نئے نظم کی تشکیل

644

یہ بات باعث تعجب ہے کہ اس بار انتہائی دائیں بازو کی مذہبی سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں کشمیر کے بارے میں عوام میں جوش و خروش پیدا کرنے کے بجائے محض رسمی سوانگ رچانے تک ہی محدود ہیں۔ جبکہ ماضی میں اس سے کہیں کم اہمیت کے واقعات پر بھی یہ جماعتیں سڑکوں پر نکل آتی تھیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سارے حلقے اس تبدیلی کوقومی اور سٹریٹجک معاملات پر مذہبی جماعتوں کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کی تبدیل ہوتی سوچ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کے بارے میں عام تأثر یہی رہا ہے کہ جب بھی پاکستان کواپنے ہمسایہ ممالک یا پھر امریکہ سے معاملہ کرنے میں مشکلات محسوس ہوتی تو یہ حلقے اپنی سٹریٹ پاور کا مظاہرہ شروع کر دیتے تھے۔ مذہبی گروہوں کے اس نوع کے اتحاد کے حوالے سے دفاعِ پاکستان کونسل ابھی حال ہی کی مثال ہے۔ اس کی طرف سے پاکستان میں ڈرون حملوں کے سبب امریکہ کے خلاف عوامی جذبات کو اُبھارنے کا مظاہرہ معمول کی بات رہی۔ 2011ء میں سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے اور امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں پاکستانیوں کے قتل کے خلاف بھی اس مذہبی اتحاد نے بھر پور انداز میں ردِعمل دیا تھا۔ پاکستان میں دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کا تشکیلی ڈھانچہ بنیادی طور فرقہ وارانہ ہے جو گاہے بگاہے ایران اور سعودی عرب سے اپنی ہمدردی اور وفاداری ثابت کرنے کے لئے بھی سرگرم رہتا ہے۔

کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان پر عالمی برادری کا ایف اے ٹی ایف کی صورت میں بڑھتا دباؤ مقتدرحلقوں کو مجبور کر رہا ہے کہ وہ مذہبی پس منظر کی حامل جماعتوں کے ساتھ تعلق اور ان پر انحصار کے حوالے سے پالیسی پر نظرثانی کرے، جو پاکستان کو سفارتی اور معاشی میدان میں معاون ہو سکتی ہے۔ جب کہ کچھ حلقوں کا ماننا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان گروہوں کے طرف سے سٹریٹ پاور کو اپنی اخلاقی اور سیاسی اہمیت بڑھانے  اور اسے اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی وجہ سے عاجز آچکی ہے۔ تحریک لبیک پاکستان کے تجربے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کی ساکھ خراب ہوئی اور اسے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس کی وجہ سے معاشرے میں مسلکی خلیج میں بھی اضافہ ہوا۔ ابھی معاشرے کو فرقہ وارانہ بیانیے سے نجات کے لئے مزید کچھ وقت درکار ہو گا۔

گزشتہ چند برسوں میں میڈیا آرمی چیف کی علما سے متعدد ملاقاتوں کو رپورٹ کرچکاہے۔ شنید ہے کہ ان ملاقاتوں میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے علما کرام سے اپنا مثبت وتعمیری کردار ادا کرنے اور ملک میں فرقہ واریت کی حوصلہ شکنی کرنے کی اپیل کی ہے۔ بظاہر اس کے ثمرات بھی ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ کم ازکم حالیہ صورتحال سے تو یہی مترشح ہوتا ہے۔ فرقہ پرست عناصر کی قیادت پر بھی اپنے رویوں کو تبدیل کرنے کے لے  دباؤ پڑھا ہے۔

شاید اسٹیبلشمنٹ میں یہ خدشہ موجود ہے کہ اعتدال پسند گروہ ان کے روایتی مذہبی اتحادیوں کا متبادل نہیں بن سکتا اس لیے وہ اپنے پرانے دوستوں کے حلقے میں ہی اصلاحات کو ترجیح دیتی ہے

مذہبی قیادت سے معاملہ کرنے میں اسٹیبلشمنٹ کا اصل امتحان نرم رویہ اور خوشامدانہ پالیسی میں فرق کو برقرار رکھنا ہو گا۔ تمام مذہبی گروہوں  نے اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ ان میں اتنی لچک اور اہلیت  موجود ہے کہ وہ مقتدر حلقوں کے بدلتے رویہ سے مماثلت پیدا کرسکیں۔ مذہبی حلقے سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ اس طرح کے تعامل و تعاون  کے ذریعےاپنا جواز حاصل کرتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگزنہیں کہ وہ بالکل ہی مغلوب ہو چکے ہیں۔ در حقیقت یہ مقتدر حلقوں میں اثر و رسوخ نکالنے کا فن جانتے ہیں۔ ریاست کی علماء سے حالیہ میل ملاقاتیں اس کا ثبوت ہے۔

