مزاحمتی اور علیحدگی پسند تحریکوں کا مستقبل

122

آزادی کی تحریک چند مثالیت پسند افراد کے خواب و فکرکے ساتھ شروع ہوتی ہے اور تیز رفتاری کے ساتھ  اپنے طبقے میں مقبولیت حاصل کرلیتی ہے۔ گزشتہ 25 سالوں کے دوران دنیا کے نقشے پر 9 نئے ممالک  وجود میں آئے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ علیحدگی پسندی کا رجحان 90 کی دہائی میں ختم ہوچکا ہوتا لیکن سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد اس کو دوبارہ تحریک ملی۔ اس وقت دنیا کے مختلف ممالک میں تقریباََ 100 کے قریب آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ یورپ میں بھی شناخت و حقوق کی بنیاد پر بعض ممالک میں یہ رجحان موجود ہے لیکن وہاں مجموعی طور پہ مکمل آزادی کے مطالبات شاذ ہیں۔ وہ گروہ اپنی مرکزی ریاست کے ساتھ کسی نوع کا تعلق برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

اگرچہ اب سیاسی یا مسلح طاقت کے کم ہونے کی وجہ سے علیحدگی پسند تحریکوں کی کامیابی کے امکانات کم ہوتے ہیں لیکن اس رجحان میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔ ماضی میں جو تحریکیں کامیاب ہوئی ہیں وہ ریاست کی اپنی کمزوری کی وجہ سے ہوئیں۔ خانہ جنگی ہوئی اور اسے کنٹرول نہ کیا جاسکا۔ زبردست عالمی یا علاقائی بیرونی مداخلت ہوئی۔ کمزور ہونے اور مزاحمت  کا راستہ نہ روک سکنے کے سبب معاہدے کے ذریعے ریاست خود دستبردار ہوگئی، جیسے سوڈان کی مثال۔2011 میں کامیاب علیحدگی پسند تحریک کی یہ آخری مثال ہے۔

عالمی برادری عمومی طور پہ آزادی کی تحریکوں کے حق میں نہیں ہوتی کیونکہ دنیا میں 10 فیصد ممالک ایسے ہیں جہاں شناخت کی یکسانیت غالب ہے ورنہ ہر ملک میں نسلی، ثقافتی اور مذہبی تنوع موجود ہے اور اس کے تناظر میں  کہیں نہ کہیں شکوے شکایات  بھی ہیں۔ اس لیے ایسی تحریکوں کی حوصلہ افزائی کم ہوتی ہے۔

امریکہ کی جارج میسن یونیورسٹی میں استاد احسن بٹ کہتے ہیں کہ اگر کہیں ایسی تحریک اٹھتی ہے تو ریاستیں اسے دبانے کی کوشش تو کرتی ہیں لیکن عموماََ اس کے ساتھ بہت زیادہ سختی سے برتاؤ نہیں کرتیں۔ طاقت کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب وہ بیرونی مداخلت کا خوف محسوس کرتی ہیں، یاانہیں ایسا ہوتا نظر آتا ہے۔ اس کی مثال میں وہ کشمیر، آسام اور پنجاب میں علیحدگی کی تحریکوں سے نمٹنے کے لیے بھارتی حکومت کے الگ الگ رویے کو پیش کرتے ہیں۔

بعض اوقات جب ریاست کسی ایک آئیڈیالوجی کے پس منظر میں فریق بن جائے تو بھی مزاحمتی فریق کے خلاف طاقت کا ناروا استعمال کیا جاتا ہے اور اسے دبا دیا جاتا ہے، شناخت کی سیاست کی مقبولیت کے بعد ایسی تحریکوں میں ریاست فریق ہی بن جاتی ہے اور بات چیت کا راستہ نہیں رکھا جاتا۔ اس کے علاوہ کسی گروہ کے خلاف ریاستی تشدد کا استعمال اس وقت بھی ہوتا ہے جب ملک میں متنوع طبقات پائے جاتے ہوں، اس حالت میں کسی ایک گروہ کی آزادی کی تحریک کو ڈھیل دینے سے یہ خطرہ موجود ہوتا ہے کہ علیحدگی پسند فکر کا لاوا اُبل پڑے گا۔

عالمی سطح پر طاقتور ممالک میں پاپولسٹوں  کے برسراقتدار آنے کی وجہ سے بھی آزادی، انسانی شرف اور حقوق کی اصطلاحیں کم وزن ہوئی ہیں اور ان کے مفاہیم بدلنے لگے ہیں۔ سیاست میں قانون اور نرمی کی بجائے طاقت کے استعمال کی سوچ کو غلبہ حاصل ہوا ہے

