عزیر بلوچ نے جےآئی ٹی کے روبرو کیا کہا ؟ پاکستان تا ایران ۔۔ایک ہوشربا داستان

578

یہ اختلافات دوران تفتیش مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کے نام شامل کرنے پر سامنے آئے تھے جس کے سبب سندھ پولیس کے افسران نے رپورٹ پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا

11 اپریل کی رات ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹ کے ذریعے بیان جاری کیا کہ لیاری کے گینگسٹر عزیر جان بلوچ کو پاکستان آرمی نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے جس کی وجہ ملکی راز یا معلومات دوسرے ملک کی انٹیلی جنس ادارے کو فراہم کرنے کا الزام تھا۔اب ان ہی الزامات کے تحت عزیر بلوچ کا ملٹری ٹرائل ہوگا۔کراچی کے علاقے لیاری کے بے تاج بادشاہ، عزیر بلوچ کی دبئی سے دسمبر 2014 میں مبینہ گرفتاری کے بعد سے ہی ملک کی سیاست میں کھلبلی مچ گئی تھی۔ عزیر بلوچ ماضی میں پیپلز پارٹی سے وابستہ رہا اور پیپلز پارٹی کے اہم رہنما اس سے رابطے میں تھے۔سابق وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ ،فریال ٹالپر ، ذوالفقار مرزا، قادر پٹیل سمیت دیگر رہنما عزیر بلوچ سے ملتے رہتے تھے جن کی تصاویر اور ویڈیوز بھی موجود ہیں۔عزیر کی گرفتاری کے بعد سے ہی خبریں گرم ہوگئیں تھیں اب پیپلز پارٹی کے بڑوں کے نام سامنے آئیں گے کہ ان شخصیات نے کس طرح مبینہ طور پر لیاری کے ڈان کو استعمال کیا۔بالآخرسندھ رینجرزنے گذشتہ سال29 اور30 جنوری کی رات دعویٰ کیا کہ لیاری گینگ وار کے مرکزی کردار کو کراچی میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کرلیا گیا ہے۔عزیر بلوچ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے اسے 90 روز کے لئے رینجرز کی تحویل میں دے دیا۔ اسی دوران پولیس ،رینجرزاور حساس اداروں کے ارکان پر مشتمل جوائنٹ انٹیروگیشن ٹیم نے بھی اس سے تفتیش کی ۔ اس ٹیم میں آئی ایس آئی ، ملٹری انٹیلی جنس ، انٹیلی جنس بیورو، رینجرز، سندھ پولیس کی اسپیشل برانچ ، سی ٹی ڈی اور ساﺅتھ زون پولیس افسر شامل تھے۔ اطلاعات تھیں کہ عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ پر اختلافات ہوگئے ہیں۔یہ اختلافات دوران تفتیش مبینہ طور پر پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کے نام شامل کرنے پر سامنے آئے تھے جس کے سبب سندھ پولیس کے افسران نے رپورٹ پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔ پھرخبریں آئیں کہ معاملات حل کرلئے گئے ہیں اور پولیس افسران نے جے آئی ٹی رپورٹ پر دستخط کردئے ہیں۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایسی دستاویز موجود تھی جس پر سندھ رینجرز، آئی ایس آئی ، ملٹری انٹیلی جنس اورانٹیلی جنس بیورو کے ارکان نے تو دستخط کردیے تھے لیکن سندھ پولیس کے افسران نے آج تک اس پر دستخط نہیں کئے ۔یہ دستاویز تو نامکمل رہی لیکن عزیر بلوچ نے جج کے روبرو وہ تمام باتیں بیان کردیں جو اس دستاویز میں موجود ہیں ۔
اس دستاویز کے مطابق عزیر بلوچ نے دوران تفتیش تہلکہ خیز انکشافات نما دعوے کئے ۔ جے آئی ٹی کے مطابق قادر پٹیل ،سینیٹر یوسف بلوچ، نثار مورائی ، اویس مظفرٹپی اور ذوالفقار مرزا، عزیر بلوچ کوسابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری کے کہنے پرہتھیار اور پیسہ فراہم کرتے تھے ۔عزیر بلوچ نے بتایا کہ ذوالفقار مرزا کے استعفیٰ کے بعد پیپلز پارٹی اور پیپلز امن کمیٹی میں اختلافات پیدا ہوگئے لیکن پھر شرجیل میمن اور اویس مظفرٹپی نے تعلقات ٹھیک کرادئے۔دستاویز یہ بھی بتاتی ہے کہ 2013 کے عام انتخابات سے قبل عزیر بلوچ نے پیپلز پارٹی پر زور ڈالا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے امیدوار اس کی پسند کے ہونگے ۔ اس کی یہ شرط مان لی گئی اور آج لیاری کے قومی اور صوبائی اسمبلی نے ارکان اس کے چنے ہوئے ہیں۔اس دستاویز میں ان تمام سیاسی شخصیات کے بارے میں تفصیل درج ہے جو آپ کی نظر کی جارہی ہے۔

