ڈراؤنا اور دہشت خیز جھٹکا

ڈیوڈ ہرسٹ

182

’’ڈراؤنا اور دہشت خیز جھٹکا‘‘

یہ الفاظ پینٹاگون نے تب استعمال کیے تھے جب طاقت کے بھرپور اختیار کے ساتھ اس نے صدام حسین کو نشانہ بنایا تھا۔ محض دو صدور کے وقفے کے بعد یہ الفاظ واپس پینٹاگون کی عمارت میں سنائی دیے ہیں۔

لیکن اس بار ڈراؤنا اور دہشت خیز جھٹکا ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرخارجہ مائک پومپیو کو ایران نے دیا ہے۔ واشنگٹن نے نہیں، تہران نے انتہائی پھرتی اور مہارت کے ساتھ کاروائی عمل میں لا کے اپنے دشمن کو چونکا دیا ہے۔ اس سے بڑے دہشت خیز جھٹکے اور خوف کی دھاک کا مظاہرہ کیا ہوسکتا ہے کہ سعودی عرب کے اندر تیل کے دو بڑے ٹرمیلنز کو ضرب لگادی گئی۔

  • ڈرونز یا میزائل کہاں سے آئے؟

امریکا کی طرح سعودی عرب نے نے بھی دنیا کی توجہ ایران کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی۔ لیکن تھوڑا سا شبہ موجود ہے کہ استعمال کیے گئے بعض ڈرونز یا میزائل کویت کی فضائی حدود میں سے گزرے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جنوب میں عراق کی سمت سے آئے۔

کویت، عراق اور سعودی عرب کی سرحد کے پاس سے اس حملے کی ایک شہادت بمع ریکارڈنگ کے سامنے آئی ہے۔ اس کا عینی شاہد پرندوں کا شکاری ایک فرد ہے۔ تین کلپس میں یہ سُنا اور محسوس کیا جاسکتا ہے کہ نچلی پرواز کے ان ڈرونز یا میزائل کا رخ جنوب کی طرف تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں شکاری چار سے پانچ چھوٹے طیاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس وقت وہ سالمی مقام کے نزدیک تھا جو تینوں ممالک کی سرحد پر ملتا ہے۔

امریکا نے پہلے جو سیٹلائٹ تصویریں جاری کیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ آئل ٹینک شمال مغربی سمت سے نشانہ بنائے گئے ہیں، یہ اس بات کی شہادت تھی کہ میزائل عراق سے فائر کیے گئے، نہ کہ مشرقی سمت ایران سے۔ تاہم امریکا نے تھوڑی ہی دیر میں اپنے موقف سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ حملہ ایران یک طرف سے کیا گیا ہے۔

ایرانی نقطہ نظر سے سب سے لطف انگیز چیز حملے کے بعد عراقی وزیراعظم اور مائک پومپیو کے مابین پیدا ہونے والا تناؤ تھا۔

عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کا بیان جس کی وجہ سے امریکیوں کو اپنے پہلے موقف سے رجوع کرنا پڑا انکار اور دھمکی کا ملاجلا ردعمل لیے ہوئے تھا۔ انہوں نے ایک تو امریکی انٹیلیجنس کے موقف کے برخلاف صاف انکار کیا کہ حملے میں عراقی سرزمین استعمال ہوئی اور اس کے ساتھ انہوں نے بطور پراکسی عراقی سرزمین کو استعمال کرنے والے ہر عنصر کو دھمکی بھی دے ڈالی، جو کسی بھی اور فرد کے علاوہ پومپیو کے لیے بھی تھی۔

  • ایک اور خلیج جنگ

کچھ ماہ قبل امریکا نے عراقی وزیراعظم عبدالمہدی سے عراق میں موجود ایرانی حمایت یافتہ جماعت حزب اللہ کو نشانہ بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ یہ وہی سرزمین ہے جہاں سے سعودی آئل ٹرمینلز پر حملہ کیاگیا ہے۔ عبدالمہدی نے پومپیو کو اس سے باز رہنے پر قائل کرلیا تھا۔ لیکن امریکا نے شام میں کردوں کی زمین سے اسرائیلی ڈرونز کے ذریعے ایرانی حمایت یافتہ ایک جماعت الحشد الشعبی کو عراق میں نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے بعد عبدالمہدی کو اپنے مقامی سیاسی حلیفوں کی جانب سے سخت دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں اس پر مجبور کیا گیا کہ وہ واضح طور پہ اسرائیل کا نام لیں۔ لیکن انہوں نے عین انہی اسباب کی وجہ سے نام لینے سے انکار کردیا جن کی اساس پر وہ آج سعودی حملوں کے بعد انکار کر رہے ہیں۔

