میاں رضاربانی کےکھوئے ہوئے لوگ

467

یہ مٹے ہوئے عام لوگ رضا ربانی کی کہانیوں کے کردار ہیں۔ کوئی گداگر ہے، تو کوئی مزدور، کوئی عصمت فروش عورت ہے ،تو کوئی اغوا شدہ بچہ، کوئی بے روزگار ہے تو کوئی غربت کا مارا ہوا بے کس و مجبور۔لیکن یہ محض زندگی کی کٹھنائیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دینے والے کردار نہیں ہیں

فی زمانہ سیاسی ایوانوں میں میاں رضا ربانی جیسے علم دوست اور باذوق شخصیات کی موجودگی دم غنیمت ہے وگرنہ عام تاثر یہی ہے کہ سیاست وڈیروں جاگیرداروں صنعت کاروں، تاجروں اور سرمایہ داروں کے کھیل کا میدان بن کر رہ گئی ہے جس میں شامل افراد سے علم و ادب اور فنون لطیفہ کے لیے احساس مندی کا تقاضہ ہی عبث ہے کجا کہ ان سے تخلیق نگار یا فن کار ہونے کی توقع کی جائے۔ میاں رضا ربانی سیاست دانوں کی اس کھیپ میں بلاشبہ ایک استثنیٰ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

میاں رضا ربانی اپنے آزادی پسند نقطہ نظر اور جمہوری طرز فکر کے باعث سیاست دانوں کے اس ہجوم میں منفرد اور یکتائے روزگار ہیں۔ ملک میں جمہوریت کے قیام اور بقا کے لیے اُن کی جہد پیہم کی داستان بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں روشن باب کا درجہ رکھتی ہے ۔اس جدوجہد میں انھیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔آپ کی کردار کے استحکام اور سوچ کی پختگی اور سیاسی بصیرت کی آپ کے مخالفین بھی گواہی دیتے ہیں۔

لیکن اب اُن کی ہمہ جہت اور ہمہ رنگ شخصیت کا ایک اور رنگ سامنے آیا ہے ، جس نے اُن کی شخصیت کو پہلے سے زیادہ پر کشش اور جاذب توجہ بنا دیا ہے اوروہ ہے ایک تخلیق کار کا روپ۔ اُن کی کہانیوں کا مجموعہ حال ہی میں Invisible People کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ یہ اُن کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ ہے۔

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے Invisible People سے مراد وہ پچھڑے ہوئے، بے سرمایہ وبے وسائل اور پسماندہ و خستہ حال لوگ ہیں جنھیں ایک شہری کی حیثیت سے تو کیا ، ایک انسان کے طور پر بھی پورے حقوق ملنے کی صورت کبھی ممکن نہیں ہوئی۔ جن کے لیے زندگی کبھی ایک پھولوں بھری سیج نہیں ہوتی۔ جو معاشرے کے پچھلے بنچوں پر بیٹھتے ہیں ،اور جن کے حصے میں ان سہولتوں اور نعمتوں سے محرومی لکھی ہوتی ہے جن کے حصول کے لیے مراعات یافتہ طبقے کو حتی کہ کبھی کوشش بھی نہیں کرنی پڑتی۔

یہ مٹے ہوئے عام لوگ رضا ربانی کی کہانیوں کے کردار ہیں۔ کوئی گداگر ہے، تو کوئی مزدور، کوئی عصمت فروش عورت ہے ،تو کوئی اغوا شدہ بچہ، کوئی بے روزگار ہے تو کوئی غربت کا مارا ہوا بے کس و مجبور۔لیکن یہ محض زندگی کی کٹھنائیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دینے والے کردار نہیں ہیں، یہ کردار حالات کے مطابق فیصلے کرتے، اپنے آپ کو بدلتے ہیں، زندگی کا مقابلہ کرتے ہیں، اور جب زندگی ان سے موافق نہیں رہتی تو احتجاج کرتے ہیں۔ یہ لوگ خواب دیکھتے ہیں، اور اپنی حسرتوں پرماتم بھی کرتے ہیں۔

تاہم مجموعی طورپر ان کرداروں میں مزاحمت کی سکت ایک درجہ پر ختم ہوجاتی ہے کیوں کہ یہ بے وسیلہ لوگ ہیں۔ زندگی کے آلام ان کے دلوں کو مرجھا دیتے ہیں، ان کی آنکھوں سے خواب دیکھنے کی اہلیت چھین لی جاتی ہے۔ ان کے لیے زندگی کابس ایک ہی چہرہ ہے ، تکلیف دہ، الم ناک اور تلخ۔

انھی کرداروں سے میاں رضا ربانی نے اپنی کہانیاں کا تارو پود بُنا ہے۔

کہانی کار نے شاید یہ نقطہ جان لیا ہے کہ زندگی اپنی حقیقی اور خالص صورت میں اپنی نچلی تہوں ہی میں موجود ہوتی ہے اور اس کا اصل چہرہ وہی لوگ دیکھ پاتے ہیں ،جو ان تہوں کے آس پاس جیتے مرتے ہیں ۔ یہی وہ نچلی تہیں ہیں جہاں کہانی کار آپ کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے، اور وہاں کرداروں کی ایک ہمہ رنگ دنیا سے آپ کو متعارف کراتا ہے۔ کہانی کار ان کرداروں کی زندگیوں کی متنوع تصویریں ایسی وضاحت سے پیش کرتا ہے کہ تعین کرنا دشوار ہوجاتا ہے کہ کیا واقعی وہ ان میں سے ایک نہیں ہے۔ کیا واقعی وہ ان کرداروں سے علیحدہ بھی ایک زندگی گزارتا ہے۔ ان کرداروں کی زندگیوں کی مرقع کشی اور ان کے ماحول کی جزئیات ایسی حقیقی ہیں کہ ہر کہانی ایک سچا واقعہ معلوم ہوتی ہے جو کہانی کار کی اپنی ذات پر بیتا ہو۔

