اصلاحی تحریک کی ضرورت یا احیائی فکر کی؟

248

اسلام میں پاپائیت کا تصور موجود نہیں ہے۔ ہم مسلمان اس چیز کو دیگر سماوی ادیان کے مقابلے میں برتری اور آزادفکری کے ثبوت کے طور پہ پیش کرتے ہیں۔ یہ پہلو تاریخی اعتبار سے اپنی جگہ درست بھی ہے اور اسی کے نتیجے میں صدراسلام سے لے کر اب تک مختلف فقہی، کلامی اور فکری مدارس وجود میں آئے۔ اگرچہ ہر دور میں مذہب کی نمائندگی کے بعض ثقافتی مراکز بھی سماج میں قائم رہے ہیں لیکن ان میں تعبیری تنوع، درجہ بندی او اجتہاد کے تصور کا رسوخ اس مظہر کو پاپائیت کی شکل عطا نہیں کرتا۔

پاپائیت کے تصور کے نہ ہونے سے جہاں تنوع کو آزادی میسر آئی اور متعدد فکری مدارس وجود میں آئے وہیں اس آزادی کی فضا میں بنیاد پرستی اور سخت گیر جماعتوں کو بھی پنپنے کا موقع ملا۔ بنیاد پرست عنصر اسلامی تاریخ کے ہر دور میں رہا ہے لیکن اسے کبھی غلبہ حاصل نہیں ہوا اور مسلم معاشروں کی اکثریت نے اسے قبول نہیں کیا۔ لیکن کالونیل عہد کے دوران اور بالخصوص خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد بنیاد پرستی کو سازگار ماحول میسر آیا کہ اس نے خود کو جدیدنظم جس کی نمائندگی استعمار کر رہا تھا، کا متبادل بنا کرپیش کیا تو اسے مسلم سماج نے قبول کرلیا۔ یہ بنیادپرستی سیاسی اسلام کی صورت میں متشکل ہو کر سامنے آئی جس نے رفتہ رفتہ شدت پسندی اور دہشت گردی کو جنم دیا۔

جدید شدت پسندی کی دو بڑی خصوصیات ہیں۔ یہ سیاست و مذہب کے لزومی تعلق کی قائل ہے۔ اور دوسرا یہ کہ مخصوص مذہبی ریاست کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کی داعی ہے یا اس سے ہمدردی رکھتی ہے۔

شدت پسندی کے دوسرے پہلو نے مسلم ممالک سمیت ساری دنیا کو متأثر کیا اور بدامنی کے مسائل پیدا کیے۔ اس لیے دہشت گردی کا پہلو زیادہ قابل توجہ ٹھہرا اور وہ بھی اس طرح کہ جیسے یہ ایک مستقل بالذات ایسا مظہر ہے جسے ختم کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ یہ شدت پسندی کی پہلی خصوصیت (آئیڈیالوجی) کا پرتو ہے اور اسی سے پیداشدہ ہے۔

شدت پسندی اور دہشت گردی کے پیداکرہ مسائل نے اصلاحی تحریکوں اور معتدل فکر کی ضرورت کو اہم بنادیا جس کا نمایاں کام تکفیریت اور قتل کے خلاف دینی بیانیہ پیش کرنا تھا، جیساکہ پیغام پاکستان کی دستاویز سامنے آئی۔ یہ اصلاحی تحریکیں زیادہ تر سیاسی جماعتوں سے اٹھیں، البتہ اس کا حصہ وہ افراد اور مدارس بھی ہیں جن کا پس منظر سیاست کا نہیں۔

