وزیراعظم کا طورخم بارڈر کھولنے کا فیصلہ، ایک شاندار اقدام

422

وزیراعظم عمران خان نے باقاعدہ طور پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان مصروف ترین تاریخی سرحدی گزرگاہ طورخم کو دوطرفہ تجارت اور آمد روفت کیلئے  کھول دیا ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اس دن کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ طورخم بارڈر سرحد کے چوبیس گھنٹے کھلے رہنے سے نہ صرف خیبر پختونخوا اور اس کے قبائلی اضلاع میں خوشحالی آئے گی بلکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مجموعی تجارت میں بھی اضافہ ہوگا۔

گزشتہ برس برسراقتدار آنے کے بعد عمران خان نے نہ صرف افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کا وعدہ کیا تھا بلکہ اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان فری ویزہ ٹریڈ ہو جس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہوں نے سال کے آغاز میں بھی ضلع خیبر کے دورے کے دوران طورخم کو دن رات کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ رواں سال کے  وسط میں پاکستانی وزیر اعظم اور افغان صدر اشرف غنی کے مابین ہونے والی ایک ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین تجارت کو فروغ دینے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ایک ورکنگ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ان کو طور خم بارڈر کو 24 گھنٹے کھولنے کا خیال تب آیا جب انہوں نے وسطی ایشیائی ممالک کے دورے کے دوران یہ دیکھا کہ ان میں سے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ تجارت کے خواہشمند ہیں۔ افتتاحی تقریب میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سے نہ صرف افغانستان کے ساتھ تجارت کو فروع ملے گا بلکہ اس کے ذریعے وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی تجارتی رابطے مضبوط ہوں گے۔

لگ بھگ ایک ارب روپے کی لاگت کے بعد سرحدی گزرگاہ کو دوطرفہ تجارت اور آمدورفت کے لیے 2 ستمبر کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ازمائشی بنیادوں پر ایک ہفتے کے لیے کھول دیا تھا۔ کسٹم حکام کے مطابق ٹریڈ میں اب تک تقریبا 60 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بارڈر پر وفاقی حکومت کے مختلف محکموں بالخصوص کسٹم، تجارت اور ایمگیرشن سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل بھی مکمل ہوچکا ہے۔

گزشتہ ماہ کی 19 تاریخ کو پاکستان نے افغانستان کے صد سالہ جشن آزادی کے موقع پر شمالی وزیرستان کے افغانستان کے صوبے خوست کے ساتھ سرحدی گزرگاہ غلام خان کو بھی خیر سگالی کے طور پر دو طرفہ تجارت کھول دیا تھا۔ غلام خان کی سرحدی گزرگاہ پر دونوں ممالک کے درمیان آمدروفت اور دو طرفہ تجارت کا سلسلہ شمالی وزیرستان میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف 15 جون 2014 کو ضرب عضب کے فوجی کاروائی شروع ہونے کے ساتھ بند ہواتھا۔

دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان لگ بھگ 18 سرحدی گزرگاہوں میں سے طورخم اور چمن کے علاوہ شمالی وزیرستان کی غلام خان اور کرم کی خرلاچی دوطرفہ تجارت کے لیے کھلی ہیں، جبکہ باقی تمام گزرگاہیں 2015 سے ہر قسم کی آمدروفت اور تجارت کے لیے بند پڑی ہیں

خیبر پختونخوا کے تجارتی اور کاروباری حلقوں نے اسے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان گرتی ہوئی تجارت کے لیے نیک شگون قرار دیا ہے اور ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اب نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو فروع ملے گا  بلکہ اس سے وسطی اور جنوب ایشیائی ممالک کے درمیان بھی تجارت اور آمدروفت کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس سے پاکستان کے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں بہت مدد ملے گی۔

