تھانہ کلچر اور ماضی کی دو درجن رپورٹس

153

چند دن پہلے مبینہ طور پہ ایک ذہنی معذور شہری صلاح الدین ایوبی کو اے ٹی ایم مشین توڑ کر کارڈ چوری کرنے کے جرم میں پولیس نے گرفتار کیا۔ ایک دن یہ خبر چلی، اگلے روز لوگوں نے سنا کہ پولیس تحویل میں تشدد کے ذریعے اس کی موت واقع ہوگئی ہے۔ اس سے قبل لاہور میں ایک غیر قانونی نجی ٹارچر سیل بھی دریافت ہوا جسے ایس ایچ او کی سربراہی میں چلایا جارہا تھا۔ وہاں سے بازیاب کرائے جانے والے نوجوانوں میں سے بھی دو کی موت واقع ہوچکی ہے۔ تھانہ کلچر کے خلاف عوام کے مسلسل احتجاج کے بعد آج پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں اس نظام  کو تبدیل کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جارہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حوالات میں بند ملزمان سے ماورائے قانون کوئی  اقدام برداشت نہیں ہوگا۔ پولیس کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیا جائے گا۔

پاکستان میں معمولی تبدیلی کے ساتھ 1861ء والا برٹش راج والا انتظامی ڈھانچہ رائج ہے جو عوام کے تحفظ  کی بجائے بالادست طبقے کے مفادات کے تحفظ کا کام کرتا ہے۔ پاکستان میں پولیس اصلاحات  کے لیے آزادی کے بعد سے ہی آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں اور عوام کی طرف سے مسلسل مطالبہ کیا جاتا رہاہے لیکن اسے کبھی عملی جامہ نہیں پہنایا گیا۔ آزادی کے فوراََ بعد 1948 میں سندھ اسمبلی کے اندر ایک بِل پیش کیا گیا تھا جس میں کراچی پولیس کو جدید قوانین و ضوابط اور ڈھانچے سے آراستہ کرنے کی بات کی گئی تھی، یہ بِل منظور تو کرلیا گیا لیکن اس پر کبھی عملدرآمد کی نوبت نہیں آئی۔ ستر سالوں میں اس مقصد کے لیے حکومتی سطح پر دو درجن کے قریب کمیشن تشکیل دیے گئے۔ ان کی پیش کردہ رپورٹس اور سفارشات کہیں ردی کی ٹوکریوں میں پھینک دی جاتی ہیں۔ لہذا یہ شعبہ اپنی استحصالی نفسیات کے ساتھ اسی طرح قائم ہے اور کمزور کو خوفزدہ کر رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی مجرمانہ اور ذاتی مفادات پر قائم  کوتاہی، بیوروکریسی کی مزاحمت اور کالونیل عنصر کی باقیات کے سبب یہ شعبہ اشرافیہ کا نوکر اور عوام دوست ہونے کی بجائے اس کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔

رواں سال جنوری میں چیف جسٹس ثاقب نثار (ر) نے بھی اپنی سربراہی میں پولیس ریفارمز کمیٹی کی ایک رپورٹ لانچ کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حقوق کی فراہمی اور منصفانہ ٹرائل میں پولیس کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔ اس شعبے کے احتسابی عمل، شکایات درج کرانے کو آسان بنانے، تحقیقات کو شفاف رکھنے اور رویہ جاتی اصلاح کے ساتھ  کئی دیگر امور رپورٹ کی تجاویز کا حصہ تھے۔ جو جوش وخروش کے ساتھ جاری تو ہوئی لیکن اس کےبعد  کوئی نتائج سامنے نہیں آئے۔ پولیس اصلاحات کا ایجنڈا تحریک انصاف کے پچھلے انتحابات کے منشور کا حصہ بھی تھا، جس میں یہ عہد کیاگیا تھا کہ اس شعبے کے اندر اخلاقی، تنظیمی اور تربیتی حوالے سے بہتری لائی جائے گی۔ اسے سیاسی اثرورسوخ سے بھی آزاد کیا جائے گا۔ لیکن یہ بھی ممکن نہیں ہوا۔

حکومتی اور نجی تنظیموں  کے متعدد سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ عوام سب سے زیادہ پولیس کے شعبے سے خوف محسوس کرتے ہیں اور اس پر اعتماد نہیں کرتے۔ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ دیگر شعبوں میں تو کسی حد تک بہتری لانے کی سعی کی جاتی ہے لیکن اسے بالکل توجہ نہیں دی جاتی۔ پولیس کا نظم براہ راست عوام کی روزمرہ زندگیوں کے ساتھ متعلق ہے اور ان کے قریب تر ہے۔ اس شعبے میں لائی جانے والی بہتری عام آدمی کو فوری فائدہ پہنچائے گی۔ لیکن فرسودہ سیاسی کلچر، اشرافیہ کی استحصالی نفسیات اور مقتدر گروہوں کے مفادات ایسا نہیں ہونے دیتے۔ اب بھی ایک اور کمیشن تو بن جائے گا لیکن تبدیلی کا امکان شاید نہ ہو۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...