کشمیر کے تناظر میں بے دریغ ریاستی تشدد اور اس تحریک کو ناروا طریقوں سے دبانے کے پیچھے یہ سب عوامل کار فرما ہیں۔ بیرونی مداخلت اور اس تصور کی دنیا میں مقبولیت کی وجہ پاکستان کی اپنی غلط  پالیسی ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے ختم کیے جانے کے بعد بھی سرکاری سطح پر’’ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا سلوگن جانا بوجھا یا جیسا بھی ماضی کی پالیسی کا تسلسل ہے۔ دنیا میں اس تصور کی قبولیت کے بعد بھارت سارے کشمیر کو علیحدہ ملک  بنانے کے مطالبے کو بھی تسلیم نہیں کرے گا، نہ اس بابت دنیا میں کشمیریوں کی اپنی آواز کا اعتبار و بھرم رہ گیا ہے، کیونکہ سمجھا جاتا ہے کہ انجام کار اس کا انضمام پاکستان کے ساتھ ہوجائے گا۔

دنیا میں علیحدگی پسند تحریکوں کو دہشت گردی نے بھی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کی وجہ سے استعماری ریاستوں کا استحصال اور اس کے خلاف مزاحمت کا مسئلہ عالمی انسانی قضیہ نہیں رہا بلکہ مقامی شدت پسندی کا مسئلہ بن گیا ہے، یا بنا دیا گیا ہے۔ دہشت گردی اور مزاحمتی تحریک کے درمیان فرق قانونی سے زیادہ جغرافیائی اور سیاسی  بن گیا ہے۔ اس التباس نے جائز انسانی حق کی بنیاد پر اٹھنے والی آزادی اور مزاحمت کی تحریکوں کو متأثر کیا ہے۔

یہ التباس مصنوعی بھی ہے اور کہیں کہیں حقیقی بھی۔ اقوام متحدہ استعماری شکل و رویہ رکھنے والی ریاست کے خلاف کسی گروہ کی آزادی کی تحریک کی حمایت کرتی ہے اور اسے بعض شرائط کے ساتھ  مسلح مزاحمت اختیار کرنے کی بھی اجازت دیتی ہے، یہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا۔ لیکن نائن الیون کے بعد بعض امریکی ناانصافیوں، دہشت گردی کے ہوے اور اس کی ایک واضح تعریف پر اتفاق نہ کیے جانے کی وجہ سے  استعماری رویوں کی حامل ریاستوں کو فائدہ پہنچا۔ حتیٰ کہ 2004 میں امریکہ نے اسرائیل مخالف حماس اور  دیگر کئی فلسطینی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیدیا تھا۔ جہاں بھی آزدی کی تحریکیں موجود ہیں ان کی ریاستیں اسے آزادی و حقوق کا مسئلہ تسلیم کرنے کی بجائے دہشت گردی کا داخلی مسئلہ کہتی ہیں۔ مزاحمتی وآزادی کی جائز تحریکوں اور دہشت گردی کے درمیان فرق واضح کرنا ضروری ہے۔

یہ التباس کہیں کہیں حقیقی بھی ہے، چاہے وہ مسئلہ سچ میں انسانی بنیادوں پر قائم جائز ہی کیوں نہ ہو۔ مثال کے طور پہ رُوس مخالف چیچنیا کی تحریک  کی 90 کی دہائی کے شروع میں مقامی و سیکولر افراد قیادت کر رہے تھے۔ لیکن اب اس کا ڈھانچہ مذہبی نوعیت کا ہوگیا ہے۔ باہر کے شدت پسند اس کی افرادی و مالی معاونت کرتے ہیں۔ اگرچہ مزاحمتی تحریکوں میں اس طرح کی صورتحال شنوائی نہ ہونے اور ریاست کے بہت زیادہ جبر  کی وجہ سے پیدا ہوجاتی ہے لیکن اس کا نقصان بہرحال یہ ہوا کہ ان کی عالمی حمایت میں کمی واقع ہوئی۔

کشمیر میں بھی یہی صورتحال ہے۔ القاعدہ اور دیگر عالمی دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں کی کشمیری مسلمانوں کی حمایت  نے بھارت کو فائدہ پہنچایا۔ خود پاکستان کے حوالے سے بھی اس نوع کا منفی احساس دنیا میں موجودہے۔ اس طرح کا منظرنامہ مطلق العنان ریاست کے لیے ڈھال بن جاتا ہے۔

عالمی سطح پر طاقتور ممالک میں پاپولسٹوں  کے برسراقتدار آنے کی وجہ سے بھی آزادی، انسانی شرف اور حقوق کی اصطلاحیں کم وزن ہوئی ہیں اور ان کے مفاہیم بدلنے لگے ہیں۔ سیاست میں قانون اور نرمی کی بجائے طاقت کے استعمال کی سوچ کو غلبہ حاصل ہوا ہے۔ اس تبدیلی نے بھی  مزاحمتی و علیحدگی پسند تحریکوں کے مستقبل کو مخدوش بنا دیا ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...