آصف علی زرداری اور فریال ٹالپر

سابق صدر آصف علی زرداری اوران کی بہن فریال ٹالپر کے بارے میں عزیر بلوچ نے دعوی ٰکیا کہ2010 میں سینیٹر یوسف بلوچ نے آصف علی ذرداری کا پیغام پہنچایا کہ ” بڑا صاحب ” (یعنی آصف علی زرداری )مخالفین کی ٹارگٹ کلنگ سے بہت خوش ہے۔ اس کے بعد عزیر بلوچ نے اپنے 14گیگنسٹرز کو ہدایت دیں کہ مخالفین کے قتل کی واردارتوں کو تیز کیا جائے۔2012 میں ایس ایس پی چودھری اسلم کی زیر قیادت کئے گئے لیاری آپریشن کے بعد صوبائی حکومت نے عزیر بلوچ اور اس کے ساتھیوں کی سروں کی قیمت مقرر کردی تھی۔ سینیٹر یوسف بلوچ کی ہدایت پر اس نے حبیب حسن ، ماسٹر خورشید ، پروفیسر عمر لاسی ، مولانا عبدالمجید سربازی اور شاہد ایم سی بی کے ہمراہ وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ اورفریال ٹالپر سے ملاقات کی جس میں سروں کی قیمت مقرر کئے جانے کا نوٹیفیکیشن کینسل کرنے کو کہا گیا۔ 20 دن کے بعد سینیٹر یوسف بلوچ نے عزیر بلوچ کو مطلع کیاکہ نہ صرف سروں کی قیمت کا نوٹیفیکیشن معطل کردیا گیا ہے بلکہ وہ کیسز جس میں حکومت خود مدعی ہے وہ بھی واپس لئے جاچکے ہیں۔2013 میں عام انتخابات کے بعد عزیر بلوچ نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد قائم علی شاہ ، فریال ٹالپر ، سینیٹر یوسف بلوچ، ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا ، شرمیلا فاروقی اور دیگر کو کھانے پر آدم چوک لیاری مدعو کیا۔اس موقع پر فریال ٹالپر نے عزیر بلوچ کو کہا کہ لیاری ہمیشہ پیپلز پارٹی کا قلعہ رہنا چاہیے اور اگر مخالفین دھمکیا ں دیں تو انہیں قتل کردیا جائے۔عزیر بلوچ نے فریال ٹالپر کے ذریعے سعید خان کو چیئرمین فشریز تعینات کرایا۔ اس دو رمیں وہ فشریز سے 20 لاکھ روپے ماہوار بھتا لیتا تھا جبکہ فریال ٹالپر کا حصہ 1 کروڑ روپے ماہا نہ تھا۔