خطے میں امریکا کے سب سے نمایاں حلیف کا نام لے لینے کا مطلب اپنی سرزمین پر ایک جنگ کا اعلان ہوتا جو وہاں بیٹھے امریکی فوجیوں اور بہترین تربیت یافتہ الحشدالشعبی کے مابین ہوتی جسے وہ اپنی قومی فوج کا حصہ بنانے کے لیے تگ ودو کر رہے ہیں۔

کیا امریکا حقیقت میں چاہتا تھا کہ ایسا ہوجائے، کیا وہ اس کے لیے تیار تھا؟ اور اس سے ہٹ کر کیا عراقی وزیراعظم جو دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے والے ہیں وہ ایک اور خلیج جنگ کے کی سکت رکھتے ہیں، کیا اس ملک کو کم ازکم اس صدی میں اتنی جنگ اور اس کی تباہ کاری کافی نہیں؟

عبدالمہدی بجاطور اپنے موقف پر درست تھے۔

ٹرمپ اور مائک پومپیو نے کاروائی کے لیے اِدھر اُدھر بہت ہاتھ پاؤں مارے۔ لیکن انہیں کوئی مثبت جواب اور راستہ نہیں ملا۔ جیساکہ اب بھی نہیں مل سکا۔

  • ایکدم تیار اور مستعد

اب تک ایران اور اس کے مسلح حمایت یافتہ گروہوں نے یمن اور عراق میں کئی امریکی ڈرونز گرا چکے ہیں۔ اماراتی ساحلوں پر آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا، برطانوی بحری ٹینکر کو قبضے میں لیا۔ ائرپورٹس، پائپ لائنز اور آئل ٹرمینلز پر حملے کیے اور اب طویل خلیجی جنگ کی تاریخ میں پہلی بار سعودی عرب کے اندر اس کی آئل کمپنی پر زبردست ضرب دے ماری۔

عراق ایران جنگ ہو، کویت پر صدام کے حملے کا وقت، پہلی خلیج جنگ ہو یا دوسری، کسی بھی مرحلے میں سعودی عرب کے تیل کی پیداوار اتنی کم نہیں ہوئی جتنی کہ اس ہفتے ہوئی۔

اس سب کے ذریعے ایران امریکا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے، تمہیں انارکی اور افراتفری چاہیے؟ تمہیں عالمی معاہدوں کی کوئی پروا نہیں، ہمیں پابندیوں میں جکڑنا چاہتے ہو؟ ٹھیک ہے، ہم انارکی اور افراتفری کا ماحول بنادیتے ہیں۔ تمہیں جلد اندازہ ہوجائے گا کہ تمہارے حلیف کتنے بے کس اور کمزور ہیں۔

ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف متعدد عالمی فورمز پر دہرا چکے ہیں کہ ان کا ملک کسی بھی حرکت کا بھرپور جواب دے گا۔ اگست میں انہوں نے اسٹاک ہوم میں کہا تھا، صدر ٹرمپ دوسروں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ قابل اعتبار رہیں، حالانکہ وہ خود کسی پیمان کے پابند نہیں۔ بے اعتباری اور غیرمتوقع پن (Unpredictability) جواب میں ایسی ہی صورتحال کو جنم دیتا ہے، جس کا نتیجہ انارکی اور افراتفری ہے۔

ظریف کی بات پر کسی کان نہیں دھرے، شاید اب ممکن ہو۔

ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے ٹرمپ پر یہ واضح ہوسکتا ہے کہ خطے میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان طاقت کے توازن میں کتنا فرق ہے؟

  • تزویراتی گہرائی

مسلح گروہوں سے تشکیل کردہ اسٹریٹیجک ڈیپتھ نامی عنصر کو تخلیق کرنے میں ایران کی دہائیاں صرف ہوئی ہیں۔ ان گرہوں کو ایران نے مالی اور عسکری تربیت کے ذریعے بہت جدوجہد سے تیار کیا ہے۔ اسے وہ یونہی تو ختم نہیں کردے گا، چاہے اسے اسرائیل کی طرف سے حملوں کا خدشہ ہی کیوں نہ ہو۔

