بچوں کے ادب میں ایک خوبصورت و منفرد اضافہ

263

نہرو نے کہا تھا: “ننھے معصوم  بچے اور باغ میں کھلنے والی کلیاں ایک جیسی ہوتی ہیں، ان کی  پرورش بہت احتیاط اور  پیار سے کی جانی چاہیے کیونکہ یہ ملک کا مستقبل ہیں۔” جبکہ ہمارے سماج میں بچے ایک فراموش شدہ اور غفلت زدہ علاقے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ہم نسل نو سے نالاں و شاکی تو رہتے ہیں لیکن اس کی تربیت سے یکسر بے اعتنائی برتتے ہیں۔ اگر ہمارے بچوں میں تربیت کا فقدان ہے اور وہ سماجی عدم تحفظ اور غیر یقینی صورت حال سے لبریز ماحول میں بلوغت کی حدود میں داخل ہوتے ہیں تو کیا اس کے قصوروار بھی وہ خود ہیں؟ ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے باب میں ہم بڑوں نے چھوٹوں کے لیے کچھ نہیں کیا لیکن پھر بھی اپنی ذمہ داریاں نہ نبھانے کا الزام ہم انہیں معصوموں پر ہی رکھتے ہیں۔

بچے تو کورے کاغذ کی مانند ہوتے ہیں، اگر کسی کاغذ پر بدنما نقوش عیاں ہوں تو کیا اس کا ذمہ دار اس کاغذ کو ٹھہرایا جائے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ جہاں ایک طرف معاشرتی سطح پر گھروں میں تربیت اطفال کا سلسلہ معدوم ہے تو دوسری طرف دانشوران قوم اور ارباب علم و ادب نے بھی اس بابت کوئی مثالی کردار نہیں ادا کیا۔ ادبا و شعرا نے شاعری و افسانہ نگاری پر تو توجہ دی کہ اس کے خریدار عام ہیں لیکن ادب اطفال پر خاطرخواہ لٹریچر تخلیق نہیں کیا جا سکا، تاہم ادبا نے کبھی بھی اپنی اس کوتاہی کا ذمہ دار براہ راست بچوں کو نہیں قرار دیا بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ بچوں میں ادبی رجحان کی کمی کی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ والدین نے رجحان سازی میں اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ یہ بات بجا ہے کہ والدین انتہائی غفلت اور تقصیر کے مرتکب ہوئے لیکن ارباب علم و ادب اور ان کے ساتھ ہمارا میڈیا بھی برابر کے قصوروار ہیں۔ آئے دن نت نئی کتابیں مارکیٹ میں آرہی ہیں لیکن ان میں بچوں کی تربیت پر مبنی کتابیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں، اسی طرح ٹی وی پروگراموں میں سب کچھ دکھایا جاتا ہے ماسوائے بچوں کے پروگراموں کے۔ صرف کارٹون چینلز ہیں وہ بھی انڈین یا پھر انگلش، جن میں مشرقی تہذیب تو درکنار پاکستانیت کا بھی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس طرح ایک نسل پروان چڑھ رہی ہے جو اپنی تہذیب و ثقافت سے واقف ہے نہ مذہب و اقدار سے آشنا۔

بچوں کے ادب کی تخلیق میں چھائی ہوئی اس مایوس کن خاموشی میں نگاہ ذوق منتظر تھی کہ کوئی ادب کا شہسوار اس میدان کا رخ بھی کرے لیکن انتظار بڑھتا گیا اور گھٹن پھیلتی گئی یہاں تک کہ ادب اطفال پر دو نئی تصنیفات تازہ ہوا کا جھونکا بن کر آئیں، پہلی کتاب کا ٹائٹل “کہانی کہانی میں اچھی باتیں” ہے جبکہ دوسری کتاب کا سرورق ” The Dream Maker and the Butterfly of the Strange Forest” کے عنوان سے مزین ہے۔

یقینا آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہو رہا ہو گا کہ آخر کس ادیب نے ادب اطفال کے اس بیابان کر طرف رخ کیا اور  بہ یک وقت دو تصنیفات پیش کر ڈالیں؟ اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے آپ کے ذہن میں مختلف اصحاب قلم کا نام آ سکتا ہے لیکن ایسا کوئی بھی نام امر واقعہ سے مطابقت نہیں رکھے گا، کیونکہ اس محنت طلب اور مشکل کام کے لیے جس قلمکار نے خود کو پیش کیا ہے اس کا شمار خود ادب اطفال کے قارئین میں ہوتا ہے جن کے لیے یہ ادب تخلیق کیا جاتا ہے۔اور وہ ہیں کم عمری میں عزت و شہرت کی بلندیوں کو چھونے والی نوعمر مصنفہ و مترجمہ آسیہ عارف۔

ایک طرف معاشرتی سطح پر گھروں میں تربیت اطفال کا سلسلہ معدوم ہے تو دوسری طرف دانشوران قوم اور ارباب علم و ادب نے بھی اس بابت کوئی مثالی کردار نہیں ادا کیا

آسیہ عارف چودہ سال کی طالبہ ہیں۔ آسیہ نے پاکستان کی کم عمر ترین یونیورسٹی کوالیفائیڈ ہونے کے علاوہ متعدد خلیجی و عرب ممالک کی طرف سے مختلف اعزازات حاصل کر رکھےہیں اور اب تک چار کتابیں تصنیف کر چکی ہیں۔ پہلی دو کتابیں طبع زاد ہیں جو بالترتیب آٹھ اور نو سال کی عمر میں تصنیف کیں، جبکہ حالیہ دو کتابیں عربی سے اردو اور انگریزی ترجمہ پر مشتمل ہیں۔