اصلاحی تحریک (معتدل طبقے) کی امریکا اور یورپ نے بھی پذیرائی کی اور اس کے ساتھ تعاون کیا۔ حالانکہ اس کی اکثریت مسلح جدوجہد کی تو حوصلہ شکنی کرتی ہے اور تکفیریت کو درست نہیں مانتی لیکن اس کے ساتھ وہ سیاست ومذہب کے لزومی تعلق پر بھی ایمان رکھتی ہے، اگرچہ اس کا بہت زیادہ شور نہیں کرتی۔ اصلاح پسندوں کے ٹھہراؤ اور اقلیتوں، عورتوں و جمہوری نظم کے حوالے سے نرم آراء کی وجہ سے نظر آنے والے فرق کو مابعد سیاسی اسلام کا مرحلہ بھی کہا گیا۔ مسلم دنیا میں تونس کے راشد الغنوشی کو سب سے اعتدال پسند اور امید کی کرن قرار دیاگیا حالانکہ انہوں نے آئیڈیالوجی سے روگردانی نہیں کی۔

غامدی فکر سیاست و مذہب کے ویسے تعلق کو تو تسلیم نہیں کرتی جس کے شدت پسند یا اعتدال پسند قائل ہیں لیکن یہ احیائی بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ ’تاریخی عقلیت‘ کے خول سے باہر نہیں نکلتی اور اس کے اجتہاد و تجدید کا دائرہ بھی محدود ہے

اصلاح پسندوں اور معتدل کہے جانے والے طبقات کو ایسا نجات دہندہ خیال کیاگیا جو شدت پسندی سے چھٹکارا دلائے گا، حتیٰ کہ مسلم ریاستوں نے بھی ان پر تکیہ کرلیا کہ شدت پسندی کا حل صرف یہ ہیں۔ لیکن وہ ختم نہیں ہوئی۔ اس کی ایک وجہ تو وہی ہے کہ ان کی اکثریت سیاست ومذہب کے تعلق کی فکر سے دستبردار نہیں، یوں یہ شدت پسندی کی فکری بنیاد کی آبیاری کرتی رہتی ہے۔ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں طبقے ایک ہی مصدر سے تفہیم کشید کرتے ہیں جس کا اظہار تقلید اور حتمیت کی سوچ کی شکل میں ہوتا ہے۔ اس طور اصلاح پسند مذہبی وقت کے حساب سے بظاہر کبھی مختلف تو نظر آسکتے ہیں لیکن ان کی بنیادیں الگ نہیں ہیں۔ اس لیے یہ متشدد بھی ہوسکتے ہیں یا تشدد پر ابھارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر انہیں موقع ملے یا ریاست نرمی کا مظاہرہ کرے تو ان دونوں طبقوں میں فرق کرنا مشکل ہوگا۔ مثال کے طور پر جب وزیراعظم ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں تو یہ دونوں ایک قطار میں نظر آتے ہیں۔ ترکی کے رجب اردغان شروع میں انتہائی معتدل تعارف رکھتے تھے لیکن طاقت کے حصول کے بعد آہستہ آہستہ آنے والی تبدیلی نے ان کی شخصیت بنیادپرست کی سی بنا دی ہے۔

ہم نے تصوف اور تبلیغی جماعت کو بھی شدت پسندی کے توڑ کے طور پر دیکھا حالانکہ یہ بھی حقیقت میں اسی آئیڈیالوجی کے قائل ہیں جو بحران کا سبب ہے، چاہے اس کا پرچار الگ طریقے سے کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تصوف و تبلیغی جماعت کی ’تاریخی عقلیت‘ بھی روایتی ہے جسے ترک کیے بغیر تشدد اور انتہاپسندی کی جڑیں نہیں کاٹی جاسکتیں۔ (’مسلم تاریخی عقلیت‘ ایک جدید اصطلاح ہے جو ایک طرح سے مسلم فکری ونفسیاتی خدوخال کی ترجمانی کرتی ہے۔ اس کے کچھ خصائص ہیں جن کا خلاصہ تجدید او انسانی عنصر سے بُعد کی صورت میں نکلتا ہے۔ اسے ڈاکٹر ارکون اور عابدالجابری نے وضع کیا تھا)

