مذہبی بنیاد پر قریبی عزیزوں کو قتل کرنے کا رجحان

68

سعودی عرب سے تعلق رکھنےوالے مصنف عبدالرحمان الشقیری نے کتابچہ شائع کیاہے جس میں انہوں نے اس مسئلے کو موضوع بنایا ہے کہ بعض نوجوان مذہب کی اساس پر اپنے قریبی رشتوں اور تعلق داروں میں سے کسی کا قتل کیوں کردیتے ہیں۔ یہ دراصل ایک سروے رپورٹ ہے جس میں سعودی عرب میں دو سالوں کے اندر  پیش آنے والے اس طرح کے واقعات کا جائزہ لیا گیا اور اختصار کے ساتھ ان کی تحلیل بھی کی گئی ہے۔

وہ اس طرح  کے قتل کو ’’سرپرائز ٹیررزم ‘‘ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ کیونکہ دہشت گردی کا یہ پہلو اپنی نوع کا غیر متوقع اور زیادہ تکلیف دہ  ہے جس میں ایک نوجوان اپنے کسی قریبی عزیز کو کافر اور واجب القتل سمجھ کر جان سے مار دیتا ہے۔ یہ دہشت گردی اس لیے زیادہ پریشان کن ہوتی ہے کہ اس طرح کے اقدام کا صدور کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا اور اس کی وجہ سے رشتوں کے مابین باہمی فطری ربط  کو جس درجہ کی ٹھیس اور زک پہنچتی ہے اور بھروسہ ٹوٹتا ہے، اس سے پورا سماج ہِل کر رہ جاتا ہے۔

شقیری کے مطابق اس طرح کا اقدام کرنے والے افراد پر  Lone Wolves  کی اصطلاح کا اطلاق کیا جاسکتا ہے۔ یہ اصطلاح ان عناصر کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو کسی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ  ہمدردی رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ براہ راست عملی رابطے میں نہیں ہوتے اور اپنے طور پر کوئی دہشت گردی کی کاروائی کرتے ہیں۔ یہ رجحان خود بخود پیدا شدہ نہیں ہے بلکہ دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے اس کو فروغ دیا گیا ہے۔ مذہبی اساس پر اپنے کسی قریبی کے قتل کی  تاریخ میں کچھ مثالیں ملتی ہیں لیکن دہشت گردی کا جزو بننا اور اس کا بطور اسٹریٹیجی استعمال ہونا جدید رجحان ہے جو داعش کا متعارف کردہ ہے۔ جب ان تنظیموں کو میدان میں شکست کا سامنا ہوتا ہے تو Lone Wolves ان کی کمی کو پورا کرتے ہیں اور تنظیموں کے وجود کا احساس دلاتے ہیں۔

ایسے واقعات چونکہ معاشرے کی خاندانی اکائی، جو سب سے زیادہ قابل بھروسہ اور معتبر ترین ہوتی ہے، کو زد لگاتے اور لوگوں کو اپنے گھروں میں خوفزدہ کریتے ہیں اس لیے ان کے فوری سدباب اور خاتمے کے لیے غور و فکر و کوششیں بروئے کار لانا انتہائی ضروری ہے

انفرادی سطح پر اس  کے واقعات یورپ سمیت پوری دنیا میں  ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن ان میں سے اپنے قریبی عزیزوں کو قتل کردینا منفرد اور انہتائی غیرمتوقع ہوتا ہے جس کے اثرات انسانوں کو زیادہ تکلیف دیتے ہیں۔ اس کا ارتکاب کرنے والے نوجوان  بعض اوقات کسی تنظیم سے اپنی ہمدردی کا اظہاربھی کرتے ہیں، اگر نہ کریں تو ان کے تصرفات  سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

شقیری نے سعودی عرب میں ہونے والے جن واقعات کا جائزہ لیا ان کے مطابق اس قسم کی دہشت گردی میں ملوث نوجوانوں کی عمریں 16 سے 32 سال کے درمیان تھیں۔ ان کی تعلیم مڈل سے ایف اے تک تھی۔ یہ کسی بہتر ملازمت سے وابستہ نہیں تھے اور ان کا تعلق دیہات کی بجائے چھوٹے یا بڑے شہروں سے تھا۔ مصنف کہتے ہیں کہ اس پر اقدام کرنے والے نوجوانوں کا مذہب کے ساتھ تعلق نیا نیا اور غیر مستند ہوتھا۔ اس کے علاوہ یہ سوشل میڈیا پر بہت وقت گزارتے تھے جہاں دہشت گرد تنظیموں  کے اکاؤنٹس کو فالو کر رہے تھے۔

ایسے واقعات چونکہ معاشرے کی خاندانی اکائی، جو سب سے زیادہ قابل بھروسہ اور معتبر ترین ہوتی ہے، کو زد لگاتے اور لوگوں کو اپنے گھروں میں خوفزدہ کریتے ہیں اس لیے ان کے فوری سدباب اور خاتمے کے لیے غور و فکر و کوششیں بروئے کار لانا انتہائی ضروری ہے۔ عبدالرحمان الشقیری کے خیال میں اپنے قریبی عزیزوں کے قتل کی وجہ بیانیہ تو ہوتا ہے جو اس پر ابھارتا ہے لیکن ایسے معاشرے جہاں قانون وعدل اجتماعی کا عنصر کمزور ہو، رشتوں کا تقدس غیر اہم ہو، زندگیوں میں روانی اورمنطقیت ختم ہوجائے اور بچوں کی تعلیم و تربیت میں ان کے گردوپیش اور جدید عصری اسالیب نظرانداز ہوں تو وہاں اس کے عملی مظاہر ممکن ہوجاتے ہیں۔ لہذا ان کے مطابق سماجی ساخت کو صحت مند بنانے کے لیے مختلف سطح پر  اجتماعی وانفرادی سعی کرنے کی ضرورت ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...