کے لئے ان تبدیلیوں کا کیا مطلب ہے؟

عین ممکن ہے کہ کچھ علاقوں میں اس تبدیلی کے مختلف اثرات ظاہر ہوں۔ شاید اس کا خیرمقدم بھی کیا جاۓ۔ گرم موسم شدید سردیوں سے نجات دلاۓ گا اور زندگی کو زیادہ خوشگوار اور آسان بھی بنا سکتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ زراعت کا فروغ ہوگا۔ مقامی افراد زمین کی دستیابی سے فصلوں کی متنوع اور ہر سال ایک سے زیادہ بار کاشت کر سکیں گے اور بھرپور معاشی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مگر ایسا سارے خطے میں نہیں ہوگا۔ یہ صرف کچھ الگ تھلگ علاقوں میں ممکن ہے۔ دوسری طرف نیچے کے علاقوں میں ایک مختلف تبدیلی آئے گی. ایشیا کے کچھ بڑے دریاؤں کا گلیشیر کی برف پر بہت زیادہ انحصار ہے. یانگسی اور یلو دریا کے پانی کی سطح میں پہلے سے ہی کمی آ رہی ہے۔ دریائے سندھ کا 40 فیصد اور یارکند دریا 60 فیصد گلیشیر کی برف کا مرہوں منت ہے. اگرچہ ابھی تک تو نیچے کے علاقوں میں اس کے اثرات ظاہر نہیں ہو رہے کیونکہ بارشیں ہمارے دریاؤں کے پانی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں.

آئی سی آئی ایم او ڈی کی ایک مصنف کے مطابق “مقامی آبی وسائل خاص طور پر وادی سندھ پر اس کے اثرات بہت زیادہ ہوں گے۔ ہمارا خیال ہے کہ پہلے خشک، اونچائی والے علاقوں سے نقل مکانی دیکھنے کو ملے گی لیکن دور رس نتائج سارے خطے کی آبادی کو متاثر کریں گے.” اس صدی کے آخر تک، ان تمام ندیوں میں مون سون سے قبل پانی کے بہاؤ کی سطح میں تیزی سے کمی واقع ہوگی. جس سے زرعی پیداوار متاثر ہوگی اور ساتھ ہی پن بجلی کی پیداوار بھی اثر پڑے گا. فلیش فلڈنگ میں اضافہ ہوگا. گلیشیر کے پگھلنے سے گلشیل آوٹ بسٹ فلڈ (برفانی جھیل پر پھیلنے والے سیلاب) اس وقت آتے ہیں جب عام طور پر برفانی جھیل پگھل کر پانی کی ایک بڑی مقدار کو اچانک خارج کرتی ہے۔ اس عمل کو بھی فلیش فلڈ سے تعبیر کیا جاتا ہے کہ جب پانی اپنی رفتاری کے ساتھ نیچے کی طرف آتا ہے تو اس کے راستے میں موجود ہر چیز کو تباہ کر دیتا ہے۔ تیسرے قطب کے تازہ پانی کے وسیع منجمد ذخیرے مختلف دریاؤں سے سمندروں تک جاتے ہیں، یہ سمندر کی سطح میں اضافے کا سبب بنیں گے. بنگلہ دیش سے ویتنام تک ایشیا کے بڑی آبادی والے نشیبی علاقے جو پہلے ہی سے سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح سے مشکل میں ہیں۔ مستقبل میں آبادی میں بڑھوتری، سیلاب، پانی کی قلت اور آلودگی میں اضافہ، خوراک کی طلب میں اضافہ، آب و ہوا میں مختلف تغیرات اور زراعت و صنعت کے شعبے میں پانی کے کمی جیسے مسائل ان خطرات میں اضافہ کریں گے۔ ابتدائی طور پر مزید ندی نالوں میں اور پانی بہنے کی توقع کی جارہی ہے، جس سے فلیش فلڈز کا خطرہ ہوگا. اس صدی کے آخر تک نتیجہ بڑے پیمانے پر خشک سالی اور صحرا کی صورت میں نکلے گا۔ مستقبل کے اثرات تیسرے قطب کے آس پاس کے علاقوں میں زیادہ محسوس کیے جائیں گے۔ گلیشیر کا پگھلنا 1.3 بلین لوگوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا جو اس کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔

ماحولیاتی نظم ایک دوسرے کے ساتھ تسبیح کے دانوں کی طرح جڑا ہوا ہے۔ ایک بھی دانہ یہاں سے وہاں ہوا اور سارا نظام خطرے کا شکار ہو جاتا ہے

پاکستان کے لئے کیا خطرات ہیں؟ 

گلشیل آوٹ بسٹ فلڈ سے پاکستان کے شمالی علاقے متأثر ہو رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ اور آبادی کے پھیلاؤ کی وجہ سے اس میں تیزی دیکھی گئی ہے. پاکستان کے محکمہ موسمیات کے مطابق 2010 میں پاکستان کے شمال میں تقریباََ 2400 گلیشیر جھیلیں تھیں۔ 2015تک  ان کی تعداد 3،000 سے زیادہ نوٹ کی گئی۔ توقع کی جارہی ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ہی موسم گرما طویل ہوگا اور  سردیوں کا دورانیہ مختصر ہوگا۔ 2015 میں گلیشیر جھیلیوں اور شدید بارشوں کے نتیجے میں چترال ندی میں آنے والا سیلاب بڑی سڑکوں، بجلی گھر، آبپاشی کے نظام اورگھروں کو بہا کر لے گیا تھا. جس سے ایک اندازے کے مطابق ڈھائی لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔

موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان دو طرح سے متاثر ہو رہا ہے۔ ایک طرف درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف یہ پانی کی شدید کمی کا شکار ہوتا جا رہا ہے. پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) کے مطابق، پاکستان کا شمار 2005 سے باضابطہ طور پر پانی کی قلت والے ممالک میں ہو گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام اور پی سی آر ڈبلیو آر نے زمینی پانی کی آئندہ قلت کے بارے میں بھی انتباہ جاری کیا ہے۔

عالمی سطح پر تاریخ کے 18 سال پچھلے 19 سالوں میں آئے اور اس کا اثر پاکستان سمیت ہر جگہ محسوس کیا گیا. صرف گزشتہ سال نواب شاہ میں درجہ حرارت 50.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو سرکاری سطح پہ دنیا میں سب سے زیادہ ریکارڈ کیا جانے والا درجہ حرارت تھا، مگر یہ ریکارڈ اس وقت ٹوٹ گیا جب ایک ہفتہ بعد ہی جیکب آباد میں 51 ° سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستان کی موسمی ایجنسی سلیم شیخ اور صغرا تونیو کا کہنا ہے کہ “موسم گرما کا درجہ حرارت  جو جُون اور جولائی میں ریکارڈ کیا جاتا تھا اب وہ مارچ میں ریکارڈ کیا جا رہا ہے ،” سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ اکیسویں صدی کے آخر تک عالمی اوسط درجہ حرارت میں تقریبآ کم از کم 3 ° C اضافہ ہو جائے گا۔ ہوائی یونیورسٹی میں آب و ہوا کے سائنس دان کیمیلو مورا کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب بہت زیادہ گرمی ہے۔ لوگوں کے لیے کچھ جگہوں پر باہر کام کرنا ممکن نہیں ہو گا، ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور اس سے متعلقہ اموات کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔ ڈاکٹر کیمیلو مورا کے مطابق “شدید گرمی سے اموات کی شرح دوسری قدرتی آفات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے پھر بھی ہم گرمی کو زلزلے کے مترادف ایک قدرتی آفت کے طور پر نہیں دیکھتے ہیں”.

بقول گریٹا تھنبرگ ’ہمیں ماحالیوتی تبدیلی کے لیے اس تندہی اور سنجیدگی سے کام کرنا ہے جیسے کہ ہمارے گھر میں آگ لگی ہوئی ہو‘۔ پاکستان کے حوالے سے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس گھرمیں آگ لگی چکی ہے اور ہمارے پاس آگ پر قابو پانے کے لیے پانی دستیاب نہیں ہے

وسیع تر تحقیق کے بعد، عالمی محکمہ موسمیات کی تنظیم نے رواں سال کے شروع میں اعلان کیا تھا کہ تربت بلوچستان، 28 مئی 2019 کو درجہ حرارت 53.7 ° C کے ساتھ دنیا کا سب سے گرم شہر ہونے کا اعزاز حاصل کرسکتا ہے۔ جیکب آباد  بھی تربت سے پیچھے نہیں کیونکہ وہاں گرمی کے مہینوں میں باقاعدگی سے  درجہ حرارت 50° C سے اوپر جاتا ہے. یاد رہے یہاں پر بارہ بارہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے، اگر بجلی موجود بھی ہو تب بھی بہت کم لوگ ایک ائیر کنڈیشنر اور اس کا بل برداشت کرسکتے ہیں۔

غریب اور پسماندہ طبقات موسمیاتی تبدیلیوں کی ہولناکی کا سب سے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ یہ طبقہ پچاس ڈگری کی گرمی میں بھی کام کرنے پر مجبور ہے۔ ایک طرف ہمارے شہروں کی آبادی تیزی سی بڑھ رہی ہے دوسری طرف زراعت کے لیے پانی کی کمی کا سامنا ہے، خاص طور پر جنوبی سندھ میں. اگلے کچھ ہی سالوں میں بڑھتی ہوئی خوراک کی ضروریات پوری کرنے ک لیے پانی کی اشد ضرورت ہوگی، اور پاکستان کو خوراک کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے. اس خطے کے بہت سے ممالک پہلے سے ہی پانی کے شدید بحران کا شکار ہیں، اور اوپر سے ڈیموں سمیت بنیادی ڈھانچے کے منصوبے سرحد پار کشیدگی بڑھا رہے ہیں. ڈیم یقیناََ اس کا حل نہیں ہیں.

ان مسائل میں سب ممالک کو اعلیٰ سطح پر باہمی تعاون کرنا ہوگا جو فی الوقت ممکن نظر نہیں آ رہا ہے۔ دیرپا، طویل اور قلیل مدتی اقدامات، نوجوانوں میں بیداری، اپنی طرز زندگی کو مکمل بدلنا، تعمیراتی اور ترقی کے  تمام منصوبوں میں ماحول اور موسمیاتی تبدیلی کو مرکزی اہمیت دینا، کم آمدنی والی آبادی کا خاص خیال اور اس کی کمیونٹی کو ہر سطح پر زیادہ سے زیادہ متحرک کرنا ہوگا. ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات پاکستان کے لیے اتنا ہی بڑا مسئلہ ہے جتنا معیشت، بیروزگاری، صحت، تعلیم اور دفاع کے مسائل ہیں۔ شاید یہ ان سب سے بھی بڑا مسئلہ ہے کیونکہ دیگر سارے مسئلے کہیں نہ کہیں ماحولیاتی تبدیلی سے جڑے ہوئے ہیں۔ بقول گریٹا تھنبرگ ہمیں ماحالیوتی تبدیلی کے لیے اس تندہی اور سنجیدگی سے کام کرنا ہے جیسے کہ ہمارے گھر میں آگ لگی ہوئی ہو۔ پاکستان کے حوالے سے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس گھرمیں آگ لگی چکی ہے اور ہمارے پاس آگ پر قابو پانے کے لیے پانی دستیاب نہیں ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...