حال ہی میں چین کے سفیر یاؤ جنگ نے سی پیک، علاقائی استحکام اور عالمی سطح پر مواصلاتی رابطوں کے بارے میں پشاور یونیورسٹی کے ایریا سٹڈی سنٹر کے زیر اہتمام دو روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پشاور سے کابل تک شاہراہ کی توسیع اور تعمیر بھی سی پیک منصوبے کا حصہ ہے جس سے تاریخی طور پر افغانستان کے ذریعے جنوب اور وسط اشیا کے درمیان تجارت کے ساتھ ساتھ یورپ تک علاقائی تجارت کو فروع دیا جاسکتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی راہداری یعنی ‘ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ’ کا معاہدہ 2010ء میں طے پایا تھا جس کے تحت  افغانستان کے ٹرکوں کو پاکستان کے راستے ہندوستان تک اپنے مال کی رسائی کی اجازت ملی تھی۔ معاہدے کی رُو سے چاروں طرں طرف خشکی سے گھرے افغانستان کو دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے پاکستان کی بندرگاہ استغمال کرنے کا موقع جبکہ اس کے بدلے افغانستان نے پاکستان کو وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی کے لیے زمینی راستہ استعمال کرنے  کا اختیار دیا ہوا ہے۔ اس معاہدے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 7.4 ملین سے بڑھ کر 2015 تک 2.7 ارب تک پہنچ گیا۔ اس حجم کو پانچ ارب ڈالر تک لےکے جانا تھا لیکن حالیہ چند سالوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری سیاسی کشمکش اور تناؤ، بارڈر پر سامان کے آنے جانے میں غیر ضروری تاخی، بھتہ خوری، سخت سیکورٹی اقدامات  سمیت کئی اور وجوہات کی وجہ سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارتی حجم مزید کم ہوکر 2019-18 میں 1.3 ارب ڈالر سطح پر آگیا۔

ضلع خیبر کے سول انتظامی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ طورخم کی سرحدی گزرگاہ پر فرنٹیر کور کے نیم فوجی دستوں کے تعاون سے سیکورٹی کے انتظامات بھی مکمل ہیں، جبکہ پشاور سے طورخم تک امن وامان قائم رکھنے اور سامان سے لدی گاڑیوں کی حفاظت کے لیے مختلف جگہوں پر سیکورٹی اہلکاروں کی چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔ ٹرانسپورٹروں کی تنظیم کے صدر شاکر آفریدی نے سیکورٹی کے انتظامات پ اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سے بالکل مطمئن ہیں اور گزشتہ دو سال میں کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقع بھی پیش نہیں آیا ہے۔ شاکر آفریدی نے طورخم کی سرحدی گزرگاہ کے دن رات کھولنے کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرحد کو مستقل بنیادوں پر کھلا رکھا جائے۔ اس سے ٹرانسپوٹروں اور تاجروں کے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے اور دونوں ممالک کے درمیان خلیج کم ہوگی۔

خیبر پختونخوا کے صنعت وحرفت کےادارے کے سابق صدر زاہد اللہ شینواری نے بھی طورخم کے کھلنے کے فیصلے کا خیرمقدم کر تے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف دو طرفہ تجارت بہتر ہوگی بلکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں خوشگوار تبدیلی بھی آسکتی ہے کیونکہ اس کے سبب دونوں ملوں کے شہریوں کا کا ایک دوسرے کے ساتھ میل جول بڑھے گا۔ اس سلسلے میں اُنہوں نے پاکستان کی جانب سے آمدوفت پر پابندیوں اورافغان باشندوں کو ویزے دینے میں نرمی لانے کا مشورہ دیا ۔ اُنہوں نے افغان حکومت سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی طورخم میں زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان لگ بھگ 18 سرحدی گزرگاہوں میں سے طورخم اور چمن کے علاوہ شمالی وزیرستان کی غلام خان اور کرم کی خرلاچی دوطرفہ تجارت کے لیے کھلی ہیں۔ جبکہ باقی تمام گزرگاہیں 2015 سے ہر قسم کی آمدروفت اور تجارت کے لیے بند پڑی ہیں۔ جس سے پاک افغان سرحد کی دونوں جانب آباد لوگوں، بالخصوص ایک دوسرے کے ساتھ رشتوں میں منسلک خاندانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...