تمدنی شعور اور شہری ذمہ داریوں کا احساس

248

ہم بطور سماج  اپنے ہر مسئلے کا ذمہ دار ریاست اور اس کے اداروں کو ٹھہراتے ہیں۔ یہ درست  ہوسکتا ہے کہ جب نظام میں خرابی ہو تو اقدار اور تمدنی تقاضوں کا پاس ہر جگہ نہیں رکھا جاسکتا، لیکن اس کے ساتھ کیا یہ بات بھی سچ نہیں کہ ہم تمدنی اور شہری ذمہ داریوں سے مکمل طور پہ دستبردار ہوتے جا رہےہیں۔ اس بارے نہ خود سوچنا ضروری خیال کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں۔ قانون سے بچ نکلنے اور زیادہ سے فائدہ اٹھالینے کو جرم کی بجائے چالاکی اور ذہانت سے تعبیر کرتے ہیں اور یہی تربیت اپنے گھر میں بچوں کی بھی کرتے ہیں۔ ہم سب اکثر یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ کیا کریں نظام ہی ایسا ہے، ایسا کرنا پڑتا ہے،وغیرہ۔ یہ ذہنیت ملک کو صحیح سمت پر ڈالنے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔

ایک صحت مند اور آئیڈیل معاشرہ تمدنی شعور اور شہری ذمہ داریوں کی ادائیگی سے جنم لیتا ہے۔ ہمارے ملک میں قانون پر عملدرآمد نہیں اور تعلیمی اداروں میں  بھی سوکس ایجوکیشن نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے خلا رہ گئے ہیں۔ اس ملک کے بیشتر شہریوں کو اپنی شہری ذمہ داریوں سے آگاہی بھی نہیں اور یہ شعور بھی سرے سے موجود نہیں کہ ترقی اور بہبود، جس کی ہم خواہش کرتے اور مطالبہ کرتے اس کا راستہ یہ ہے۔ اپنی ذات پر کنٹرول اور اپنے رویوں کو اقدار کا پابند بناکر اصولوں کے ماتحت کرلینا سب سے بڑا جہاد ہے۔ اس سے ہم انسانوں کی اور ملک کی خدمت بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں۔ اس کے ثمرات کی برآواری میں بھی کوئی شک شبہ نہیں۔ ساری مہذب دنیا اسی راستے سے چل کر آئیڈیل اور صحت معاشرے تشکیل دینے میں کامیاب ہوئی ہے۔

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ملک میں مجموعی  حالت ایسی ہوگئی ہے کہ احساس تو درکنار، خوف بھی باقی نہیں رہا۔ قانون کو روند ڈالا تو کیا ہوا، دوسرے انسانوں کو مشکل میں ڈال دینے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ پچھلے رمضان میں ہمارے بلوچستان میں ایک وزیر بے مہار گاڑی چلاتے ہوئے  ٹریفک پولیس کے اہلکار کو بے دردی سے کچلتے ہوتے گزر گئے۔ سب شانت رہا۔ اپنی انسانیت ثابت کرنے کے لیے ہم سب نے مل کرسوشل میڈیا پر اس کی مذمت کی۔ وزیر کو کیا سزاملنی تھی۔ کیونکہ اگر انہیں اس کا ذرہ بھی خوف ہوتا تو وہ کبھی ایسی جرأت نہ کرتے۔ احساس تو اس سماج سے جیسے اُٹھ گیا ہے۔ مذمت کرنا بھی ایک روٹین کا کام ہوگیا ہے۔ لوگ اکتانے لگے ہیں۔ پھر یہ ایک فن کی شکل بھی اختیار کرگیا ہے جس میں آہنگ تو نظر آئے گا لیکن احساس نہیں۔ ہم لاقانونیت اور ناہمواریت کے بھی عادی ہوگئے ہیں اور مذمت کرنے کے بھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم زندگی اور اس کی خوبصورتی سے نا آشنا قوم ہیں۔ ہم واپس کیسے زندہ ہونگے؟ تمدنی شعور اور شہری ذمہ داریوں کے احساس سے۔

اپنی ذات پر کنٹرول اور اپنے رویوں کو اقدار کا پابند بنالینا سب سے بڑا جہاد ہے

مذہی طبقہ ہو، سیاستدان ہوں یا کسی بھی اور سماجی شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ، وہ ٹریفک قوانین، نظم وضبط کی پابندی، رہن سہن اور تعامل میں ایک دوسرے کے ساتھ معاونت، پانی ضائع نہ کرنا، راہ چلتے ہوئے  باقی لوگوں کا خیال رکھنا، کھانا ضائع نہ کرنا، قطار میں لگنا، اور ایسے چھوٹے چھوٹے دیگر امور پر گفتگو نہیں کرتے۔ میڈیا پر بھی کوئی پروگرام ان معاملات پر نہیں ہوتا۔ ان امور پر بات چیت کوبہت ساری قدآور شخصیات اپنی تحقیر سمجھتی ہیں۔ جبکہ غور کریں انہی تمام چیزیوں کی رعایت رکھنے سے ایک آئیڈیل معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

آپ باہر نکلیں اور چلتے ہوئے  نوٹ کرتے جائیں کہ کتنے لوگ کچرا کوڑے دان میں پھینکتے ہیں۔ گھر کے اندر اور اسکول میں جب بچے کچرے کو ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینکتے تو پھر سڑک پر بھی ایسا نہیں کریں گے۔ کسی جامعہ کی لائبریری میں بیٹھیں آپ کو کئی طلبہ بات چیت کرتے ملیں گے، اس سے بے نیازی کے ساتھ کہ کوئی اور اس سے ڈسٹرب تو نہیں ہو رہا۔ بس میں ساتھ والی سِیٹ پر بار بار کھانسنے والا اپنے منہ کو نہ دوسری طرف پھیرے گا اور نہ آگے ٹشو یا کپڑا رکھے گا۔ گھروں کے اندر، عوامی مقامات پر یا کسی اور مذہبی یا سماجی احاطے میں راتوں کو بلند آواز کے ساتھ لاؤڈ اسپیکر چلتا ملے گا، یہ نہیں سوچا جاتا کہ ساتھ میں کوئی بیمار ہو سکتا یا ویسے  کسی کا آرام متأثر ہوسکتا ہے۔ منہ دھوتے وقت، برش کرتے ہوئے اور گھروں کا کار پورچ صاف کرتے ہوئے پانی کا نل مسلسل کھلا رہتا ہے۔

تمدنی شعور اور شہری ذمہ داریوں کا احساس پیدا کرنے کے لیے زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد، والدین،اساتذہ ،طلبہ تنظیموں، ڈاکٹرز، مذہبی طبقہ اور سب سے بڑھ کر سیاسی  جماعتوں پر  بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے ذرائع  کے توسط سے شعور و آگہی پیدا کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ معاشرے میں اساتذہ، طلبہ، بالخصوص طلبہ تنظیوں اور سیاسی جماعتوں پہ سب سے زیادہ  ذمہ داری اس لیے ہے کہ وہ مسلسل سماج، سیاست اور شعور و آگہی کے عمل سے جڑے ہوئے ہیں اور ہر وقت  شہریوں اور سماج کے ساتھ رابطہ کاری کے سبب ان کے مسائل سے سب سے زیادہ آگاہ رہنے والے اور اثرانداز ہونے والے لوگ ہیں۔ اب تو طلبہ تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں صرف سیاست پر بات کرتی ہیں اور اپنی اپنی پارٹیوں کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے تک محدود ہیں۔ حالانکہ شہریوں میں تمدنی شعور پیدا کرنا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...