اہلِ سکردو کو کیا ہوگیا ہے؟

148

کچھ عرصہ پہلے سکردو میں آنے والے حکومتی ذمہ داران سے جب بھی  ملاقات ہوتی اُن کی جانب سے پہلا جملہ یہ سننے کو ملتا کہ ہمیں اس بات کا بہت افسوس ہے کہ سکردو اب پہلے والا  نہیں رہا۔ اُن کا یہ جملہ یقینا ََہمارے لئے غیر متوقع ہوتا اور ہم اس پر شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے سوال کرتے کہ حضور سکردو کو آخر ایسا ہوا کیا ہے؟ وہ ماضی کی طرح آج بھی پُر امن ہے۔ کسی تھانے میں سال بھر ایک قتل کا مقدمہ درج نہیں ہوتا۔ چوری ڈکیتی کی کوئی بڑی کاروائی یہاں نہیں ہوتیں۔ اور اگر وطن سے محبت اور عقیدت کی بات کی جائے تویہ خطہ شہید پرور لوگوں کی سرزمین ہے۔جس کی گواہی 1947-48 کی جنگ آزادی،  1965 اور 1971 کی پاک بھارت کی جنگیں ، 1984 کامعرکہ سیاچن اور 1999کی کرگل لڑائی  کے واقعات پکار پکار کر دے رہے ہیں۔ جس پر حکام کا اگلا جملہ یہ ہوتا  کہ ان باتوں سے ہمیں اتفاق ہے لیکن آج کل  گلگت  بلتستان میں کوئی بھی (منفی) تحریک اٹھے اس کا آغاز سکردو سے ہوتا ہے۔

وہ کہتے تمام تر ترقیاتی سرگرمیوں کے باوجود یہاں ہونے والے اجتماعات میں مقررین اور سوشل میڈیا پر لوگ اِن کاموں کو سراہنے کی بجائے انہیں  مسلسل منفی انداز میں تنقید کانشانہ بناتے رہتے ہیں۔ ہمارا جواب یہ ہوتا کہ جی با لکل، اگر آپ کی مراد اینٹی ٹیکس مومنٹ سے متعلق ہے تو اس کا آغاز بلتستان سے ہوا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس حقیقت سے کسی کو انکار ممکن نہیں کہ بغیر آئینی حقوق دیے شہریوں سے قانونی طور پر ٹیکس کا تقاضا نہیں کیا جاسکتا۔ دوسری جانب پانی کی دستیابی کے عروج کے سیزن جون اور جولائی میں بھی لوگ پینے کے صاف پانی اور روشنی کے لیے بجلی کو ترس رہے ہوں تو جلسے جلوسوں میں لوگ گلہ نہ کریں تو کیا کریں۔ لیکن قابل ستائش پہلو یہ ہے کہ جتنے بھی جلسے جلوس ہوں یہ سارے احتجاجات پُر امن ہوتے ہیں اور اپنی رائے کے اظہار کیلئے جلسہ، جلوس اور تقاریر کا سہارا لینا کسی بھی انسان کا بنیادی حق ہے جس سے کسی کو بھی محروم نہیں کیا جاسکتا۔

نہیں معلوم کہ حکام ہماری ان باتوں سے کس حد تک مطمئن ہوتے تھے لیکن بحث کا سلسلہ تو کم از کم ان توجیہات کے پیش کیے جانے کے بعد رُک جاتا تھا۔ لیکن گذشتہ چند ہفتوں سے  خاص طور پہ سکردو اور  بالعموم بلتستان میں کچھ ایسی صورت حال کا تمام شہریوں کو سامنا ہے جسے دیکھ کر کبھی کبھی ہمیں خود بھی یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ اب لوگوں کا رویہ وہ نہیں رہا جو کبھی اہل بلتستان کا ہوتا تھا۔ مجھے ان باتوں کا احساس تب ہونے لگا کہ جب سکردو شہر کی مختلف سڑکوں سے گزرا تو شہر میں جابہ جا کوڑے کے ڈھیر لگے دیکھے۔ سیاحوں کی آمد  کے اس سیزن میں جب ہمارے ہاں بڑی تعداد میں ملکی سیاحوں کے علاوہ غیر ملکی سیاحوں اور کوہ پیماؤں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ایسے میں سڑکوں  کی کئی روز سے صفائی نہ ہونا نہ صرف سکردو  بلتستان یا گلگت  بلتستان کی بدنامی کا باعث ہے بلکہ یہ سلسلہ پورے ملک کی بدنامی کا باعث ہے۔

 اس مسئلہ میں حکومتی یا متعلقہ اداروں کی نسبت خطے کے عوامی رویے کا عمل دخل زیادہ ہے اور لوگ اس صورتِ حال کے ذمہ دار ہیں

