محرم الحرام کا ثقافتی تناظر

275

محرم الحرام کا ایک اہم اور اساسی پہلو تو مذہبی ہے دوسرا پہلو تاریخی ہے اور تیسرا ثقافتی ہے۔ اس مہینے میں دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان اپنے رسولؐ کے پیارے نواسے حضرت امام حسینؑ کی سرزمین کربلا پر عظیم قربانی کی یاد طرح طرح سے مناتے ہیں۔ اس کے پس منظر میں امام حسینؑ کا دینی مقام اور تاریخی اعتبار سے آپ کے اقدام پر بات ہوتی ہے، تاہم ان کی یاد منانے کے طریقوں نے صدیوں کا سفر کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں علاقائی ثقافتوں کے ہم رنگ ہو کر مختلف شکلیں اختیار کرلی ہیں۔

دنیا کے تمام ادیان ومذاہب کے ہاں مختلف ایام بڑے اہتمام سے منائے جاتے ہیں۔ مسیحیوں کے ہاں کرسمس اور ایسٹر کے ایام خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان دنوں کو منانے کے لیے بہت سی حکومتیں بھی اپنے عوام کے ساتھ شریک ہو جاتی ہیں۔ خاص چھٹیوں کا اعلان ہوتا ہے۔ عالمی سطح کے سیاسی و مذہبی راہنما پیغام جاری کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی صدر، وزیراعظم اور دیگر راہنماؤں کی طرف سے پیغامات جاری ہوتے ہیں۔ سیاسی راہنما بلکہ بعض مسلمان مذہبی راہنما بھی مسیحی بہن بھائیوں کی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں۔ راقم بھی ایسی تقریبات میں مسلمانوں کی طرف سے مسیحیوں کے لیے محبت، امن اور خیرسگالی کا پیغام لے کر شریک ہوتا ہے۔

ہندوؤں کی بھی اپنی گوناگوں تقریبات ہوتی ہیں۔ بھارت میں ہی نہیں دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ہندو ان تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں۔ پاکستان میں یہ تقریبات بڑے زور و شور سے منعقد ہوتی ہیں۔ پاکستان کے درجہ اول کے بعض سیاست دان ان میں شرکت کرتے ہیں۔

پاکستان میں سکھوں کی تقریبات خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سکھوں کے مقدس ترین مقامات پاکستان میں واقع ہیں۔ مسلمان اپنے سکھ بہن بھائیوں کے ساتھ ان تقریبات میں بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ سرکاری عہدیدار تو شریک ہوتے ہی ہیں مسلمان عوام کو بھی ان تقریبات سے خاص شغف ہے۔دیگر ادیان کے ماننے والے بھی ایسے پروگراموں کا انعقاد کرتے ہیں۔ دینی تقریبات کے علاوہ قومی اور ملی ایام کے موقع پر بھی دنیا بھر میں پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔

ہمارے ہاں محرم الحرام کے علاوہ ربیع الاول، رمضان المبارک، عیدین اور دیگر مناسبتوں سے تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے۔ 14اگست اور 23 مارچ قومی جذبے کے ساتھ منائے جاتے ہیں، 6 ستمبر کویوم دفاع کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔ قائداعظم اور علامہ اقبال کے ایام کو بھی پاکستان میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔

اس سلسلے میں سبق آموز بات یہ ہے کہ کوئی مذہبی پروگرام دوسروں کی دل آزادی کا باعث نہیں ہونا چاہیے

لوگوں نے اپنی دلچسپیوں اور وابستگیوں کے اظہار کے لیے طرح طرح کے طریقے اختیار کررکھے ہیں۔ انسان مشین کی طرح نہیں ہے۔ یہ اپنی فطرت و جبلت کے اعتبار سے رنگا رنگ روحانی، فکری، نفسیاتی، تاریخی اور مذہبی وابستگیاں رکھتا ہے۔ ان کا اظہار وہ مختلف طریقے سے کرتا رہتا ہے۔

ان پروگراموں، تقریبوں، رسموں اور روایتوں کو انسانی محبتوں کے ثقافتی مظاہر کے طور پر دیکھا جائے تو مسئلہ آسان ہو جاتا ہے۔ محرم الحرام میں امام حسینؑ کی یاد منانے کا بھی کوئی طے شدہ ایک ڈھنگ یا طریقہ نہیں ہے۔ امام حسینؑ کی شہادت کی خبر پر آپ کی ولادت کے موقع پر بے ساختہ آنسو بہانا تو آنحضورؐ سے ثابت ہے اور ثابت کیا جاسکتا ہے تاہم ان کی شہادت کے بعد آپ کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے مسلمانوں نے خود سے متنوع طریقے اختیار کیے اور رسموں کی بنیاد رکھی۔ امام حسین ؑکی عزاداری اور یاد نماز کی طرح  نہیں ہے کہ اس کے اوقات، رکعتیں، قرأت اور رکوع و سجود بیان کیے گئے ہوں۔ یہ انسانی محبتوں کے اظہار کے مختلف طریقوں سے عبارت ہے۔ مسلمان جس علاقے میں گئے یا جس قوم نے اسلام قبول کیا اس نے امام حسینؑ کی یاد منانے کے لیے اپنی تمدنی اور ثقافتی روایات کے زیراثر، عزاداری کے طریقے اختیار کیے۔

محرم الحرام کے ثقافتی تناظر کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس میں شیعہ و سنی کی تمیز نہیں ہے بلکہ بعض مقامات پر تو دیکھا گیا ہے کہ اس میں مسلم و غیر مسلم کی تمیز بھی نہیں ہے۔ اپنے نبی کے نواسے سے محبت مسلمانوں کی فطرت میں گندھی ہوئی ہے۔ نبیؐ سے پیار اُن کے پیاروں سے محبت کی طرف خود سے کھینچ کر لے جاتا ہے۔ بعض رسمیں تو ایسی ہیں جن میں شیعہ و سنی دونوں شریک ہو جاتے ہیں۔ بعض میں تقسیم کار دکھائی دیتا ہے۔ مجالس عزا میں تو شیعہ و سنی دونوں شریک ہو جاتے ہیں۔ جلوسوں میں عام طور پر شیعہ ماتم کرتے ہیں اور اہل سنت پانی کی سبیلیں لگاتے ہیں۔ بعض تعزیے اہل سنت نکالتے ہیں۔ بعض اہل سنت الگ سے بھی امام حسینؑ کی یاد منانے کا اہتمام کرتے ہیں۔ مجالس و محافل اور لنگر وغیرہ کا انتظام کرتے ہیں۔ مساجد اور خانقاہوں میں شہدائے کربلا کے ذکر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

اس سلسلے میں عبرت آموز اور سبق آموز بات یہ ہے کہ کوئی مذہبی پروگرام دوسروں کی دل آزادی کا باعث نہیں ہونا چاہیے۔ علماء، خطباء اور ذاکرین کو محبت کا پیغام دینا چاہیے، نفرت کا نہیں۔ کوئی بھی مذہبی پروگرام دوسروں کی اذیت کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ تاہم رواداری اور یگانگت کا اظہار تعاون اور ایثار کے ذریعے کیا جانا ضروری ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...