دیکھا جائے تو اصلاح پسند اور روایتی معتدل طبقات شدت پسندوں سے کم خطرناک نہیں۔ خصوصاََ مذہب کے نام پر بننے والی ریاست میں ان کی غیر مسلح تعبیر کی حدود طے کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

پھر بنیاد پرستی کا مقابل کیا ہے؟ لبنانی مفکر رضوان السید کہتے ہیں کہ اس کا متبادل احیائی فکر ہے۔ اس فکر کی دو بنیادی خصوصیات ہیں۔ یہ مذہب اور اس کی اخلاقیات کا عوام کی زندگیوں میں رہنمائی کا کردار تو تسلیم کرتی ہے لیکن سیاست ومذہب کے تعلق کی قائل نہیں۔ اور اس کی دوسری اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ تقلیدی مرجع کو ایک طرف رکھتے ہوئے مذہبی ڈھانچے کی ایسی تشکیل کرتی ہے جس کی اساس آزادی ہے اور نتیجہ ’مسلم تاریخی عقلیت‘ کے خول سے باہر نکلنا ہے جس کی ایک خاص زبان اور نفسیات ہے۔ اس میں حتمیت کی سوچ سے دستبرداری  شامل ہوتی ہے۔ اسے مسلم فکر کی پروٹسٹنٹ تحریک بھی کہا جاسکتا ہے۔ اسلامی تناظر میں برصغیر کے اندر اسے تقریباََ سرسید احمد خان کے مدرسے سے بھی تعبیر کیا جاسکتاہے۔

احیائی فکر ایک جدید انسان کی تشکیل کرتی ہے۔ یہ صرف بحران کا سبب بننے والی آئیڈیالوجی کو ہی ختم نہیں کرتی، بلکہ علم الکلام، فقہ اور مادیت کے حوالے سے بھی سوچ کا ایک نیا سانچہ پیش کرتی ہے۔ یہ ذریعہ بنیاد پرستی اور شدت پسندی کا مستقل سدباب کرتا ہے۔ پاکستان میں احیائی مدرسہ کے نمائندہ افراد موجود رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔ لیکن یہ فکر ادارے کی شکل اختیار نہیں کرسکی۔ ریاست نے بھی اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور نہ اسے آزادی فراہم کی۔ بلکہ یہاں تو یہ مدرسہ اپنی مذہبی فکر کے حوالے سے غیرمعتبر خیال کیا جاتا ہے۔ غامدی فکر سیاست ومذہب کے ویسے تعلق کو تو تسلیم نہیں کرتی جس کے شدت پسند یا اصلاح پسند قائل ہیں لیکن یہ احیائی بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ ’تاریخی عقلیت‘ کے خول سے باہر نہیں نکلتی اور اس کے اجتہاد وتجدید کا دائرہ بھی محدود ہے۔

سیکولرزم اور احیائی فکر کے مابین فرق ہے۔ سیکولرزم آزادی کا ماحول فراہم کرتا ہے اور سیاست ومذہب کے تعلق کی بھی اجازت نہیں دیتا لیکن اس کے ساتھ  یہ شدت پسندی کی خاص تاریخی عقلیت کا علاج بھی نہیں کرتا۔ جیساکہ سیکولرزم کے باوجود یورپ میں بنیاد پرست وشدت پسند موجود ہیں اور کسی حد تک فعال بھی۔ ایک مسلم معاشرے میں مذہبی عقلیت ومسائل کی تشخیص اور  توجییہ کے لیے احیائی فکر ناگزیر ہے۔ البتہ سیکولرزم اور احیائی فکر میں معاونت کا تعلق موجود ہے۔

بہرحال شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اقدامات اور افکار کے حوالے سے اختلاف ممکن ہے لیکن مسلم ممالک میں تجربات سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا علاج اصلاحی تحریک اور روایتی معتدل مذہبی بیانیے سے ممکن نہیں بلکہ احیائی فکر کی آبیاری کی ضرورت ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...