جیسا نصاب ویسا سماج

274

آج سے کچھ سال قبل بلوچستان ایک سیکولر و لبرل انسانوں کا آئیڈیل معاشرہ ہوا کرتا تھا۔ ترقی پسند ادیبوں سے لے کر روس کے کارل مارکس،  اینگلز و لینن کے پیروکار یہاں بھی ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب بلوچستان کے وہ سارے رنگ دھندلے ہو کر رہ گئے ہیں اور تشدد کے آثار ہر طرف نظر آتے ہیں۔ آج اگر بلوچستان جیسا لبر ل سوچ رکھنے والا معاشرہ تیزی کیساتھ بدلتا ہوا انتہا پسندی کی جانب بڑھ رہا ہے تو یہ سب اچانک نہیں ہوا بلکہ اس سماج کو ایک پراسس سے گزارا گیا اور ابھی تک وہ ایک مخصوص تشکیلی عمل سے گزر رہا ہے۔ یہ عمل سوائے تشدد کی پرورش کے اور کچھ نہیں کر رہا۔

تشدد کے تشکیلی عوامل ملک بھر کے مختلف علاقوں میں الگ الگ ہیں لیکن ان میں ایک عامل و سبب ایسا ہے جو مشترکہ ہے اور جو اگر تشدد کی آبیاری نہیں کر رہا تو اس  کے سامنے بند باندھنے کی اپنی ذمہ داری بھی پوری نہیں کر پا رہا۔ یہ عامل نصاب تعلیم کا ہے۔ نصاب کا بنیادی مقصد  ایک روادار اور تخلیق کار انسان تیار کرنا ہوتا ہے ۔ اس کے اثرات ان تمام ممالک میں محسوس کیے جاسکتے ہیں جہاں  سنجیدگی سے نصاب تعلیم کو ایک بہتر شہری پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ ہمارے جدید تعلیمی اداروں سے بھی تشدد پسند ذہن رکھنے والے  باہر آرہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم یا تو تشدد کا سدباب کرنا ہی نہیں چاہتے یا اس کے لیے جو سعی و سنجیدگی درکار ہے اس کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔

اس معاملے پر بھی ایک عرصہ سے بات ہو رہی ہے کہ سماج پر دینی مدارس کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے اور اگر تشدد سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو ان کے نصاب تعلیم پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ بلاشبہ مدارس کا ایک رُخ رفاہی اداروں کا بھی  ہے۔ اس نوعیت کے ادارے ملک کے لیے سودمند ثابت ہوسکتے ہیں بشرطیکہ ان کی حیثیت جداگانہ وامتیازی نہ ہو۔ یعنی کہ ان کے اندر مختلف حوالوں سے اصلاحات متعارف کرائی جائیں۔ خصوصی طور پہ نصاب تعلیم پر توجہ دیتے ہوئے اس میں بڑی حد تک تبدیلیاں لائی جائیں۔ یہ آسان اقدام نہیں ہوسکتا، جیساکہ اس کے تجربہ کئی بار کیا جا چکا ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس کا متبادل راستہ کوئی نہیں ہے۔

بلوچستان کو تجارتی و جغرافیائی تقاضوں اور حالات کی بِنا پر تشدد کے عناصر سے پاک کرنا ازحد ضروری ہے

پاکستان میں مدارس کی تعلیم جہاں ایک طرف انتخاب ہے وہیں یہ مجبوری بھی ہے۔ مفت رہائش، تعلیم اور کھانا پینا بلوچستان جیسے پسماندہ علاقے میں  والدین کی ضرورت بھی بن گئی ہے۔ بلوچستان میں آبادی کے تناسب کے حساب سے دیکھا جائے تو مدارس کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ صوبے میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 3 ہزار بتائی جاتی ہے جبکہ اندازے مطابق رجسٹرڈ وغیر رجسٹرڈ مدارس کی کُل تعداد 10 ہزار کے قریب ہے۔ صوبائی حکومت دینی مدارس کو عصری تعلیمی اداروں کے قریب لانے کے لیے پچھلے تین سالوں سے اقدامات کر رہی ہے۔ اس ضمن میں 2017 میں 90 مدارس کے 95 ہزار طلبہ کو پرائمری، مڈل اور میٹرک کا امتحان لازمی مضامین کے ساتھ پاس کروانے کےلیے تیار کیا گیا اور عصری تعلیمی اداروں کا نصاب پڑھانے کے لیے کچھ اساتذہ کی تعلیم وتربیت کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔ یہ منصوبہ ایک نجی تنظیم بلوچستان رُورل سپورٹ پروگرام کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا۔ لیکن بدقسمتی سے اس کے بعد مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں اور نہ یہ پتہ چلا کہ کتنی کامیابی حاصل کی جاچکی ہے اور مستقبل میں بھی یہ جاری رہے گا یا نہیں۔ خصوصاََ اب جبکہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے  نیا اصلاحاتی پروگرام سامنے آرہا ہے تو ماضی کی کوششوں اور منصوبوں کی حیثیت کا کیا ہوگا، یہ بھی واضح نہیں۔

بلوچستان کو تجارتی و جغرافیائی تقاضوں اور حالات کی بِنا پر تشدد کے عناصر سے پاک کرنا ازحد ضروری ہے۔ نوجوانوں کو اگر محفوظ کرنا ہے اور شدت پسندی کا شکار بننے سے بچانا ہے تو ان کی تعلیمی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔ دینی مدارس کے نظم اور نصاب کو صحت مند پراسس سے گزارا جائے۔ عصری تعلیمی اداروں کی سہولت  و دستیابی ہر جگہ یقینی بنائی جائے اور ان کے نصاب پر بھی نظرثانی کی جائے۔ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جیسا نصاب ویسا سماج۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...