’مشن کشمیر‘: یہ طویل جدوجہد ہے

199

وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے لیے امریکہ میں موجود ہیں۔ اس دورے کو انہوں نے ’’مشن کشمیر‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ انہوں نے پچھلے دو دنوں میں صدر ٹرمپ سمیت دیگر کئی ممالک کی اہم شخصیات کے سامنے اپنے موقف کو پیش کیا۔ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان زیادہ مؤثر انداز میں اور بڑے پلیٹ فارم پر دنیا کے سامنے بھارت کے جبر اور کشمیریوں کے حقوق  کے مسئلے کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اگرچہ ردعمل میں سکوت کی کیفیت برقرار ہے اور اسمبلی میں خطاب کے بعد بھی کسی معجزے کی توقع نہیں، اس سے پہلے ٹرمپ کی مودی کے جلسے میں شرکت نے بھی یہ تأثر چھوڑا ہے کہ پاکستان کو ہزیمت کا سامنا ہے۔ لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستانی اور بھارتی حکام کی آوازوں اور زور میں فرق کے باجود کشمیریوں کے حقوق کا مسئلہ اور اس کی انسانی، اخلاقی اور قانونی حیثیت کا مسلمہ ہونا اپنی جگہ باقی ہے جس کا کسی نے انکار نہیں کیا۔

دونوں ممالک کے مابین طاقت کے توازن میں عدم یکسانیت اور پاکستان کی تشدد پسندی کی شہرت کشمیر کے قضیے میں کامیابی کے حصول کو وقت طلب بناتی ہے کہ یہ جدوجہد طویل ہے، لیکن یہ جدوجہد ناکامی پر منتج نہیں ہوسکتی بشرطیکہ پاکستان اپنی صلاحیتیں منظم اور نپے تُلے انداز میں ایک ادارہ جاتی حیثیت میں صرف کرے۔ اس لمبی جنگ میں سب سے اہم چیز اپنے خول سے باہر اور آسان و دستیاب حدود سے نکل کر مسئلے کو مسلسل اور بلند آواز میں زندہ رکھنا ہے۔

مودی کا امیج عالمی صحافت میں ایک حد تک منفی تأثر رکھتا ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اس پر ایک عرصے سے تنقید ہو رہی ہے۔ اس تأثر کو پختہ کرنے میں بھارت کے سیکولر دانشور طبقے کا حصہ بھی شامل ہے۔ آرٹیکل 370 کی معطلی کے بعد عالمی صحافت میں پاکستان کا کردار نظر آنا چاہیے تھا جو بدقسمتی سے اب تک معدوم ہے۔

اقوام متحدہ کے علاوہ او آئی سی ایک فوری دستیاب فورم تھا جس تک حکومت نے اپنا موقف پہنچایا اور نوٹس لینے کا مطالبہ کیا لیکن دنیا کی دیگر متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں کو اپنے حق میں فعال کرنے کی جامع منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ یہ تنظیمیں دنیا میں رائے عامہ تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسی طرح ماہرین کی طرف سے اپنے سفارتی عملے کو ایک پلان دے کر فعال بنانے کے ساتھ ملک کے اندر غیرملکی سفارتی حلقے سے بہتر رابطہ کاری پر بھی زور دیا جارہا ہے جو یقیناََ مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

اگرچہ اقتصادی توانائی اور تشدد کی شہرت سے چھٹکارا کشمیر کے مسئلے میں پاکستانی موقف کی دنیا میں مقبولیت اور نتائج کے حصول کے لیے لازمی و اساسی عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس مسئلے کو مسلسل زندہ رکھنا بھی ایک چیلنج ہے۔ عالمی صحافت، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور سفارتی حلقے کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری اسے زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے، جس کی حیثیت ایک طویل جنگ میں ہدف کے حصول کے لیے بنیاد کی سی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...