ان کہانیوں میں ایک بات صاف ہے کہ میاں رضا ربانی نہ صرف یہ کہ معاشرے کے ایک خاص طبقہ کی تصویر کشی کی بھاری اور دشوار گزار ذمہ داری کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں، بلکہ وہ اس ذمہ داری سے احسن طورپر عہدہ برآ ہونے کی مکمل اہلیت بھی رکھتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ان میں ایک دور بین اور زیرک کہانی کار بیٹھا ہواہے جو کہانی کی بنت کاری کی باریکیوں سے کما حقہ آگاہ ہے ، اور ایک مشاق کاریگر کی طرح باریک جزئیات کو آپس میں جوڑ کر ان سے نت نئی کہانیوں کا جادو جگاتا ہے۔

مثال کے طورپر کتاب میں شامل ایک کہانی ’معصومیت کی گم شدگی‘ کو ملاحظہ کیجئے جس میں ایک عصمت فروش عورت کی زندگی کی روداد بیان کی گئی ہے کہ کیسے بارہ برس کی عمر میں اسے اغوا کیا گیا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس سے ایک شریفانہ زندگی گزارنے کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ وہ اپنے گھر والوں کی طرف سے رد کیے جانے کے خوف اور غربت کی وجہ سے اس تاریک دنیا کی باشندہ اور ایک پیشہ ور عصمت فروش بن جانے پر مجبور ہوجاتی ہے۔

کہانی کا آغاز ملاحظہ کیجئے۔ایک خاص ماحول کی مرقع نگاری ایسی مہارت کے ساتھ کی گئی ہے کہ اس ایک پیراگراف میں آئندہ کہانی کی بنیادی فضا استوار ہوجاتی ہے۔

”بارہ برس کی لڑکی کی تصویر کو احتیاط کے ساتھ ایک پرانے ٹن کے ٹرنک میں محفوظ رکھا گیا ہے۔ یہ ٹرنک، جو وقت گزرنے کے ساتھ پچک گیا اور خراش زدہ ہوچکا ہے، ایک بڑا تالا لگا ہے، وہ اکثر و بیشتر یہ تالا کھولتی اور تصویر کو نکال کر دیکھتی ہے۔ تصویر میں موجود لڑکی مٹی رنگی لمبی قمیض اور شلوار میں ملبوس ہے جس پر پھولدار ڈیزائن بنا ہے۔ وہ لڑکی تصویر کھینچنے والے کی طرف معصومیت بھری کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ یہ تصویر اس کے لئے بہت قیمتی ہے جیسے ایک بے اولاد عورت گود لیے ہوئے اپنے بچے کو سینے سے لگا کر رکھتی ہے۔“

ایسی ہی ایک کہانی ’وہ تاریکی میں ہیں‘ (They are in darkness)کے عنوان سے ہے جس میں ایک بے ماں کے بچے کو اس کے رشتہ دار بردہ فروشوں کو فروخت کردیتے ہیں تاکہ اس کے حصے کی جائیداد پر قبضہ کرسکیں۔ بردہ فروش بچوں سے بھیک مانگنے، چوری چکاری اور عصمت فروشی کا دھندا کراتے ہیں۔ ایسے ماحول میں بچہ خود سے چھوٹی عمر کی ایک بچی کو جسے وہ بہن مان لیتا ہے، اس جہنم سے نکالنے کا عزم کرتا ہے اور وہاں سے بھاگ نکلتا ہے۔ کہانی کا اختتام بچے کی موت پر ہوتا ہے جب ایک کار اسے کچل دیتی ہے۔

بھوک، غربت، بے حسی، جرم،خوابوں کی ٹوٹ پھوٹ ، وہ تارو پود ہیں جن سے یہ کہانیاں بنی گئی ہیں جب کہ لکھنے والی کی انسان دوستی، محبت اور ہمدردی کے جذبے نے ان میں غیر معمولی تاثیر پیدا کردی ہے، کہ قاری، کہانی پڑھنے کے بعد دیر تک اس کے گہرے اور تاریک اثر سے خود کو نکال نہیں پاتا۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ زندگی کے معمول کی عام صورت سے اعلی ادب پیدا کرنا سہل نہیں ہے ، اور اصل میں یہی اعلٰی ادب کی اصل پہچان بھی ہے کہ وہ زندگی کی عمومیت میں سے خصوصیت تلاش کرے، عام زندگی سے خاص بات کشید کرے اور بظاہر معمولی واقعات اور کرداروں سے جنھیں ہم عام طور پر توجہ دیے بغیر نظر انداز کردیتے ہیں ، جاذب توجہ کہانیاں اخذ کرے ۔ میاں رضا ربانی کی کہانیاں مختصر مگر جامع اور پر تاثیر ہیں ۔ یہ تاثیر تحریر میں لائی نہیں جاسکتی، اگر آپ کے لفظوں کے پیچھے راست جذبے کی قوت کارفرمانہ ہو، اور راست جذبہ صرف ایک باطن سادہ و صحیح پر ہی ورود کرتا ہے ، یہ ایسا ہما ہے جو ہر کسی کے سر پر نہیں بیٹھتا ، بلکہ صرف اُن کے سروں پر جو انتخاب کی زد میں آجائیں۔ اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ میاں رضا ربانی ایک ایسے ہی منتخب شدہ کہانی کار ہیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...