کشمیر کا پرچم اور گاندھی جی کا مجسمہ

300

کشمیر میں نریندرمودی سرکار کی زیرسرپرستی اٹھائے گئے نئے اقدامات اور ریاست جموں و کشمیر میں بڑھتے ہوئے مظالم کے خلاف لندن میں برطانوی پارلیمنٹ سے بھارتی ہائی کمیشن تک کشمیر آزادی مارچ کیاگیا۔ احتجاجی مارچ کے دوران مظاہرین نے مہاتما گاندھی کے مجسمے کو کشمیری پرچم تھما دیا۔ جب میں نے یہ تصویرسوشل میڈیا پر شیئر کی توپشتون قوم پرست رہنما قاسم جان نے اس پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘یہ تو اچھی بات ھے کہ کشمیر کو انڈیا کے حوالہ کردیا’۔ تو کیا واقعی کشمیری مظاہرین کایہی مطمع نظر تھا؟

گاندھی جی کا انتقال ایک ہندو بنیاد پرست کے ہاتھوں  30جنوری 1948 میں ہوا۔ اس سے قبل انہوں نے 4 جنوری کو کشمیرکے حوالے سے ایک مبہم سا بیان دیا جس میں شیخ عبدااللہ کی طرف سے انڈیا کو دی گئی مداخلت کی دعوت کو جائز مانا گیا، مگرانہوں نے اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے جانے کوسراہا اور اس کوایک ناگزیر قدم  بھی گردانا۔ یہ بھی گاندھی ہی تھے جنہوں مہاراجہ کشمیرکو بھارت کے ساتھ جانے پر راضی کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت پاکستان اور بھارت دونوں برطانوی ڈومین کاحصہ تھے اور سرحد کے دونوں طرف کئی آزاد ریاستیں موجود تھیں جن کی تقدیر کا فیصلہ باقی تھا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ تقسیم ہند کے قریب، 1935 کے لگ بھگ سے انڈیا کی سیاست پر تین کا ٹولہ نہرو، ولبھ بھائی پٹیل اور آزاد کا چھاگئے تھے۔ گانگریس کے فیصلے یہی لوگ کرتے تھے جو دراصل بھارتی سماج کے مختلف گروہوں کی نمائندگی کر رہے تھے۔ گاندھی کومحض ایک گاڈفادر قرار دے کرنمونہ کے طور پر استعمال کیا جارہا تھا۔ گاندھی، نہرو، پٹیل اورآزاد نے مہاراجہ، اشرافیہ اور مسلم سیاستدانوں کے ساتھ مل کر اپنے طو ریاست جموں و کشمیرمیں ایک بندوبست بنایا۔ اس کے تحت ریاست جموں وکشمیر ایک نیم آزاد و خودمختار خطہ تھا، اس  کی خصوصی ائینی حیثیت تھی جس میں اس کا اپنا جھنڈا، اسمبلی اوراختیارات تھے۔ بی بی سی کے مطابق ‘ریاست کو اپنا آئین بنانے، الگ پرچم رکھنے کا حق دیا گیا تھا جبکہ انڈیا کے صدر کے پاس ریاست کا آئین معطل کرنے کا حق بھی نہیں تھا۔۔۔دفاع، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ کسی اور معاملے میں مرکزی حکومت یا پارلیمان مقامی ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر انڈین قوانین کا اطلاق نہیں کر سکتے تھے۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 360 کے تحت وفاقی حکومت کسی ریاست میں یا پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے تاہم آرٹیکل 370 کے تحت انڈین حکومت کو جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی’۔ خطے کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تناظرمیں ہونا ابھی باقی تھا۔ کانگریس کے بعد میں آنے والے رہنماوں جیسے اندراگاندھی و دیگرنےاس میں کوئی بنیادی ردوبدل نہیں کیا۔

جدید اور بدلتے ہندوستان میں کسانوں اور دیہی انڈیا کی نمائندگی کرنے والا کردار گاندھی نہیں بلکہ کانگریس میں سرمایہ داروں کا نمائندہ ولبھ بھائی پٹیل ہے