ادبِ اطفال، ادب کی ایک مشکل ترین صنف سمجھی جاتی ہے۔ کیوں کہ اس کی تخلیق میں کئی مقاصد ادیب کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ اس کے ذریعے بچوں کو انٹرٹینمنٹ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان میں ثقافتی و تہذیبی ورثے کو منتقل کرنے، تخیل کو بیدار کرنے، مختلف النوع تجربات سے روشناس کرانے، دنیااور ماحول کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنے اورا اعلی ٰخلاقی اوصاف کو پروان چڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں ان میں پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت بھی پیدا کی جاتی ہے۔ اس لیے قلمکار کو نہ صرف بچوں کی نفسیات، موضوع  کےاعتبار سے بچوں کی پسند نا پسند، بچوں کی عمر  کے لحاظ سے  زبان و الفاظ  کا استعمال، جملوں کی ساخت  یعنی آسان جملے ، دلچسپ  انداز بیان ،اختصار  اور کسی بھی صورت  میں براہ راست نصیحت اور تبلیغ  سے پرہیز وغیرہ جیسے امور کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ معروف ادیب  محمّد حسین آزاد نے لکھا ہے کہ :

“جب تک آدمی خود بچہ نہ بن جائے، تب تک وہ بچوں کے لئے اچھی چیز لکھ ہی نہیں سکتا- ”

اسی لیے شاید اہل ِقلم اس انتظار میں رہے کہ کوئی آدمی دوبارہ بچہ بن کر ادب کی اس صنف کو تخلیق کرے، لیکن بھلا ہو آسیہ عارف کا کہ انہوں نے اس مشکل کو آسان کر دیا اور خود نوعمر بچی ہوتے ہوئے اپنے ہم عمروں کے لیے تین زبانوں میں ادب تخلیق کر چکی ہیں۔

پہلی کتاب عربی کی بیس سبق آموز مختصر  کہانیوں کے ترجمہ پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب معاصر عرب دنیا میں ادب الاطفال کے سب سے بڑے شہسوار لبنانی نژاد کویتی اسکالر ڈاکٹر طارق البکری کی ہے جو کہ قدرے طویل کہانی ہے، جس میں کہانی کہانی میں مصنف بچوں میں کتب بینی کا جذبہ پیدا کرتے نظر آتے ہیں۔ آسیہ عارف نے اس شہرہ آفاق عربی کہانی کو مصنف کی اجازت سے انگریزی کے قالب میں ڈھالا ہے اور ترجمہ کاری میں بچوں کی نفسیات اور عمر کے مطابق ہی زبان و محاورے کو ملحوظ رکھا ہے اور آسیہ سے بہتر یہ کون جان سکتا ہے کہ بچوں کے مطابق زبان کیسی ہونی چاہیے کہ آسیہ خود اسی عمر میں ہے۔اسی لیے ترجمہ کے اسلوب کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس میں آسیہ نے مصنف (جوکہ ادھیڑ عمر ہیں لیکن بچوں کی زبان لکھتے ہیں) سے بھی زیادہ سہل انداز اپنایا ہے اور بیشتر مقامات پر لفظ بہ لفظ (word for word)ترجمہ سے عدول کرتے ہوئے فکر بہ فکر (thought for thought) ترجمہ کاری کی ہے جس سے اس کام کی افادیت مزید بڑھ گئی ہے۔

ایسے دور میں جبکہ ادبِ اطفال پر مین سٹریم سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور اہلِ ادب و نقد کوئی خاص توجہ نہیں دے رہے، آسیہ جیسی نووارد نے دشت ادب و ترجمہ میں جرأت مندی کے ساتھ قدم رکھا اور موضوع پر بہترین کہانیوں کا انتخاب کر کے اپنے ہم وطن نونہالوں کے لیے پیش کیا۔

مترجمہ کی خواہش پر ان کے والد ڈاکٹر عارف صدیق نے کتاب کی طباعت بھی اسی ذوق سے کروائی ہے جو ذوق کہانیوں کے انتخاب میں نظر آ رہا ہے اور نہ صرف کتاب کا ظاہری سراپا دیدہ زیب اور جاذبِ قلب ونگاہ ہے بلکہ بچوں کی نفسیات کے مطابق ایک ایک باتصویر صفحہ مترجمہ اور ان کے والد کےحسنِ ذوق و طبعِ نفیس پر دلالت کرتا ہے۔

آسیہ عارف نے یہ کارنامہ اس عمر میں سرانجام دیا جس میں والدین بچوں کی توجہ پڑھائی پر مرکوز کرنے کے لیے پریشان دکھائی دیتے ہیں، اس حوالے سے ڈاکٹر عارف صدیق کو بھی اپنے تجربات کی روشنی میں مختلف فورمز پر بچوں کی تعلیم و تربیت کی بابت والدین کی رہنمائی کرنی چاہیے کہ وہ کس طرح اپنے بچوں کو آئی پیڈ اور موبائل سے دور رکھ کر ان کا ناتا کتاب سے جوڑ سکتے ہیں۔ بہرحال آسیہ عارف اور ان کے والدین اپنے عمل سے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ جس نسل کو ہم تربیت کے فقدان کا طعنہ دیتے ہیں اس کے ذمہ دار بھی ہم خود ہیں کہ تربیت محض جسمانی خوراک و ضروریات مہیا کر دینے کا نام نہیں ہے بلکہ ذہنی و روحانی تربیت ہی اصل تربیت ہے، اگر بچوں کی تربیت میں والدین اور دانشوران قوم ذہنی صلاحتیوں کی آبیاری کے لیے بھی کام کریں تو نئی نسل سے ہمارے شکوے خود بخود ختم ہو جائیں گے کہ:

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...