سی پیک: اہداف، وعدے اور خدشات

شیری رحمان

261

دنیا میں طاقت کے بدلتے توازن، پاکستان پر اس کے اثرات اور کشمیر بحران کے تناظر میں پاک چین اقتصادی راہداری ملک  کے لیے واحد اُمید کی کرن کے طور پر سامنے آتی ہے۔ یہ دنیا میں دو طرفہ سرمایہ کاری کے اعتبار سے سب سے بڑا زیرتکمیل پروجیکٹ ہے، تاہم پاکستان میں اس کی فعالیت کے حوالے سے مسلسل سوال اٹھائے جارہے ہیں اور شکوک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس سے جڑی توقعات اور وعدوں کا حجم اس قدر  وسیع ہے کہ انہیں دیکھتے ہوئے بلامبالغہ حیرت اور اطمینان کا احساس ایک ساتھ جاگزیں ہوتا ہے۔ ابتدائی مرحلے کے18.9 ارب ڈالر کے منصوبہ جات پر پاکستان میں کام شروع ہے، اس صورتحال میں اسلام آباد کو مزید تیز رفتاری اور پھرتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یہ پاکستانی حکومت کی صلاحیت واہلیت کا امتحان ہے کہ وہ اس سنہری موقع سے کس حد تک فائدہ اٹھا سکتی ہے۔

چار دہائیوں کے اندر اپنے 800 ملین شہریوں کوغربت کے حصار سے باہر نکالنے کا چینی کارنامہ پاکستان کے لیے ایک ممکن الوجود و لائق اتباع ماڈل ہے۔ تاہم معاشی استحکام کے لیے آئی ایم ایف کی لاگو کردہ سخت شرائط و گائیڈ لائن کی وجہ سے ملک میں اقتصادی ترقی کی رفتار پہلے سے بھی زیادہ سست روی کا شکار ہوئی ہے۔ اگرچہ مرکز کا دعویٰ ہے کہ سی پیک منصوبوں پر اس کے اثرات نہیں پڑے ہیں، لیکن صوبائی دارالحکومتیں اس کے برخلاف سوچتی ہیں۔

بڑے پروجیکٹس میں سے انفراسٹرکچر اور انرجی کے منصوبے سرفہرست ہیں۔ تھرکول سے  توانائی کی پیداوار شروع ہے اور اس سے نیشنل گرڈ کو بجلی کی فراہمی کی جا رہی ہے۔ بعض ذمہ داران کا کہنا ہے کہ سی پیک کے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے اسلام آباد کا جوش ,خروش ٹھنڈا پڑ گیا ہے اور دیگر پروجیکٹس پر کام نے اسے ترجیحی امور میں نیچے کی جانب دھکیل دیا ہے۔ اسی دوران اسے بھی کسی طرح نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ سی پیک اپنے معاشی اثرات کے اعتبار سے اس قابل ہے کہ اسے گیم چینجر  خیال کیا جاسکے۔ تیزی  کے ساتھ بڑھتی آبادی والے معاشرے میں بری طرح روپے کی گرتی قدر اور پبلک فنانس میں مسلسل خسارے  کی وجہ سے جس ابتر اقتصادی صورتحال کا سامنا ہے اس میں چین کی سرمایہ کاری سے ہونے والی بہتری قحط میں بارش کے قطرے کی طرح ہے۔ محتاط اندازوں کے مطابق اس بات کی ضمانت موجود ہے کہ  2030 تک  پاکستان کی جی ڈی پی میں 8 سے 10 فیصد اضافہ ہوجائے گا۔ لیکن طے کیے گئے اہداف کے  حصول کے لیے ضروری اقدامات رُوبہ عمل لانے کے لیے اسلام آباد کی طرف سے ظاہر ہونے ہوالی عدم دلچسپی کے سبب مستقبل میں یہ بھی امکان موجود ہے کہ اس حد تک بہتر نتائج  حاصل نہ کیے جاسکیں۔

