جمہوریت میں جوابدہی کا احساس

109

پاکستان کی بہتّر سالہ تاریخ آئینی تاریخ ہے جس کی بنیاد جمہوریت ہے۔ جمہوریت صر ف اقدار و مزاج کا نام ہی نہیں یہ ایک ڈھانچہ، لائحہ عمل اور طریقہ کار کا نام بھی ہے۔ یہ طرز حکمرانی ہے جو نچلی سطح سے بالائی سطح تک باقاعدہ عملی شکل اختیارکرتی ہے۔ اقوامِ عالم بالخصوص یورپ نے ارتقائی عمل کے بعد، اسے مزید ترقی دی ہے، جس سے ان کی عوام کے شب و روز اور سماجی زندگی اس میں ڈھل کر ایک خوبصورت شکل اختیار کر چکے ہیں۔

پاکستان کی 72 سالہ سیاسی تاریخ حوصلہ افزا تو نہیں ہے کیونکہ اس میں آدھ عرصہ فوجی حکومت رہی ہے اور باقی عرصہ جمہوریت۔ یعنی عوامی نمائندوں کی حکومت۔ جبکہ وزراء اعظم میں سے کوئی بھی اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکا۔ بہرحال ایسے حالات میں بھی فیڈریشن کا یہ سفر جاری ہے۔

ہم نے اب تک جو نظام قائم کیا ہے۔ ممکن ہے اس کی عمارت میں کہیں کمی اور کجی رہ گئی ہو لیکن اس پورے نظام کو گرا کر اس کی جگہ ایک جدا نظام کا قیام مشکل ہی نہیں، نا ممکن بھی ہے۔ اس حوالے سے ہمارے ہاں مختلف خیالات و نظریات گردش کرتے رہتے ہیں۔ ایک سوچ یہ ہے کہ ہمیں ایکTrue Leadership کی ضرورت ہے۔ اب مشکل  یہ ہے کہ ایسی سچی قیادت کیسے پیدا ہو۔ ایک طرف موجودہ نظام کو چلنے نہیں دیا جا رہا۔ 72 سال سے اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں۔ وہ رکاوٹیں غیر آئینی، غیرجمہوری بھی ہیں اور آمرانہ بھی۔ لیڈر شپ تو  مستقل، مضبوط جمہوری نظام اور جمہوری روایات سے پیدا ہوتی ہے۔

پاکستان میں نچلی سطح سے قیادت پیدا کرنے کے لیے بلدیاتی نظام ہے جہاں سے لوگ صوبائی اور مرکزی نمائندگی کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ جب ہمارے ہاں پورانظام فنکشن کرے گا تو حقیقی قیادت بھی ابھر کر سامنے آئے گی۔ ایک طرف ہم حقیقی قیادت کے خواہش مند ہیں اور دوسری طرف اس شعور سے عاری ہیں کہ قیادت ہمیشہ اس جمہوری نظام کے مکمل اور آزادانہ فنکشن کرنے سے پیدا ہوتی ہے۔ تاریخ کو گلیمرائز کرنے کا یہ نتیجہ ہے کہ ہم کسی ایک شخص کے انتظار میں ہیں کہ وہ آئے گا اور ہمارے تمام مسئلے حل کردے گا۔ یہ امید اور آس ایسے کرداروں سے پیدا ہوئی جن کے حالات، پس منظر، زمانہ اور تقاضے ہم سے بالکل مختلف تھے۔ اس پہ بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ان سے منسوب واقعات حقیقی بھی ہیں کہ نہیں۔ اگر حقیقت بھی ہو، ان سے ہمارا کیا علاقہ۔

ہم تجربات و مشاہدات کے ساتھ اس نتیجے پہ پہنچے ہیں کہ ہر معاشرہ اور قوم سماجی ارتقاء کے ذریعے جمہوری سفر کو جاری رکھتی ہے۔ تبدیلی یکدم نہیں آتی اور نہ انقلاب۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایکدم نہیں ہوتا

تاریخ کو گلیمرائز کرنے کا یہ نتیجہ ہے کہ ہم کسی ایک شخص کے انتظار میں ہیں کہ وہ آئے گا اور ہمارے تمام مسئلے حل کر دے گا

اس لیے حقیقی قیادت کی تلاش اور امید میں سر گرداں رہنے کے بجائے اپنے موجودہ نظام کومستحکم اور اس کو حقیقی جمہوری اقدار پہ استوار کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

اگر یہ کہا جائے کہ اس جمہوری نظام کو ہی لپیٹ دیا جائے تو اس کے لئے گزارش ہے کہ 72 سال میں یہی کوشش کی گئی ہے کبھی اسلامی نظام کے نام پہ اور کبھی روشن خیالی کے نام پہ۔  لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا کیونکہ ہم ایک آئین تشکیل دے چکے اور اس آئین کے مطابق ادارے بھی۔ آئین پاکستان در حقیقت ایک عمرانی معاہدہ ہے جس نے ہر ادارے کی حدود و اختیارات کو متعین، اور عوام کے حقوق کو بھی Define کر دیا ہے۔

آئین پاکستان جو وفاق کی علامت ہے جس کی تشکیل میں سب جماعتوں کی شمولیت ہے۔ آئین پاکستان سے روگردانی کی صورت میں جو فساد 72 سالوں میں رونما ہوا، اس کو لپیٹ دینے کی صورت میں برپا ہونے والے فساد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ہمارے پاس پاکستان کو آگے لے کر جانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ اختیارات اس پارلیمان کے سپرد رہیں جو عوام کی نمائندہ ہے جہاں پاکستان کے ہر علاقے، گلی اور صوبوں سے،نمائندے منتخب ہو کر آئے ہیں۔

یہ سول سپرمیسی (Civil Supremacy) ہے جس کی تلاش میں پاکستان 72 سال سے سرگرداں ہے۔ جس روز سول سپرمیسی قائم ہوئی اس روز سے پاکستان کے مسائل کے حل کی صورت نکلنا شروع ہو جائے گی۔ عوام کے سامنے جواب دہی ایک ایسا خوف ہے جو حکمرانوں کو اپنی کارکردگی خوب سے خوب تر بنانے پہ آمادہ کرتا ہے۔ ورنہ اقتدار پلیٹ میں رکھ کر دیا جائے، دھاندلی کے ذریعے یااقتدار پہ زبردستی قبضہ کیا جائے،  تینوں صورتوں میں، نتیجہ ملک کی سیاسی، معاشی اور تعلیمی زوال کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...