بھارت میں سیاست تیزی سے بدل رہی ہے۔ عالمی سطح پر انڈیا کا شمار اب دنیا کی بڑی جمہوریت ہی کے طو رپر نہیں ہوتا بلکہ اب یہ ایک بڑی معاشی قوت کے طورپر بھی ابھرا ہے۔ اب یہاں بہت بڑی سرمایہ داری اورسرمایہ دا رطبقہ کے ساتھ بہت بڑی مڈل کلاس اوراس کے نیچے بدحال شہری اور دیہی عوام ہیں۔ ایک طرف ترقی کے دعوے ہیں تو دوسری انہتائی پسماندگی ہے۔ لیکن اب معاشی بحران بڑھ رہاہے تواس کا اظہار مختلف طریقوں سے ہورہاہے۔ اس کے نتیجہ میں کمزور کومار لگائی جارہی ہے۔ والڈن بیلو کے مطابق لبرل ڈیموکریسی اور نیولبرل ازم دونوں ناکامی سے دوچار ہوئے تواس سے نریندرمودی سرکار جیسی حکومتیں سامنے آئیں۔ اسے وہ ‘کاونٹرریولیوشن’ کہتے ہیں۔ اس کامطلب یہ ہے کہ لبرل ڈیموکریسی اور نیولبرل ازم، 1990سے ابھرتی ہوئی مڈل کلاس کو خاطرخواہ مطمئن کرنے میں ناکام ہوئے تو یہ کلاس  ٹرمپ اور نریندرمودی جیسے سیاستدانوں کی طرف متوجہ ہوگئی۔  پرانا سیاسی بیانیہ تبدیل ہوا اوراب ان کی حکومتیں، فاشزم سے ملتی جلتی نظرآتی ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد سے سیاست پر روایتی پارٹیوں کانگریس اور بائیں بازوکی کمیونسٹ پارٹیوں کی اجارہ داری ختم ہوگئی ہے۔ لبرل، سوشل ڈیموکریٹ اور بائیں بازوکی جگہ ہندوقوم پرستی آگے آگئی ہے، جو مرکز سے دور اپنی ہی ریاستیں فتح کرنے کے درپے ہے۔ اسی کے تناظرمیں آئینی اور عسکری جارحانہ تبدیلیاں سامنے آرہی ہیں۔ گاندھی اور نہرو والا ہندوستان نہیں رہا۔

مودی سرکارنے گاندھی کے علامتی  کردار کو بھی تقریباََ ختم کر ڈالا ہے اور ایک دوسرے گجراتی رہنما سردار ولبھ بھائی پٹیل کا دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ گجرات میں نصب کردیا۔ اس طرح جدید اور بدلتے ہندوستان میں کسانوں اور دیہی انڈیا کی نمائندگی کرنے والا کردار گاندھی نہیں بلکہ کانگریس میں سرمایہ داروں کا نمائندہ ولبھ بھائی پٹیل ہے۔ یہ دلچسپ امرہے کہ پٹیل، گاندھی کودیہی انڈیا میں 1920کے لگ بھگ عوامی رابطہ مہم کے دوران ملے۔ لیکن بعد ازاں وہ آگے بڑھتے چلےگئے۔ انڈین سرمایہ دارپٹیل کوہی کانگریس میں اپنان مائندہ سمجھ کر چندہ دیتے اوران سے ملتے۔ یوں پٹیل کا پہلے پارٹی اوراس کے بعد حکومتی اثرورسوخ میں اضافہ ہوا۔

اگرغورسے دیکھاجائے توماضی کے مقابلے میں اب گاندھی روداری اور ہم آہنگی کی زیادہ نمائندگی کرتے نظرآتے ہیں۔ اب یہ سمجھا جارہا ہے کہ نریندرمودی سرکار اوران کی جنتا پارٹی، بھارت کوان آئیڈیلز سے بہت دورلے جارہے ہیں جس کے لیے گاندھی، نہرواور ان کا خاندان کھڑا تھا۔ اسی تناظر میں کشمیری مظاہرین نے کشمیر کا پرچم  گاندھی جی کے مجمسمہ کوتھما دیا کہ ‘دیکھ مہاتما تمہارا ہندوستان کتنا بدل گیا ہے’۔ وہ آئینی سقم بھی دور کردیا گیا جس کی وجہ سے بھارت ریاست جموں وکشمیرمیں اپنا پرچم نہیں لہرا سکتا تھا۔ یہ ریاست جموں و کشمیرکو بھارت کے حوالے کرنے کی مانگ نہیں بلکہ اس پر ایک طنز تھا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...