سینیٹر یوسف بلوچ

یہ دستاویز بتاتی ہے کہ ذوالفقار مرزا کے استعفیٰ کے بعد عزیر بلوچ کی سینیٹر یوسف بلوچ سے پہلی ملاقات 2010 میں اس وقت ہوئی جب وہ قادر پٹیل کے ہمراہ اس سے ملنے اس کے گھر گئے۔ یوسف بلوچ ،سابق صدر آصف علی زرداری اور عزیر بلوچ کے درمیان مختلف معاملات پر رابطہ کار کا کردار ادا کررہے تھے۔ یوسف بلوچ کو آصف علی زرداری نے مشن سونپا تھا کہ عزیر بلوچ کسی اور جماعت میں شامل نہیں ہوگا بلکہ پیپلز پارٹی سے ہی وابسطہ رہے گا ۔سینیٹر یوسف بلوچ نے ہی 2013 کے عام انتخابات میں آصف علی زرداری کے ذریعے عزیر بلوچ کے چنے ہوئے شاہ جہاں بلوچ، جاوید ناگوری اور ثانیہ ناز کو الیکشن لڑوایا۔2012 میں عزیر بلوچ پیپلز پارٹی سے ناراض ہو گیا اور اسی دوران متحدہ قومی موومنٹ ،تحریک انصاف، مسلم لیگ نواز کی جانب سے اسے اپنی جماعت میں شامل ہونے کی پیشکشیں کی گئیں۔ آصف علی ذرداری اور فریال ٹالپر نے یوسف بلوچ کے ذریعے پیغام بھجوایاکہ وہ پیپلز پارٹی نہیں چھوڑے گا اوراس مقصد کے لئے سندھ گورنمنٹ کی گریڈ ایک سے چودہ کی500 اسامیاں بھی مختص کر دی گئیں جس میں محکمہ ایجوکیشن کی 130 ،فشریز اور کے ایم سی کی 45 ،45 اسامیاں بھی شامل تھیں ۔

شرجیل میمن

عزیر بلوچ نے دعویٰ کیا کہ 2011 میں دو خواتین نے سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن سے رابطہ کیا اور اپنے بھائی کی شکایت کی وہ ان کو جائیداد میں ان کا حصہ نہیں دے رہا۔ شرجیل میمن نے عزیر بلوچ سے رابطہ کیا اورخواتین کے بھائی سے 50 لاکھ روپے بھتہ طلب کرنے کو کہا۔عزیر بلوچ نے یہ معاملہ حل کرادیا اور خواتین نے اسے 50 لاکھ روپے دئے جس میں سے 30 لاکھ روپے اس نے شرجیل میمن کے حوالے کردئے۔عزیر بلوچ کے مطابق اس نے شرجیل میمن کے کہنے پر کھارادر کی ایک پارٹی کی دوکان کی ملکیت کا مسئلہ حل کرایا ۔عزیر نے یہ کام اپنے ساتھی استاد تاجو کے حوالے کیا جس نے دونوں پارٹیوں سے 40 لاکھ روپے لئے جس میں سے 20 لاکھ روپے شرجیل میمن کوا داکئے گئے۔

اویس مظفر ٹپی

عزیر بلوچ کے مطابق اس کا رابطہ اویس مظفر ٹپی کے ساتھ تھاجو آصف علی ذرداری کے قریبی آدمی تھے۔اویس ٹپی سندھ حکومت کے تمام معاملات چلاتے تھے کیونکہ سندھ کے وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ محض ٹوکن وزیر اعلیٰ تھے۔اویس مظفر ، عزیر بلوچ سے مسلح افراد کے ذریعے زمینوں پر قبضے کے لئے اس سے رابطے میں رہتے تھے۔اویس مظفر نے عزیر بلوچ کے گینگسٹرز کی مدد سے بلاول ہاﺅ س کے اطراف میں واقع 40 بنگلوں کے مالکان پر دباﺅ ڈالا کہ وہ اپنے بنگلے بیچ دیں جنہیں آصف علی ذرداری نے معمولی قیمت پر خرید لیا۔

ذوالفقار مرزا

اکتوبر 2010 کے سانحہ شیر شاہ کباڑی مارکیٹ کے بعد ذوالفقار مرزا نے عزیر بلوچ کو فون کیا اور کہا کہ وہ اپنے ایک ساتھی کے قتل کے بدلے میں مخالفین کا ایک آدمی مار سکتا ہے لیکن اس طرح ایک ساتھ لوگوں کے قتل سے پیپلز پارٹی کے لئے مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں۔واضح رہے کہ 20 اکتوبر 2010 کو مسلح افراد کراچی کی علاقے شیر شاہ میں واقع کباڑی مارکیٹ میں داخل ہوئے اور دکانوں پر بیٹھے افرادپر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس میں 12 افراد قتل ہوگئے تھے اور شہر میں شدید کشیدگی پھیل گئی تھی۔

