میں اُمہ کو ایک حقیقت سمجھتا ہوں

524

میں اُمہ کو ایک حقیقت سمجھتا ہوں، یہ نہ وہم ہے اور نہ ہی دھوکہ جیسا کہ کچھ لوگ مسلسل لکھ رہے ہیں۔ کیوں؟ اس کا جواب یہ تحریر مختصرا زیر بحث لاتی ہے۔

میں نے سہ ماہی تجزیات کے لئے جو دو ماہ قبل تحریر لکھی اس میں لکھا کہ ہر انسان کی شناخت کا تعلق اس کی خود شناسی سے ہے۔ کوئی بھی  شناخت معروضی نہیں سوائے اس کے کہ ہم انسان ہیں۔ ہم اپنے آپ کو جس شناخت سے جوڑتے ہیں وہی شناخت ہمیں ان دوسرے لوگوں سے جوڑتی ہے جو ہم سے اس شناخت کی بنیاد پر یکساں ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر کچھ لوگ مشترک زبان کی شناخت کی بنیاد پر ایک گروپ یا اتحاد تشکیل دیتے ہیں۔ پاکستان میں پختون اور بلوچ تصورات قومیت و وحدت اس کی بڑی دلیل ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ جغرافیائی بنیادوں پر بھی اپنے اتحاد کو تشکیل دیتے ہیں جیسے عرب شناخت، ایشیائی شناخت وغیرہ وغیرہ۔ تو کچھ لوگ نیشن اسٹیٹ کی بنیاد پر بھی اپنی قومیت کی تشکیل کرتے ہیں جیسے پاکستانی قوم، ایرانی قوم، چینی قوم، افغان وغیرہ وغیرہ۔ مشترک تاریخ اور مشترک آب و ہوا بھی کچھ لوگوں کو قریب لاتا ہے۔ نظریاتی مماثلتوں کی بنیاد پر گروپنگ بھی ایک عام معاملہ ہے جس کا ہم عموما مشاہدہ کرتے ہیں۔

یہ سب شناختیں اگر ایک وحدت تشکیل دے سکتی ہیں تو پھر مسلم تشخص ایک وحدت کیوں تشکیل نہیں دے سکتا۔ اس وحدت کو اقبال نے روحانی وحدت قرار دیا تھا اور محض اسی بنیاد پر وہ سیاسی وحدت کا خواب سوچ رہے تھے۔ میں ان سے اس سیاسی وحدت کے تصور پر اختلاف کروں گا جس کی تنہا بنیاد صرف روحانی وحدت ہو۔ میں مسلمانوں کو ایک روحانی وحدت کا حصہ سمجھتا ہوں جس کی مضبوطی و کمزوری میں یقینا بہت سارے عناصر کا کردار موجود ہے مگر یہ وحدت بہرحال موجود ہے  بالکل اسی طرح جس طرح دیگر انسانی شناختوں سے وجود میں آنے والی دیگر وحدتیں۔ میرا مقدمہ یہ ہے کہ امہ نام کی یہ وحدت سیاسی طور پر انتہائی کمزور ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اسے مادی مطالبات کی سپورٹ حاصل نہیں۔

اُمہ ایک فریب یا سراب نہیں، یہ ایک ویسی ہی شناخت اور وحدت ہے جیسے دنیا میں دیگر شناختیں اور وحدتیں ہیں مگر یہ ان سیاسی و معاشی وحدتوں سے کمتر ہے جن کی بنیاد مادی فلاح اور شہریوں کی ترقی پر ہے

اگر ہم اپنے ملک میں ہی پختون بلوچ اور سرائیکی وحدتوں کی مثال لیں تو ہم سمجھ سکتے ہیں کہ جوں جوں ان میں سیاسی و مادی مطالبات بڑھے ہیں اور انہوں نے اپنے مجبور و بے سہارا افراد کی آرزوؤں کو اپنے سیاسی منشور و مطالبات کا حصہ بنایا ہے ان کی وحدت کی پختگی اور طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری طرف مسلم امہ کی طرف دیکھیں، کیا اس کے مطالبات و آرزؤں میں عام مسلمانوں کی مادی بہتری و فلاح کا جذبہ و سرگرمی موجود ہے؟ اور آیا کہ اگر ایک ملک مسلم امہ نام کے اس سیاسی اتحاد کا حصہ بن جائے تو اسے اس کا کیا فائدہ ہے؟

اسے ایک اور اتحاد کے تناظر میں سمجھیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن، یہ ایک معاشی اتحاد ہے۔ ایک ایسی تنظیم ہے جس میں ممبر ممالک رضاکارانہ بنیادوں پر شامل ہوئے ہیں اور اپنے تجارت سے متعلق تنازعات کے حل میں اس تنظیم سے مدد لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سی چیز ہے جس نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے ممبران کو اس تنظیم سے جوڑ رکھا ہے؟ وہ ہے مادی فائدے۔ چین کی تیز رفتار ترقی کے سفر میں ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی ممبرشپ کا انتہائی اہم حصہ ہے جو اس نے گیارہ دسمبر 2001 کو حاصل کی۔  یہ مادی فائدے ختم ہو جائیں گے کوئی بھی ملک  WTO کا نام لے گا ؟ ہر گز نہیں –

اب آپ مجھے بتایئے کہ امہ نام کی سیاسی وحدت سے اگر کوئی ملک جڑتا ہے تو اس کو کیا مادی فائدہ ہو گا؟ کچھ بھی نہیں۔ اس کا عملی مظاہرہ آپ پاکستان اور  بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کی صورت میں دیکھ چکے ہیں۔ عرب جو ایک طرح سے او ائی سی کی قیادت بھی کرتے ہیں، ان کے پاس دو چوائسز تھیں: اول ، پاکستان کی مدد، امہ کے نام پر …….. دوم، بھارت سے تعاون، معاشی فوائد کی بنیاد پر ….. عربوں نے صحیح فیصلہ لیا وہ مادی فوائد کی طرف گئے، اور ہم ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ امہ کی خاطر وہ ہماری طرف کیوں نہیں آئے۔

اسے ایک اور مثال سے بھی سمجھئے۔ پاکستان میں 95 فیصد سے زائد مسلمان آباد ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے پاکستانی شہریوں سے کن بنیادوں پر تعلقات قائم کرتے ہیں؟ اگر صرف مذہب ہی بنیاد ہوتا  تعلقات کی، تو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش نہ بنتا اور راوی ملک میں ہر طرف چین ہی چین لکھتا۔ جب ہم اپنے اردگرد کے لوگوں سے اپنے تعلقات کی بنیاد تلاش کر لیں گے تو ہمیں زیادہ مشکل نہیں آئے گی کہ ہم سمجھ سکیں دنیا کے دیگر ممالک کن بنیادوں پر اپنے اتحاد تشکیل دیتے ہیں۔

خلاصہ کلام یہ کہ اُمہ ایک فریب یا سراب نہیں، یہ ایک ویسی ہی شناخت اور وحدت ہے جیسے دنیا میں دیگر شناختیں اور وحدتیں ہیں مگر یہ ان سیاسی و معاشی وحدتوں سے کمتر ہے جن کی بنیاد مادی فلاح اور شہریوں کی ترقی پر ہے۔ اُمہ بطور ایک وحدت کے، جب تک ممبر ممالک اور شہریوں کے سیاسی سماجی اور معاشی فوائد کی طرف نہیں جائے گی یہ یونہی کمزور اور بے اثر رہے گی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...