اگرچہ پاکستان کی نئی معاشی پالیسی  کے مطابق غالب گمان تو یہ ہے کہ  منصوبوں کے حوالے سے جن اصلاحات کا وعدہ کیاگیا تھا ان پر کام شروع کردیا جائے گا، لیکن مسئلہ یہ بھی ہے کہ ممکنہ اہداف کی نوعیت ابھی تک واضح نہیں ہے اور نہ وہ پارلیمنٹ وعوام میں کیے جانے والے اعلانات کے مماثل ہیں۔ حقائق سے پہلوتہی برتے بغیر حکومت کے لیے پہلے مرکزی، صوبائی اور گراس رُوٹ سطح  پر واضح اور بے غبار اہداف کا تعین اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ ایک جمہوری ملک ہونے کے ناطے جو متنوع لسانی ونسلی طبقات  کا حامل بھی ہے تھوڑی سی بے اعتمادی یا غلط فہمی  حکومت کے لیے سخت ردعمل کو بھڑکا سکتی ہے۔ گوادر میں جدید بحری ٹرمینلز کی تعمیر کے دوران وہاں کے ماہی گیروں سے مشاورت نہیں کی گئی، نہ انہیں اعتماد میں لیاگیا، ان کے ذریعہ معاش کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ان میں اضطراب پایا جاتا ہے۔

پاکستان میں سی پیک  کے خلاف رائے موجود نہیں ہے، اگر کوئی تحفظات ہیں تو وہ شفافیت، ادائیگیوں کی میعاد اور درکارصلاحیت کے حوالے سے ہیں۔ صوبوں کی طرف سے آنے والی شکایات  کا رُخ  منصوبے میں اسلام آباد کے بڑھتے ہوئے دھندلے پن اور ابہام کی  طرف ہے یا اس لیے کہ وہ اس میں زیادہ سے زیادہ حصہ چاہتے ہیں۔

ہر بڑے پلیٹ فارم کی طرح سی پیک کو بھی درپیش چیلنجز بہت زیادہ ہیں۔ اس بات کا ادراک کہ سی پیک کو درپیش حقیقی چیلنجز داخلی ہیں، اس منصوبے سے بہترین طور پہ فائدہ اٹھانے  کے لیے سب سے پہلا قدم ہوگا۔ اگر ان چیلنجز کا احاطہ کیا جائے تو انہیں تین نکات میں بیان کیا جاسکتا ہے، صلاحیت واہلیت، کامیاب رابطہ کاری وتعامل،اور اتفاق ِرائے و ہم آہنگی۔ کوئی  دورائے نہیں کہ اس پلیٹ فارم  کے مواقع  کے حوالے سے پالیسی فریم ورک پر اتفاقِ رائے کے حصول کے لیے پاکستان کو اپنی پرفارمنس  کی  صلاحیت واہلیت اور رابطہ کاری کی سکت میں اضافہ کرنا ہوگا۔

سی پیک پر ثمرآور اتفاقِ رائے کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ چینی کمیونسٹ پارٹی  کی حکومت اور پاکستانی مختلف نیم جمہوری جماعتوں  کے مرکب سے بنی حکومت کے درمیان گورننس کے ڈھانچے سمیت کئی پہلوؤں سے فرق ہونا ہے۔ چونکہ سی پیک پورے ملک کا پروجیکٹ ہے بایں ہمہ کہ تمام صوبے اس میں شراکت دار ہیں اس لیے متنوع و کثیرالجماعتی صوبائی اکائیوں اور سیاسی جماعتوں کے مابین پراعتماد قربت اور ہم آہنگی پیدا کیے رکھنا بھی ایک چیلنج ہے۔ تاہم چین نے پاکستانی حکومت کی اس مشکل وکمزوری کو بھانپتے ہوئے منصوبے پر بہتر افہام وتفہیم اور اس کی ترجیحات کے تحفظ کے لیے کئی جماعتوں سے فیڈرل اور صوبائی سطح  پر براہ راست رابطہ کاری کا نظام قائم کر رکھا ہے۔ یہ منصوبہ یک جماعتی ہے اور نہ یک صوبائی، لہذا ہر اکائی کے لیے اس کے مفادات کے تحفظ کی یقین دہانی تبھی ممکن ہوگی جب اسٹریٹیجک سطح کا اتفاقِ رائے قائم ہوگا اور پاکستانی حکومت سب کے ساتھ یکساں تعامل کے ساتھ آگے بڑھے گی۔

