کشمیر کا مسئلہ اور طاقت کا سوال

217

دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے مسائل خواہ وہ سیاسی ہوں یا علاقائی ان کا حل “طاقت” سے وابستہ ہوتا ہے۔ یہاں “طاقت” سے میری مراد مثبت ہے، منفی نہیں۔ اگر ایک قوم تعلیمی و سائنسی، تجارتی و سفارتی اور سیاسی و معاشی استحکام حاصل کرتی ہے تو اس کی آواز نہ صرف سنی جاتی ہے بلکہ  دنیا اس کی ہمنوا بھی بنتی ہے۔ ورنہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جو قوم اپنے موجودہ حاصل کردہ خطہ زمین کو خوشحالی اور استحکام نہیں دے سکی وہ مزید کچھ کرنے کی اہلیت کیسے رکھ سکتی ہے؟

مسئلہ کشمیر ایک خاص علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ مسئلہ انسانیت اور عالمی برادری کا نہیں بلکہ صرف مسلمانوں کا بن کر رہ گیا ہے۔ سال ہا سال سے ہمیں بتایا گیا ہے کہ ظلم کی یا آزاد نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے رہنے والے اکثر مسلمان ہیں۔ اس ظلم و جبر کی وجہ صرف اسلام دشمنی ہے۔ ایک طرف عالَم کفر ہے اور دوسری طرف عالَم اسلام۔ اس دعوے کے مقابل اگر ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے جہاں مسلمانوں پہ ظلم ہوا وہاں اقوام متحدہ نے ظلم کے خلاف آواز بھی اٹھائی اور امریکہ مدد کے لیے بھی آیا۔ جہاں جہاں کامیاب سفارت کاری ہوئی وہاں مغرب نے حمایت بھی کی۔ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ مغلوب کو ہمیشہ حاکم سے شکایت ہوتی ہے۔ بلکہ ان پہ جانبداری کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ یہ ایک نفسیات ہے کہ وہ حق نہ ملنے کو ظلم خیال کرتا ہے لیکن جب حق دیا جائے تو پھر اس حق کا بھی مطالبہ کرتا ہے جو اس کے مقابل دعویدار کا ہوتا ہے۔ وہ اسے ظلم خیال نہیں کرتا لیکن اپنے ساتھ کی ہوئی حق تلفی کو چیخ چیخ کر بتاتا ہے کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے یا ہورہا ہے۔

پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور امن و امان کی صورت حال ہمیں اس قابل نہیں چھوڑتی کہ ہم دنیا سے ڈٹ کر بات کر سکیں

سب سے پہلے اس رویے پہ غور اور اسے Review کرنے کی ضرورت ہے کہ آیاکہ ہم جس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں، وہ مسئلہ کیا ہے؟ اور وہ مسئلہ فقط ایک خاص قوم کا ہے یا وہ ایک علاقہ اور خطے کا مسئلہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کشمیر میں رہنے والے لوگوں پہ ظلم و جبر کا معاملہ سال ہا سال سے جاری ہے۔ لیوکون ییو (Lew Kuan Yew) نے اپنی کتاب From Third World To First میں مختلف ممالک کے سربراہان سے تعلقات کا بھی ذکر کیا ہے جن میں نہروسے لے کر نرسیمہا راؤ اور پاکستان کے سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق سے وزرائے اعظم(نواز شریف،بے نظیر بھٹو)تک سے ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ وہ پاکستان کی داخلی سیاست پہ بھی مختصر تبصرہ کرتا ہے لیوکون کو جدید سنگاپور کا بانی خیال کیا جاتا ہے۔

اس کتاب کا بطور مثال حوالہ دینے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح لیو پاکستان کی تجارت و سیاست کا ذکر کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے دنیا ہمارے داخلی معاملات سے بخوبی واقف ہے۔ ہمارے نقائص اور کمزوریاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ دنیا ہم سے ہماری صلاحیت و اہلیت کا درست استعمال چاہتی ہے۔ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور امن و امان کی صورت حال ہمیں اس قابل نہیں چھوڑتی کہ ہم دنیا سے ڈٹ کر بات کر سکیں۔ ہمارے مسئلے ہیں کہ شیطان کی آنت کی طرح بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور ہم ان مسئلوں کو حل کرنے کے بجائے “توجہ ہٹاؤ” پالیسی اختیار کر کے ایک نئے مسئلے کا Shelter ڈھونڈنے نکل پڑتے ہیں۔ عوام روز بروز مہنگائی، غربت اور نفسیاتی امراض کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔

خدانخواستہ حالت جنگ میں ایسی قوم یا ملک کتنا وقت  Servive کر پائے گا جس ملک کے اندرونی حالات مستحکم نہ ہوں۔ جنگیں کمیت کے زیادہ فرق سے لڑی جا سکتی ہیں لیکن کیفیت کے زیادہ فرق سے لڑنا نا ممکن ہوتا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے مستقل اور دیرپا حل کے لیے ہمیں دنیا کے سامنے ثابت کرنا ہوگا کہ پاکستان سیاست، معیشت اور تعلیم میں کسی سے بھی پیچھے نہیں ہے۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...