ایڈم سمتھ نے کن بنیادوں پر نوآبادیاتی نظام، غلامی اور نسلی برتری کے نظریات کو رد کیا؟

563

ولیم ایسٹرلی کا ذیل میں دیا گیا پیپر انتہائی اہم ہے جو دس ستمبر 2019 کو یعنی محض تین دن پہلے شائع ہوا ہے۔ اس پیپر میں ایسٹرلی نے یہ بحث کی ہے کہ آخر وہ کونسی اخلاقی بنیادیں ہیں جن کی بنیاد پر ایڈم سمتھ نے نہ صرف کولونیل ازم (نو آبادیاتی نظام ) اور غلامی (Slavery ) کے ادارے کا رد کیا بلکہ یہ بات ماننے سے انکار کر دیا کہ غیر سفید نسلیں ذہنی اور تہذیبی طور پر سفید فام نسلوں سے کمتر ہیں۔

اپنی کتاب “ویلتھ آف نیشن” میں جو کہ فری مارکیٹ کیپیٹلزم کی پہلی نمائندہ کتاب ہے میں سمتھ نے اس طرز مطالعہ کو چیلنج کیا کہ جو فرد (Individual) کے متنوع رویوں کو نظرانداز کرتے ہوئے محض پورے گروپ (قوم ، نسل ، طبقہ  ) کے کردار (behavior ) کو بنیاد بناتا ہے۔ سمتھ ایک گروپ کو یکساں خصوصیات کا حامل نہیں سمجھتے بلکہ ان کے خیال میں ایک گروپ میں موجود افراد کے رویوں میں تنوع پایا جاتا ہے۔

سمتھ نے بار بار لکھا ہے اپنی کتاب میں کہ جس طرح سفید نسل کے لوگوں کو حق انتخاب حاصل ہے اور جس طرح وہ اس حق کے استعمال کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ اسی طرح غیر سفید نسل کے لوگ یہاں تک کہ کالے غلام بھی اسی حق کے استعداد کے بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں اس کا حق ہونا چاہئے۔

یہ وہ دور تھا جب مغرب کا تقریبا پورا دانشورانہ تمدن یہی سمجھتا تھا کہ غیر سفید نسلیں غیر مہذب اور نااہل ہیں، یہ حق انتخاب نہیں رکھتیں اور سفید فام نسلوں کو چاہئے کہ ان کی تربیت کریں۔ سمتھ اس تصور کو نہ صرف چیلنج کرتے ہیں بلکہ وہ فلسفی ہیوم (جو سفید فام نسل کی برتری کا قائل تھا ) کو کہتے ہیں کہ اگر وہ غلام پیدا ہوتا، اسے وہ تعلیم اور ماحول نہ ملتا جو اب ملا ہے تو وہ کبھی فلسفی ہیوم نہ بن سکتا۔ سمتھ کہتے ہیں کہ غلام اس لئے ہمیں کمزور محسوس ہوتے ہیں کیونکہ انہیں ہماری طرح مواقع حاصل نہیں، انہیں تعاون و تبادلے کی وہ سہولت حاصل نہیں جو ہمیں حاصل ہے۔ یہ اس لئے محنتی نہیں کیونکہ اگر وہ محنت کر کے زیادہ پیداوار حاصل کریں گے وہ تو اس کا آقا لے جائے گا۔ وہ اگر اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بھرپور طور پر استعمال بھی کریں تو اس کا ان کے لئے کیا فائدہ ہے؟

سمتھ اپنے اخلاقی تصورات کی بنیاد معاشیات (اکنامکس) پر رکھتے ہیں اور اپنے تمام تصورات کی وضاحت کے لئے وہ اکنامکس سے ہی مثالیں دیتے ہیں

یوں تو سمتھ کی پوری کتاب اور ایسٹرلی کا یہ پورا پیپر ہی دلچسپ ہے مگر میرے لئے اس ضمن میں سب سے زیادہ حیران کن باتیں دو ہیں:

ایک : سمتھ یہ ماننے سے انکار کر دیتے ہیں کہ مغربی سیاسی اور سماجی ادارے دراصل مغربی شہریوں کی بھرپور ذہنی و اخلاقی استعداد کے سبب ہیں – وہ انہیں designed ماننے سے نہ صرف انکار کر دیتے ہیں بلکہ انہیں واحد سٹینڈرڈ بھی نہیں سمجھتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ چند مخصوص جغرافیائی اور تاریخی اسباب جو صدیوں سے اثرانداز ہو رہے ہیں کی وجہ سے یہ ادارے وجود میں آئے ہیں۔ یوں وہ وہی بات کر رہے ہیں جو گزشتہ صدی میں ہائیک نے spontaneous ordering  (سوسائٹی کا خود کار نظم ) کے نام سے کی۔ اگر ہائیک کی ہی مثال کو آگے بڑھایا جائے تو پوری بات اس طرح بنتی ہے کہ جس طرح ایک سوسائٹی میں زبان (لینگویج ) صدیوں کے ارتقاء سے وجود میں آتی ہے بالکل اسی طرح ادارے وجود میں آتے ہیں۔ سمتھ کہتے ہیں کہ ان اسباب کا سامنا اگر کوئی اور نسل کرتی تو وہ بھی اسی طرح قابل ہوتی اور اس کے بھی اسی طرح سیاسی و سماجی ادارے ہوتے – یوں سمتھ کسی ایک ثقافت کو حتمی نہ مانتے ہوئے ان کے درمیان مقابلے (Competition ) کا قائل ہے اور سمجھتا ہے کہ اس مسابقت میں ہی پوری انسانیت کی فلاح ہے۔

دوسری حیرت انگیز بات یہ کہ سمتھ اپنے اخلاقی تصورات کی بنیاد معاشیات (اکنامکس ) پر رکھتے ہیں اور اوپر دیئے گئے اپنے تمام تصورات کی وضاحت کے لئے وہ اکنامکس سے ہی مثالیں دیتے ہیں۔

سمتھ کو سمجھنے کے لئے مشہور معیشت دان ولیم ایسٹرلی کا یہ مضمون انتہائی اہم ہے۔ خود ایسٹرلی بھی سمتھ کی کتاب ویلتھ آف نیشن کو پڑھنے کے بعد کہتے ہیں کہ میں سمجھتا تھا ڈویلپمنٹ اکنامکس کا آغاز جنگ عظیم دوم کے بعد سے ہے جب اقوام نو آبادیاتی نظام سے آزاد ہوئیں اور ان کے درمیان مسابقت کا آغاز ہوا، مگر یہ کتاب پڑھنے کے بعد میں (ایسٹرلی ) کہتا ہوں کہ اکنامکس کی اس اہم شاخ کا آغاز بھی سمتھ سے ہی ہے۔

ایسٹرلی کا مضمون پڑھنے کے لئے یہ لنک استعمال کریں https://link.springer.com/article/10.1007/s11138-019-00478-5

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...