گلگت بلتستان میں صحت کے شعبے کو درپیش مسائل

169

گلگت بلتستان میں عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے ڈاکٹرز ایک بار پھر سروسز کی مستقلی کے لیے احتجاج کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ان ڈاکٹروں نے پہلے مرحلے میں گلگت، پھر سکردو میں پریس کانفرنس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان بھر میں 10 اسپیشلسٹ ڈاکٹرز جبکہ 60 میڈیکل آفیسرز عرصہ تین سالوں سے عارضی بنیادوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہیں مستقل کرنے کے لیے گلگت بلتستان اسمبلی  پہلے ہی قانون کی منظوری دے چکی ہے اور کابینہ سے اس کی منظوری کے بعد ڈاکٹروں کی مستقلی کا فیصلہ سرکاری گزٹ میں بھی شائع ہوچکا ہے۔ مگر اس کا باقاعدہ نوٹفکیشن تاحال جاری نہیں ہوسکاہے۔

باربار کی یقین دہانیوں کے باوجود ان ڈاکٹروں کو مستقل نہ کیے جانے کے باعث ان میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس وقت ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سکردو سمیت کئی ہسپتالوں میں مریضوں کا بہت زیادہ ورک لوڈ کنٹریکٹ پر کام کرنے والے انہی ڈاکٹروں نے سنبھال رکھا ہے اور ان کی سروسز قابلِ تحسین ہیں۔ اب چونکہ قانونی تقاضے بھی پورے ہوچکے ہیں لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ان ڈاکٹروں کو فوری مستقل کرتے ہوئے ان میں موجود بے چینی کو ختم کیا جائے۔ اسی طرح کی غیر یقینی کی صورت حال زیادہ عرصہ بدستور جاری رہنے کی صورت میں گلگت بلتستان باصلاحیت اور تجربہ کار ڈاکٹروں سے محروم ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ یہاں کی نسبت ملک کے دوسرے شہروں میں بہتر حالات میں کام کرنے کے آپشن کو رد کر کے خدمت کے جذبے کے تحت  کام کرہے ہیں۔ اگر وہ اسی طرح مسائل کے گرداب میں پھنسے رہیں گے تو اپنی خدمات کو دوسرے شہروں میں منتقل کرسکتے ہیں۔

بلتستان میں یورالوجی اسپیشلسٹ ڈاکٹرز نہ ہونے کے باعث یہاں کے مریضوں کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے

دوسری طرف یہ مسئلہ بھی موجود ہے کہ یہاں ہسپتالوں کے بعض شعبہ جات میں اسپیشلسٹ  ڈاکٹرز کا فقدان ہے۔ سکردو میں پچھلے سالوں کی طرح بلتستان ڈاکٹرز فورم نے نو روزہ یورالوجی کیمپ لگایا جس میں ملک کے نامور یوروالوجی سپیشلسٹ سرجن ڈاکٹر سعید اختر اور اطہر خواجہ کی سربراہی میں ڈاکٹروں نے تین سوسے زائد مریضوں کا جدید مشینری کے ذریعے آپریشن کیا، جبکہ بڑی تعداد میں OPD میں بھی مریضوں کا معائنہ کیا گیا۔

ایک انٹرویو کے دوران شفاانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کے یورالوجی ٹرانسپلانٹ سرجن ڈاکٹر اطہر خواجہ نے بتایا کہ بلتستان میں یورالوجی اسپیشلسٹ ڈاکٹرز نہ ہونے کے باعث یہاں کے مریضوں کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ نو دنوں میں جتنے مریض دیکھے جاسکتے تھے ان کا علاج کیا ہے۔ یورالوجی کے ساتھ دیگر پیچیدہ امراض میں مبتلا مریضوں کا اسلام آباد میں علاج  ہوگا۔ ان کی سہولت کے لیے سردیوں میں اسلام آباد میں کیمپ لگائے جائیں گے۔ نیز سکردو میں تربیت یافتہ نرسوں کی کمی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے شفا انٹرنیشنل یہاں کے ڈاکٹروں اور نرسوں کو ایڈوانس کورسز میں تربیت کی سہولت فراہم کرے گا۔ حکومتی ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ گلگت بلتستان میں صحت کے مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور ہسپتالوں و ڈاکٹرز کو درپیش مشکلات کا ازالہ کرنے کے اقدامات کریں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...