گلگت  بلتستان میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے ادارے کے قیام کے بعد تمام اضلاع میں صفائی کی صورت حال میں واضح بہتری آئی تھی لیکن پچھلے کچھ عرصے سے شہر کی صفائی کا کام ایک دم سے رُک گیا ہے ۔اب سکردو شہر میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جس سے مقامی افراد،مارکیٹ میں آنے والے خریدار بلکہ ان سب سے بڑھ کر یہاں بغرض سیاحت آنے والے سیاح متاثر ہورہے ہیں اور یہ سارے سیاح  بلتستان کے خطے، یہاں کی انتظامیہ اور حکومت کے بارے میں غلط تاثرات لے کر جارہے ہیں جو کسی بھی صورت ہمارے اجتماعی مفاد میں نہیں۔ گندگی کے ڈھیر ایک طرف شہر میں تعفن کا باعث بن رہے ہیں تو دوسری طرف یہ صورت حال بڑھتے ہوئے سیاحتی امکانات کی راہ میں بھی براہ راست رکاوٹ ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سکردو میں اچانک صفائی کا سلسلہ کیوں رک گیا؟ اس سلسلے میں حکومتی یا متعلقہ اداروں کی نسبت خطے کے عوامی رویے کا عمل دخل زیادہ ہے اور لوگ اس صورت ِحال کے ذمہ دار ہیں۔ ماضی میں کئی عشروں سے شہر سے جمع ہونے والا کوڑا کرکٹ سندوس میدان میں دریا سندھ کے کنارے مٹی میں دبادیا جاتا تھا۔ لیکن مسلسل کئی سالوں سے دریائے سندھ کے جاری کٹاؤ کے باعث اب وہ مقام دریا کا حصہ بن گیا ہے اور وہاں جمع شدہ گندگی دریا میں جانے سے دریا میں موجود آبی حیات کے لیے بھی شدید خطرات پیدا ہوگئے تھے۔ جس پر انتظامیہ نے کافی سوچ  بچار کے بعد تھورگو میں شہر کے کچرے کو زمین میں دبانے کے لیے ایک جگہ مختص کی۔ لیکن عوامی حلقوں میں سے کچھ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو اس مقام پر کچرا پھینکنے کا عمل روک دیا گیا۔ جس پر انتظامیہ نے پنج گرایں میں محکمہ جنگلات کی اراضی میں سے اس ضرورت  کے لیے زمین مختص کی۔  70 لاکھ روپے کا منصوبہ تیار ہوا تاکہ کچرے کو تلف کرنے کے انتظامات کیے جاسکیں۔ اس منصوبے پر کام ہونے تک روزانہ کی بنیاد پر جمع ہونے والے کچرے کو سکردو لاری اڈے کے نزدیک زمین میں دبانے کی کوشش کی گئی لیکن اس علاقے کے کچھ لوگ پلے کارڈز لے کر سڑکوں پر آگئے کہ سکردو حلقہ ون کا کچرا حلقہ 2 میں پھینکنے نہیں دیا جائے گا۔

اگر تھورگو اور یولتر میں شہر کا کچرا یہ کہہ کر پھینکنے یا وہاں تلف کرنے سے روکا جائے کہ حلقہ ون کا کچرا حلقہ 2یا 3 میں لانے نہیں جانے دیا جائے گا تو کل کو یہ مطالبہ بھی سامنے آسکتا ہے کہ حلقہ دو یا تین سے پیدا ہونے والی بجلی حلقہ ون میں نہ فراہم  جائے۔ پھر سکردو حلقہ ون  سے کچھ جذباتی نوجوان جواباً یہ کہہ سکتے ہیں کہ سکردوحلقہ 2 اور سکردو حلقہ نمبر 3 کے مریض یا طلبا سکردو شہر کے ہسپتال یا سکول و کالج میں نہ آئیں۔  یہ گمراہ کن مطالبے عوام کو تصادم کی جانب ہی دھکیلیں گے اور ممکنہ طورپر خدا نخوستہ ایسے حالت پیدا ہو گئے تو یہ کسی بھی حلقے کے لوگوں کے حق میں نہیں ہوگا۔

سوال یہ اُبھرتا ہے کہ کیا سکردو شہر کا کچرا صرف حلقہ ون والوں کا ہے؟ کیا شہر کی مارکیٹوں میں شہر سے زیادہ مضافات کے لوگ نہیں؟ کیا سکردو ہسپتال میں تمام حلقوں کے مریضوں کا علاج نہیں ہورہا؟ کیا سکردو شہر  بلتستان کا مرکزی شہر اور کاروباری حب نہیں؟ اور یہاں تمام حلقوں ہی نہیں بلکہ  گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کے لوگ یہاں سالوں سے کاروبار اور ملازمت نہیں کر رہے؟کیونکہ کسی بھی شہری کو ملک کے کسی  بھی حصے میں کام کرنے اور جینے کا حق حاصل ہے جس کی بنیاد پر شہر سے نکلنے والے کچرے میں بھی سب کا حصہ ہے۔ ایسے میں انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو اپنی صوابدید پر چھوڑنا چاہیے کہ وہ فنی بنیادوں پر کسی آبادی کو متاثر کیے بنا جہاں مناسب سمجھیں  ان کو تلف کریں۔  ضلعی انتظامیہ کو بھی اپنی اداؤں پر غور کرنا چاہیے کہ جو بھی فیصلہ کرے سوچ سمجھ کر اور غورو خوص و مشاورت کے بعد کرے۔ ایسا نہ ہوکہ آج ایک آرڈر جاری کرے اور  اس آرڈر کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے اُسے واپس لے لیا جائے۔ اہل بلتستان  کو کیا یہ بھی سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جب سے اپنی صفوں میں اتحاد کو چھوڑ کر افتراق کا شکار ہوئے ہیں ان کی وہ حیثیت نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...