خوفزدہ اقلیتیں

285

گزشتہ روز گھوٹکی میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے ایک اسکول کے پرنسپل پر طالب علم نے توہین رسالت کا الزام لگا دیا جس کے بعد شہر میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق ایک مندر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور ہندو برادری کے گھروں واملاک کو بھی نقصان پہنچایاگیا۔ بعد میں چودہ سالہ طالب علم نے اپنے موقف سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ اس نے غلط بیانی کی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں ایک جلسے میں اپنے بھارتی ہم منصب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اقلیتوں کے ساتھ اس حد تک اچھا سلوک کریں گے کہ پاکستان اس حوالے سے بھارت کے لیے مثال بن جائے گا۔ اس کے بعد انہوں نے ملک بھر میں سکھوں اور ہندو برادری کی عبادت گاہوں کی تعمیر نو اور دیکھ بھال کے احکامات جاری کردیے۔ یقیناََ یہ اقدام مستحسن ہے لیکن اس سے زیادہ ضرورت ایسے نظام کے قیام اور مواقع کی فراہمی کی تھی  جس سے اس طبقے کو مضبوطی اور برابر کے شہری ہونے کا احساس ہوتا اور ان کی سماجی حیثیت میں تبدیلی آتی، لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی اور پہلے کی طرح ایک بار پھر مشتعل افراد کے ایک گروہ نے ہندو برادری کے گھروں و املاک کو نشانہ بنا ڈالا اور ان کے کی جان کو خطرے میں ڈال دیا۔

ان کے تحفظ کے حوالے سے نیشنل ایکشن پلان میں بھی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ سالہا سال سے اقلیتوں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی ایک بھاری بھرکم تاریخ ہے جو ایفا نہیں کی گئی۔ ہم بطور قوم اس طبقے کو بنیادی حقوق دینے میں ناکام رہے۔ ۔حالانکہ اقلیتوں کے مطالبات کوئی بہت بڑے نہیں ہیں۔ وہ صرف بانی پاکستان کے وعدے کے پورا ہونے کی خواہش رکھتے ہیں۔ زندگی کا حق اور برابر کا شہری تسلیم کیا جانا۔ لیکن یقین دہانیوں کے باوجود کوئی سیاسی جماعت اس کو عملی جامہ نہیں پہنا سکی۔

نظری طور پہ دیکھا جائے تو قائداعظم کے اقوال، ملک کے آئین اور سیاسی جماعتوں کے منشور سے اقلیتوں کی داد رسی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے سعی کی تائید ہوتی ہے۔ پاکستان کا انتظامی ڈھانچہ بھی اس طبقے کے تحفظ کی یقین دہانی کرتا ہے۔ اتنے سارے نظری سیف گارڈز ہونے کے باوجود عملاََ اقلیتوں کی جان کا تحفظ تک ممکن نہیں بنایا جاسکتا۔ مشتعل افراد کا کوئی گروہ باہر نکلتا ہے اور پوری انتظامی مشینری کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ریاست یقیناََ اقلیتوں کو تحفظ دینا چاہتی ہوگی اور امن بھی، لیکن یہ ہونہیں پاتا۔ کیونکہ اس نے عملاََ ایک طویل عرصے تک کے اپنے جانبدارانہ رویے کے ذریعے مجموعی طور پہ ملک میں ایسی ذہنیت تیار کرڈالی ہے جو رواداری اور شہری اقدار کے فروغ کے آگے سب سے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے اور وہ جب چاہے جوابدہی کے امکان کے بغیر کسی کمزور طبقے کو نشانہ بنا دیتی ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...