روڈیم گروپ  نے اپنی تازہ اسٹڈی میں چین کے  کے دیے گئے قرضوں کے ایسے چالیس کیسز کا جائزہ لیا ہے جس میں ادائیگی نہ ہوسکنے کی صورت میں باردگر گفت وشنید ہوئی۔ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ اثاثے ضبطی کا کیس شاذ ہے۔ دوبارہ قرض دینے، ڈیڈلائن بڑھانے، قرض کی ٹرم  تبدیل کرنے اور حتیٰ کہ معافی کی مثالیں زیادہ ہیں

پاکستان کے لیے ایک اور مسئلہ یہ بھی کہ حکومت کے اندر رعایتی قرضوں کو درست طور استعمال کرنے کے لیے جو منصوبہ بندی اور صلاحیت درکار ہے وہ مفقود ہے۔ سرکاری اور پرائیویٹ سیکٹر، دونوں میں سی پیک کے میگا پروجیکٹس کو ڈیل کرنے کی اہلیت موجود نہیں۔ سی پیک پلاننگ   کمیشن جو اس منصوبے کی نگرانی کر رہا ہے نہ اس کے پاس وسائل  ہیں اور نہ طاقت۔ بزنس ریفارمز کے حوالے سے زیادہ کارکردگی کراچی اور لاہور کی حد تک پنجاب اور سندھ  میں دکھائی گئی ہے۔ یہ بھی اگرچہ قابل تعریف ہے لیکن کافی نہیں، اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ حکومت صرف اس حد تک اقدامات کر رہی ہے جو آسان ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عمل سے یہ تأثر دے کہ یہ منصوبہ سب کے لیے مساوی مواقع رکھتا ہے اور تمام صوبے اس سے صحیح فائدہ اٹھانے کے لیے بزنس ریفامز کے لیے متحرک ہوں۔

پاکستان کا حالیہ اسپیشل اکنامک زون لاء بجائے اس کے کہ بیوروکریسی کی گرفت اور عمل دخل کو کم کرتا تاکہ پرائیویٹ کاروباری مہم کو مہمیز مل سکتی، الٹا دفتری منظوریوں، غیرضروری عدالتی  کاروائیو اور کمزور ریگولیٹری اتھارٹی کے نظام کے ذریعہ رکاوٹ پیدا کرنے کا سبب بن گیا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ منصوبے کے ذمہ داران ابھی تک اراضی کی قیمیتیں لگانے اور ان کی خرید کے عمل میں مصروف ہیں۔ اسپیشل اکنامک زون کے 9 مراحل پر کام شروع ہونا ابھی باقی ہے۔

پاکستان میں چینی سفارت کار یو جنگ متعدد بار دہرا چکے ہیں کہ پاکستان اگر بہتر تجارتی پالیسیاں متعارف کرائے، سرمایہ کاروں پر ٹیکس کی شرح کم کرے اور تجارت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے تو وہ چین کی بھاری سرمایہ کاری کو اپنی طرف مائل کرسکتا ہے۔ فوری طور پہ سرمایہ کاروں  کو نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس(NOCs) جاری کرنے ضروری ہیں۔ چین، عرب امارات، تھائی لینڈ اور جارجیا جیسے ممالک میں اسپیشل اکنامک زونز  کاروباریوں کو one-stop-service فراہم کرتے ہیں جہاں تمام ضروری پراسس ایک ہی جگہ سے مکمل ہوجاتا ہے، جبکہ پاکستان میں ایک لمبا پراسس اور بیوروکریسی  نے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں۔ اسپیشل اکنامک زون  میں سرمایہ کاری کے معاملات میں صوبوں کو خودمختار بناکر وقت اور پیسے کی بچت ممکن بنائی جاسکتی ہے، بجائے اس کے کہ مکمل طور پہ اسلام آباد پر تکیہ کیا جائے۔