پیغام پاکستان، انسداد دہشت گردی کی متفقہ دستاویز جس پر 1800 علما نے دستخط کیے تھے، کو ریاست کا نیا معتدل مذہبی بیانیہ قرار دیا گیا تھا۔ ہمارے اداروں نے بھی اس پر یہ تأثر دیا تھا کہ اس پیش رفت سے ملک کے مذہبی بیانیے میں مثبت تبدیلی آئے گی۔ مگر رفتہ رفتہ تمام مذہبی طبقات کو قومی دھارے میں لانے کے نام پر پیغام پاکستان میں بہت سی تبدیلیاں کی گئیں۔ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اب پیغام پاکستان جارج اورویل کے ناول  ’’اینمل فارم‘‘ کی طرح محسوس ہوتا ہے جس میں انقلاب کے بعد فارم کے جانور اپنے منشور میں تبدیلی کرتے کرتے واپس پرانے نظام پر آجاتے ہیں۔

بظاہر یہی لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ مذہبی حلقوں کی قوت کو لگام دینا چاہتی ہے مگر اس کے لئے کسی مناسب لائحہ عمل کی تلاش میں ہے۔ مذہبی گروہوں کو بھی ریاست کی کمزوریوں کا پوری طرح ادراک ہے اور وہ ان کمزوریوں سے نہایت مہارت سے استفادہ کر رہے ہیں۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال کا موازنہ برما سے کیا جا سکتا ہے جہاں ملٹری جنتا نے بھکشوئوں سے گٹھ جوڑ کیا اور ان کو طاقتور کر کے انہیں اپوزیشن واقلیتوں کو دبانے کے لئے استعمال کیا۔ لیکن پھر وہ لمحہ آیا کہ بدھ مت بھکشوؤں نے اپنی فوج اور سیاسی جماعتوں کو ہی بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ برما کی فوجی جنتا اب بھکشوؤں کی بے لگام قوت سے عاجز آچکی ہے مگر ریاست کے امور ان کی مرضی سے طے کرنے پر مجبور ہے۔

حکومت اور مدارس کے مابین ہونے والی  بات چیت میں سرکردہ مذہبی نمائندگان نے ریاست کو اس پر قائل کرلیا ہے کہ حکومت کی مدرسہ اصلاحات صرف مدارس کی رجسٹریشن تک ہی محدود ہوں گی یا پھر مدارس کو وفاقی وزارت تعلیم کے تحت لایا جائے گا۔ علما امتحانات، نصاب اور مدارس کے انتظامی معاملات میں حکومت کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔ دوسری طرف حکومت اس پر بھی تقریباََ آمادہ ہوگئی ہے کہ مدارس کے طلبہ کو مخصوص مضامین کا امتحان دینے کی اجازت دیدی جائے جس کے بعدان کو ڈگریاں جاری کی جائیں گی جن کی حیثیت مین اسٹریم تعلیمی اداروں میں طلبہ کو دی جانے والی ڈگریوں کے مساوی ہوگی۔

ریاست کی نرم گرم پالیسی نے ابھی تک مذہبی حلقوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کو چیلنج نہیں کیا، مذہبی منافرت پھیلانے والے مدرسوں کے تعلیمی بورڈ کا خاتمہ اس حوالے سے حکومت کا پہلا اقدام ہو گا۔ لیکن اس کے ساتھ حکومت اور شہریوں کی جانب سے مدارس کی نگرانی کا موثر اور مربوط نظام بھی واضح ہونا چاہیے۔ نصاب میں اصلاحات اور مجموعی طور پہ تعلیمی نظم کو معیاری بنانے پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

دنیا بھر میں مسلم معاشرے اپنا معتدل اسلامی تشخص ابھارنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں تاکہ اسلام اور ماڈرن دنیامیں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ گو اسلامی معاشرے کی اپنی منفرد پہچان بھی ہے۔ پاکستان میں مذہبی حلقے دو وجوہات کی وجہ سے مضبوط ہوئے ہیں، پہلی وجہ مذہبی علما کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نیشنل ازم پروجیکٹ میں شراکت دار ہونا ہے جس میں مذہبی حلقوں کو سیاسی اور جغرافیائی معاملات میں مداخلت کا موقع ملتاہے۔ دوسرا سب یہ ہے کہ ریاست نے عوامی ڈھانچے کو مذہبی گروہ کے رحم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے جو اس کی مذہبی چھاپ کی حامل سماجی ثقافتی تشکیل کر رہا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ اپنی پالیسی ازسرنو مرتب کر سکتی ہے لیکن نقصانات سے بچنے اور مشکلات پر مکمل قابو پانے کے لیے حکومت اور معاشرے کے  اعتدال پسند عناصرکی طرف سے زیادہ وسیع و نمایاں اقدامات کی ضرورت ہے۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ عموماََ اعتدال پسند طبقات پر بھروسہ نہیں کرتی کیونکہ وہ ایسے اقدامات کی کھلم کھلا حمایت نہیں کرپاتے جن کی وجہ سے جمہوری عمل پر زد پڑے۔ اعتدال پسند عناصر ملک میں تہذیبی، روحانی اور ثقافتی اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں۔

شاید اسٹیبلشمنٹ میں یہ خدشہ موجود ہے کہ اعتدال پسند گروہ ان کے روایتی مذہبی اتحادیوں کا متبادل نہیں بن سکتااس لیے وہ اپنے پرانے  دوستوں کے حلقے میں ہی اصلاحات کو ترجیح دیتی ہے۔

بشکریہ: روزنامہ 92

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...