سعودی عرب نے بھی خطے میں اپنے مسلح گروہ تشکیل دیے، خصوصاََ شام میں۔ لیکن اس کی شہرت یہ ہے کہ وہ بہت جلد ان سے دستبردار ہوجاتا ہے اور ان کے مخالفین کی زبان بولنے لگتا ہے۔ شام اور یمن میں یہی ہوا۔

ایران جو دہائیوں سے سروائو کر رہا ہے اور درد برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس نے اپنے بل بوتے پر ایک عسکری انڈسٹری کھڑے کی ہے جو اس کا دفاع کرسکتی ہے۔ سعودی عرب میں ضرب برداشت کرنے کی سکت نہیں۔ جیساکہ ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا وہ امریکی تعاون کے بغیر دو ہفتے بھی جنگ کی تاب نہیں لاسکتا۔

ایران کا علاقائی دفاعی نیٹ ورک فعال ہے۔ اس نے دو بڑی علاقائی عسکری قوتوں، روس اور ترکی کے ساتھ اتحاد بھی کر رکھا ہے جس کی وجہ سے وہ شام میں تادیر سروائو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے مقابل سعودی عرب کا علاقائی نیٹ ورک لڑکھڑا رہا ہے۔ اس کا سب سے قریبی حلیف یمن میں اس سے الگ ہوگیا ہے جس نے سعودیوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔

  • نیا میدانِ جنگ

شام میں تینوں ممالک کے مفادات کے اختلاف کے باوجود ایران نے ترکی اور روس کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کر رکھے ہیں۔ سعودی عرب کو شاید قرب وجوار میں بھڑکنے والے شعلے کافی نہیں لگے کہ وہ جنگ کے نئے میدان تلاش کرنے میں مگن دکھائی دیتا ہے۔

ولی عہد محمد بن سلمان ترکی میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کےبعد بننے والی صورتحال کی وجہ سے ہیجانی کیفیت میں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب ترکی کے خلاف محاذ قائم کرنے کا ارداہ رکھتا ہے۔ سعودی وزیرخارجہ ابراہیم عبدالعزیز نے سائپرس دورے کے دوران اس بات کا اظہار کیا کہ ان کا ملک ترکی کی تیل اور گیس کی تلاش کے اقدام کے خلاف یونانی سائپرسیوں کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔

  • تنہائی کی جانب

یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ سعودیوں کے تحفظ کے لیے ان کے ساتھ کوئی حلیف اور اتحادی کھڑے نظر نہیں آتے۔ وہ اپنے بل پر ایران سے نہیں لڑ سکتے۔ ولی عہد کی بے وقوفی اور ناتجربہ کاری نے پانسہ پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ وہ جنگ جس کے بارے اس کا عزم تھا کہ ایرانی سرزمین پر لڑی جائے گی، اچانک اس کے شعلے سعودی عرب میں بھڑکتے دکھائے دینے لگے۔

ولی عہد کے ساتھ سوائے ٹرمپ کے جو خود ایک متذبذب اور من بے اعتبار شخص ہے کوئی نہیں، اور صدر کے پاس کچھ کرنے کے لیے محمد بن سلمان سے سے کم آپشن ہیں۔ سعودی عرب نے امریکی فوج پر سینکڑوں ملین ریال خرچ کرکے جو سرمایہ کاری کی تھی اس کے بدلے میں ٹرمپ کا رویہ اتنا موزوں نہیں۔

سعودی عرب کے سابقہ حکام کی کوتاہیوں کے باوجود بھی کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے بہرحال خطے میں طاقت کا توازن قائم کر رکھا تھا۔ انہیں بخوبی ادراک تھا کہ متضاد مفادات کے باوجود مختلف عناصر کے ساتھ کیسے پتے کھیلنے ہیں۔

محمدبن سلمان نے محتاط رہنے کی روایتی پالیسی کے تصور کو ہوا میں اڑا دیا۔ اب ان کے ترکش میں چند ہی تیر بچے ہیں۔ یمن، عمان اور اردن مخالف ہیں۔ قطر اور ترکی کھلم کھلا ایران کی صف میں کھڑے ہیں، جبکہ امارات اپنے الگ ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔

ایران کے برخلاف سعودی سخت کوشی کے عادی نہیں اور وہ خطے کی اس جنگ کا میدان مارنے کی اہلیت نہیں رکھتے جو انہوں نے خود شروع کی۔ لہذا اِس ہفتے کے ہونے والے ڈراؤنے اور دہشت خیز جھٹکے کے بعد ایک گہری خاموشی چھائی رہے گی۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ: مِڈل اِیسٹ آئی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...