ایک مشکل یہ بھی کہ پاکستان میں اگرچہ افرادی قوت  کے لحاظ سے دنیا کا نواں بڑا ملک  ہے لیکن یہ ملازمت کی قابلیت، ٹیکنیکل تربیت اور ہنرمندی کے معاملے میں انتہائی کمزور ہے کیونکہ اس شعبے میں انویسٹمنٹ ہی نہیں ہے۔ اگرچہ اس منصوبے میں کام کرنے والے 90 فیصد ملازمین مفامی ہیں لیکن ٹیکنیکل پروجیکٹس میں ان کی تعداد خودبخود کم ہوجاتی ہے۔ اس مسئلے کی وجہ سے کئی چینی کمپنیاں پاکستانی یونیورسٹیوں کے اشتراک کے ساتھ  ملازمین کو ٹیکنیکل تربیت دینے کا کام کر رہی ہیں۔

سی پیک نے پاکستان میں 68,382 ملازمتیں پیدا کی ہیں۔ رواں برس 13 جُون کو ہونےوالی  مشترکہ میٹنگ میں یہ بت سامنے آئی کہ یہ منصوبہ 2030 تک 800,000سے 1,500,000 ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ مختلف سطح پر بھرپور انویسٹمنٹ کرے۔ باصلاحیت،  تجربہ کار اور  مناسب دام پر کام کرنے والی افرادی قوت بیرونی سرمایہ کاری کے لیے کشش کا باعث بنتی ہے۔ پاکستان کو بڑی آبادی کا ملک ہونے کی وجہ سے اپنے شہریوں کو کھپانے کا یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

اکیسویں صدی میں کامیاب رابطہ کاری اور مؤثر کمیونیکیشن کی صلاحیتیں ایک طاقت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سی پیک میں شفافیت کی یقین دہانی ازحد ضروری وبنیادی ہے۔ صوبوں کو یہ اعتماد ملنا چاہیے کہ یہ منصوبہ شفاف ہے اور یکساں مواقع کا حامل ہے۔ بدقسمتی سے اب تک اس منصوبے میں جو معاہدے ہوئے ان کے بارے میں کم ہی معلومات دی گئی ہیں۔ اور جب صوبائی سطح پر بات چیت کا مرحلہ ہو تو سب سے پہلے بلوچستان سے شروع کرنا چاہیے جہاں گوادر ہے اور جو سلک روڈ کا مرکزی مقام ہے۔ اس کمزور صوبے نے اپنے قدرتی وسائل سے پورے ملک کو فائدہ پہنچایا ہے لیکن وہ خود محروم ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے تناظر میں اس کے وسائل سب سےپہلے اس کی ملکیت ہیں۔ بلوچستان کی حکومت کئی بار مغربی رُوٹ پر عدم توجہی کی وجہ سے خدشات کا اظہار کرچکی ہے اور ملٹی بلین پروجیکٹ میں اپنے حصے کی وضاحت اور شفافیت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان کی نمایاں سیاسی جماعتیں سی پیک  پر اپنے تعاون کی یقین دہانی کراچکی ہیں۔ ان کے شکوے شکایات کا ازالہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔

شفافیت، کامیاب رابطہ کاری اور اتفاقِ رائے کے حصول کے لیے سب سے بنیادی اور مؤثر پلیٹ فارم پارلیمان کا ہے۔ سینٹ کی سی پیک کمیٹیوں کی طرح پارلیمنٹیری کمیٹیوں کو فعال بنانا بہت ضروری ہے۔ یہاں اپنے اپنے طبقوں کے نمائندے موجود ہیں ۔اہداف کے حصول کے لیے  طے شدہ وقت کی وضاحت اور منصوبوں پر چھائے دھندلے پن کو ختم کرنے کے ذریعہ پارلیمنٹ ارکان اور جماعتیں یہ جان سکتی ہیں کہ ان کے لوگوں کے لیے  کتنے مواقع اور فوائد ممکن ہوسکتے ہیں۔

سرمایہ کاری کے لیے کشش پیدا کرنے کے لیے پراسس کو آسان، چھوٹا اور کم مشقت بنایا جائے۔ ٹیکس کے حجم کو معقول رکھا جائے انفراسٹرکچر اور توانائی کی فراہمی یقینی ہو، کنٹریکٹس میں شفافیت ہو اور کرپشن کا امکان نہ ہو۔ اسپیشل اکنامک زون میں چینی اور دیگر کمپنیوں کو کم سے کم   کاسٹ پر مواقع وسہولیات فراہم کیے جائیں، اسی طرح جیسے کہ جنوب مشرقی ایشیائی اور افریقی اسپیشل اکنامک زونز میں فراہم کیے جاتےہیں۔