قادر پٹیل

عزیر بلوچ نے دعویٰ کیاکہ 2010-2011 میں قادر بلوچ نے عزیر بلوچ کو رزاق کمانڈو کو قتل کرنے کو کہا کیونکہ اس نے قادر پٹیل کے کوارڈینیٹر ایدھی امین کا قتل کیا تھا۔ 2011 میں جبار لنگڑا اور بابا لاڈلانے رزاق کمانڈو کے بھائی جلیل کو عمر لین لیاری سے اغوا کرلیااور پھر قادر پٹیل کے حکم پر اسے قتل کرکے لاش نامعلوم مقام پر ٹھکانے لگادی۔قادر بلوچ نے 2012 میں ہاکس بے روڈ پرایک حکومتی زمین پر 99 سال کی لیز کے جعلی کاغذات کے ذریعے قبضہ کرلیا۔قادر بلوچ اس زمین پر بانڈری وال کھڑی کروارہے تھے لیکن لیاری گینگسٹر شیراز کامریڈ کی طرف سے رکاوٹ ڈالی گئی۔ قادر پٹیل نے عزیر بلوچ سے مدد کی درخواست کی جو اسے مہیا کردی گئی جس کے عوض عزیر بلوچ کو 50 لاکھ روپے ادا کردئے گئے تھے۔ مواچھ گوٹھ میں عبد الحق نامی افسر نے دو ایکڑ کی سرکاری اراضی پر قبضہ کرلیاتھا ۔ قادر پٹیل نے وہ زمین اپنے دوست حبیب جوکھیو کے نام پر 99 سال کی لیز پر الاٹ کرالی لیکن وہ عبد الحق سے وہ زمین خالی کرانے میں ناکام رہے ۔ قادر پٹیل نے عزیر بلوچ سے رابطہ کرکے اس کی مدد سے اس زمین کا قبضہ حاصل کیاجس کے لئے عزیر بلوچ کو 28 لاکھ روپے ادا کئے گئے۔

ناردرن بائی پاس کے قریب کچھ سر کاری اراضی پر بہار کالونی کے رہائشی لینڈ گریبر اقبال نیازی نے قبضہ کیا ہوا تھا ۔ قادر پٹیل نے عزیر بلوچ کو کام سونپا کہ وہ اقبال نیازی کومجبور کرے وہ اس زمین کو خالی کرے ۔معاوضہ کے طور پر قادر پٹیل نے اقبال نیازی کو 50 لاکھ روپے اور عزیر بلو چ کوزمین کا قبضہ دلانے کے لئے 30 لاکھ روپے ادا کئے۔قادر پٹیل 500 کوارٹرزمیں قبضہ کی گئی زمین پر باﺅنڈری وال تعمیر کرارہے تھے تو اسی دوران عزیر بلوچ سے کہاکہ کام کے دوران لیاری کے گینگسٹرز کام میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ اس مقصد کے لئے عزیر بلوچ کو 60 لاکھ روپے بھتے کی مد میں ادا کئے گئے ۔

