بنگلہ دیش کی معاشی ترقی میں خواتین کا حصہ، پاکستان کے لیے سبق

محمد ضمیر

198

بنگلہ دیش جس طرح مختلف شعبوں میں ترقی کی منازل طے کررہاہے یہ جنوبی ایشیا کے ممالک کے لیے رول ماڈل ہے۔ مسلم اکثریت رکھنے والا ملک جس کی کُل آبادی 165 ملین ہے  یہ 2008 سے سالانہ چھ فیصد سے زائد کی شرح کے ساتھ اپنی معیشت میں بہتری لا رہا ہے۔ گزشتہ سال  اس کی جی ڈی پی کی  شرح نمو 7.3 تک پہنچ گئی۔ اس وقت بھی اگرچہ بنگلہ دیش کی 26.5 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے جس کا مطلب ہے کہ  ملک کو ابھی مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن یہ اعدادوشماراس اعتبار سے اطمینان بخش ہیں کہ 1992 میں غربت کی شرح 53.6 تھی۔

بنگلہ دیش حکومت 2021 تک ملک کو غریب اور ترقی پذیر ممالک کی فہرست سے باہر نکالنے کا عزم رکھتی ہے۔ تب اسے پاکستان سے علیحدہ ہوئے پچاس برس پورے ہوجائیں گے۔ حکومت نے وژن 2021 کے نام سے ایک منصوبہ بھی شروع کر رکھا ہے جس میں ’ڈیجیٹل بنگلہ دیش‘ کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔

گڈ گورننس کے ساتھ بنگلہ دیش کی  قابل رشک ترقی کے کئی اسباب ہیں جن میں خواتین کو بااختیار بنانے کی جدوجہد بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔’’آدھا آسمانعورتوں کا ہے‘‘ یہ ماؤزے تنگ کا مقولہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین ہر شے میں آدھے حصے کی شراکتدار ہیں۔چاہے فیملی ہو یا معیشت۔خواتین کو باختیار بنانے کے لیے پچھلے چند برسوں میں بنگلہ دیش میں واضح پیش رفت سامنے آئی ہے۔ 2010 میں ورکنگ ویمن کی تعدا 16.2 ملین تھی، جو2017 تک بڑھ کر  18.6 ہوگئی تھی۔ یہ تعداد ملک کے کُل ملازمت کاروں(63.7ملین) کی تعداد کا اٹھائیس فیصد ہے۔ عورتوں کے بااختیار ہونے اور باہر کام کرنے کے اعتبار سے بہتری لانے میں 144 ممالک میں سے بنگلہ دیش کا نمبر 47 واں ہے، جبکہ  بھارت کا 108واں، سری لنکا کا109واں، نیپال کا 111واں، بھوٹان کا 124واں، اور پاکستان 143ویں نمبر پر ہے۔

خواتین کو بااختیار بنانے کی کوششوں کی وجہ سے  ملکی ترقی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اس کی وجہ سے صنفی مساوات  کی خلیج کم ہوئی ہے۔ جینڈر گیپ انڈیکس کے مطابق اس وقت بنگلہ دیش  صنفی مساوات  کو یقینی بنانے کے اعتبار سے جنوبی ایشیا میں  پہلے نمبر پر ہے۔پچھلے سال بھی یہ پوزیشن اسی کی رہی تھی۔خواتین کو بااختیار بنانے یا ضنفی مساوات کا مطلب صرف یہ نہیں کہ خواتین کام کرکے تنخواہ وصول کر رہی ہیں بلکہ  اس کی جانچ کئی پہلوؤں سے کی جاتی ہے  جن میں تعلیم، اقتصادی شراکتداری، صحت  اور سیاسی عمل میں کردار ادا کرنا شامل ہیں۔اس کے ساتھ خواتین کو عزت، وقار اور اچھا معیار زندگی فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

بنگلہ دیش حکومت 2021 تک ملک کو غریب اور ترقی پذیر ممالک کی فہرست سے باہر نکالنے کا عزم رکھتی ہے

ملک کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے۔ ان کو بااختیار بنانے کے عمل میں عالمی پالیسیوں  کا بھی مناسب خیال رکھا گیا  جس سے ان کی اپنی آزاد زندگی کا تحفظ، فیصلہ سازی اور معاشرے میں ان کے اثرورسوخ کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