سی پیک کی مد میں دیے گئے قرضوں اور سُود  کے حوالے سے مغربی ممالک کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے کہ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ استحصالی واستعماری ہے۔ یہ ایک ایسی دلدل ہے جس سے باہر نکلنا ممکن نہیں۔ پاکستان کے اندر بھی اس طرح کی مبالغہ آمیز افواہوں نے خوف کی فضا قائم کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ترقی پذیر ممالک کو دیا گیا 90 فیصد قرضہ مغربی ملکوں اور اداروں کا فراہم کردہ ہے۔ اس قرض کی ادائیگی میں ملک کی کرنسی کو 30 فیصد تک گراوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ رواں سال کے بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں چینی حکام نے بڑے پراجیکٹس میں سرمایہ کاری کے حوالے سے شفافیت، استحکام، معیار اور آزادی بارے خدشات کا ازالہ کیا تھا۔ انہوں نے ممالک کے ساتھ بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری، تعاون اور قرضوں کی مد میں توزان وستحکام  کے لیے حکومت اور پالیسی بینکس کے اشتراک کے ساتھ  ایک جامع و شفاف حکمت عملی ترتیب دی ہے۔

اب جبکہ پاکستان اس منصوبے کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے تو ضروری ہے کہ اس غیر حقیقی تأثر کو ختم کیا جائے کہ سی پیک   پاکستانی حکومت اور عوام کو قرضوں کی  دلدل میں جھونک رہا ہے۔ چینی حکام کے بیان کے مطابق  سی پیک کے پہلے مرحلے کے منصوبوں میں 18.9 ارب ڈالرز کی سرمایہ کار ی ہوئی ہے، جس میں سے 6 ارب ڈالر 2فیصد شرح سود کے ساتھ  حکومتی قرضہ ہے۔ پاکستانی حکومت 20 سے 25 سال کی مدت میں صرف چھ ارب ڈالر ادا کرنے کی پابند ہے۔ سی پیک کا سارا قرض بیرونی مجموعی قرض 105.84 ارب ڈالر، کے مقابلے میں  چھ فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مختلف قرضہ جات اس کے علاوہ ہیں جو چار سے پانچ گُنا زیادہ ہیں۔ اس سارے کے مقابلے میں سی پیک کا قرضہ معمولی ہے۔

قرضوں کے علاوہ ان کی عدم ادائیگی کی صورت میں اثاثوں کی ضبطی بارے میں بھی خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اس میں سری لنکا کی مثال دی جاتی جس کی بندرگارہ حال ہی میں چین نے ضبط کی تھی۔ روڈیم گروپ  نے اپنی تازہ اسٹڈی میں چین کے  کے دیے گئے قرضوں کے ایسے چالیس کیسز کا جائزہ لیا ہے جس میں ادائیگی نہ ہوسکنے کی صورت میں باردگر گفت وشنید ہوئی۔ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ اثاثے ضبطی کا کیس شاذ ہے۔ دوبارہ قرض دینے،  ڈیڈلائن بڑھانے، قرض کی ٹرم  تبدیل کرنے اور حتیٰ کہ معافی کی مثالیں زیادہ ہیں۔ دوبارہ قرض دینے کے حوالے سےانگولا، اکادور، اتھوپیا، منگولیا اور یوکرائن کی مثالیں سامنے ہیں۔ مختلف مثالوں میں تقریباََ 50 ارب ڈالر کے قرضوں پر چین نے مذاکرات اور باردگر گفت وشنید کی ہے۔

بڑھتے بیرونی قرضہ جات کی صورتحال میں اپنے اثاثوں کے ضبطی کے بغیر ان کی ادائیگی کا سوال بے بنیاد نہیں ہے۔ لیکن اصل سوال ادائیگیوں  میں توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت کا ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ باہمی تعاون کے فریم ورک کی تشکیل اور سی پیک فنانسز پر چھائے دھندلے پن کو زائل کرنے پر توجہ دے۔

ترجمہ و تلخیص: شفیق منصور، بشکریہ: روزنامہ ڈان

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...