ایرانی انٹیلی جنس کے افسران سے رابطہ

کراچی آپریشن کے بعد 2014 میں عزیر بلوچ اپنے ساتھیوں بشمول وسیع اللہ لاکھو، ایاز زہری اور سلیم کے ہمراہ ایرانی شہر شار میں اپنے کزن جلیل کے گھر پر رہ رہا تھا۔ایک دن وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سمندر کی سیر کو روانہ ہوا تو ایرانی پولیس نے شناخت کے لئے روک لیا جہاں عزیر بلوچ اور سلیم تو پولیس کو چکمہ دے کر فرار ہوگئے لیکن وسیع اللہ لاکھو اور ایاز زہری کو پولیس نے پکڑ لیا۔ عزیر نے اپنے ایک دوست مالک بلوچ سے رابطہ کیا جس نے حاجی ناصر نامی شخص کو ان افراد کو رہا کروانے کاکام سونپا جس کے بعد اس کے دونوں ساتھیوں کی رہائی ممکن ہوئی۔ عزیر بلوچ نے بتایا کہ حاجی ناصر پاکستان کے علاقے مند کا رہنے والا ہے اور اس کے پاس ایرانی شہریت بھی ہے ۔ حاجی ناصر کی مستقل رہائش ایران کے دارلحکومت تہران میں ہے جہاں اس کی زمین اور کاروبار بھی موجود ہے۔ 2014 میں عزیر بلوچ اپنے دوست مالک بلوچ کے ہمراہ چاہ بہار میں رہائش پذیر تھا جہاں حاجی ناصر سے پہلی دفعہ ا س کی ملاقات ہوئی اور اس نے عزیر کونہ صرف مستقل طور پر ایران منتقل ہونے کی پیشکش کی بلکہ اسے رہنے کے لئے تہران میں بلا معاوضہ بنگلہ بھی فراہم کرنے کی آفر کی ۔ حاجی ناصر نے عزیر کو بتایا کہ اس کے ایرانی انٹیلی جنس افسران سے اچھے تعلقات ہیں اور وہ اس کی ان افسران سے ملاقات کراسکتا ہے۔ عزیر کے حامی بھرنے کے بعدحاجی ناصر نے ایرانی افسران سے اس کی میٹنگ کرادی۔ ان افسران نے عزیر سے پاکستان کے مسلح افواج کی افسران سے متعلق اور مجموعی طور پر کراچی کے سیکورٹی کے حالات پر معلومات طلب کیں۔

ایم کیوایم کے ارکان کاایرانی انٹیلی جنس کے افسران سے رابطہ

اس دستاویز کی مطابق جون 2014 میں ایم کیو ایم کے رہنماﺅں بشمول سعید بھرم ، انور قائم خانی، ساجد شٹرواورممبر صوبائی اسمبلی دلاورنے حاجی ناصر سے ایرانی علاقے چاہ بہار میں ملاقات کی جہاں انہوں نے حاجی اور اس کے بیٹے کے ہمراہ کچھ دن قیام کیااور وہیں عزیر بلوچ کی ایرانی انٹیلی جنس افسران کی موجودگی میں ایم کیوایم کے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔

ایرانی دستاویز کا حصول

عزیر بلوچ نے دوران تفتیش ایرانی شناختی دستاویز کی تیاری کے بارے میں بتایا کہ ا س کی خالہ مستقل طور پرایران میں رہائش پذیر ہیں اور ان کے پاس ایران اور پاکستان دونوں ممالک کی شہریت ہے۔1980 میں ان کے بیٹے عبدالغنی کا 14,15 سال کی عمر میں انتقال ہوگیا تھا ۔1987 میں خالہ نے عزیر بلوچ کی تصویر حاصل کرکے اپنے بیٹے کے نام پر عزیر بلوچ کا جعلی برتھ سرٹیفیکیٹ بنوا دیا ۔2006 میں لیاری میں جب جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشن شروع ہوا تو عزیر بلوچ اپنے کزن جلیل کے ہمراہ ایران فرار ہوگیا اور وہاں پہنچ کر اپنی خالہ کی مدد سے ایرانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے لئے اپلائی کردیا جو اسے کچھ دنوں بعد مل گیا۔-102009 میں عزیر بلوچ کے ایرانی پاسپورٹ کی معیاد ختم ہوگئی چنانچہ وہ عبدالصمد نامی ساتھی کے ہمراہ ایک کار میں کراچی سے ایران چلا گیا جہاں اس نے اپنے ایک دوست صابر عرف صابری کی مدد سے ایرانی پاسپورٹ کی تجدید کرالی۔

نوٹ :اس دستاویزمیں موجود دعوے اور اپریل 2016 میں جج کو دیے گئے بیانا ت اپنی جگہ ، لیکن عدالتی فیصلے دعوے اور بیانات نہیں ٹھوس شواہد کو مدنظر رکھ کر دئے جاتے ہیں ۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...