پچھلے سالانہ بجٹ کی طرح اِس سال بھی بنگلہ دیش کی اسمبلی میں جینڈر بجٹ پیش  کیا گیا۔ اس کا مقصد واضح ہے۔ ملک کی آدھی آبادی کو اعتماد دینا اورانہیں زیادہ سے زیادہ خودمختار بنانا۔  ٹوٹل بجٹ کا 30.82 فیصد مختلف شعبوں میں عورتوں کو باختیار بنانے کے لیے مخصوص کیا گیا جو ملک کی کُل جی ڈی پی کا 5.56 فیصد بنتا ہے۔ ہر وزارت میں خواتین کو فعال بنانے اوران  کے امور میں بہتری لانے  کے لیے اہداف مقرر کیے گئے۔ مثال کے طور پر مختلف شہروں میں 5,292 ایسے مراکز قائم کیے جائیں گے جن میں صنفی امتیاز کی بنا پر ہونے والے تشدد کو روکنے  کے لیے آگہی  دی جائے جائے گی اور اس کی شکار خواتین کی شکایات کا ازالہ کیا جائے گا۔ وزارت سائنس وٹیکنالوجی رواں سال دیہاتوں اور قصبات میں رہنے والی 10ملین خواتین کی انفارمیشن ٹیکنالوجی تک رسائی ممکن بنائے گی۔

خواتین کے تعلیم کی طرف رجحان کی رفتار بہت تیز ہے۔ بنگلہ دیش میں 95.4 فیصد لڑکیاں پرائمری اسکول جاتی ہیں، آج سے دس سال پہلے یہ شرح 57 فیصد تھی۔ سماج میں عورتوں کو فعال اور بااختیار بنانے سے آبادی پر بھی کنٹرول ہوتا ہے جو معیشت کے لیے مددگار ثابت ہوتا ہے۔ آبادی میں بے مہار اضافے سے عوامی خزانے پر بوجھ پڑتا ہے اور زیادہ ملازمتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ 2016 میں پاکستان کے اندر شرح پیدائش پر عورت 3.5 بچے تھی۔ بنگلہ دیش یہ شرح 2.1 ہے۔ بھارت سے بھی کم جہاں پیدائش کا تناسب پر عورت 2.3 بچے ہے۔

ملک کی معاشی ترقی میں ان کی  حصہ داری کا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں اس کی ایکسپورٹ میں گارمنٹس انڈسٹری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، یوں کہ ٹوٹل ایکسپورٹ کا 80فیصد گارمنٹس پرمشتمل  ہوتا ہے اور گارمنٹس سیکٹر میں صرف 15فیصد مرد کام کرتے ہیں، باقی سب عورتیں ہیں۔ کئی فیکٹریوں کی سربراہی خواتین کرتی ہیں، جبکہ رواں سال ایک ٹریننگ پروگرام کے بعد 70مزید فیکٹریوں کی سربراہی خواتین کے سپرد کردی جائے گی۔ 2016 سے اب تک ہوابازی کے شعبے میں 144خواتین کو خصوصی تربیت دی گئی جن میں سے 58  خواتین  39فیصد تنخواہ اضافے کے ساتھ  سپروائزر کے عہدے پر پہنچ گئی ہیں۔

او آئی سی کے انڈیپینڈینٹ پرماننٹ ہیومن رائٹس کمیشن کمیشن نے مسلم ممالک کے حکمرانوں کو یہ تجویز دی تھی کہ وہ اپنے ملک کی جی ڈی پی کا کم ازکم پانچ فیصد عورتوں کی جدید ٹیکنیکل تعلیم پر لگائیں تاکہ وہ ملک کی اقتصادی، سماجی اور ثقافتی ترقی میں برابرکی شریک بن سکیں۔

میک کنسے گلوبل انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ ایشیا پیسیفک ریجن اگر اپنے معاشرے میں خواتین کی شراکت کو یقینی بنائے تو 2025 وہ اپنی مجموعی جی ڈی پی کی شرح کو 4.5ٹریلین ڈالر تک  لے جاسکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ زرخیز خطہ ہے۔ لیکن یہاں بہت سارے ممالک میں عورتوں  کی مردوں کے ساتھ برابری کو قبول عام حاصل نہیں اور نہ ان کےساتھ مساوی سلوک ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش سب کے لیے ایک رول ماڈل ہے جس کی پیروی کرکے اقتصادی حالت کو بہتر سے بہترین کیا جاسکتاہے۔

مترجم: شفیق منصور، بشکریہ ہالیڈے

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...