ایڈز: تیزی سے پھیلتا مہلک مرض اور حکومت کی بے توجہی

156

پنجاب حکومت سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ننکانہ صاحب کی تحصیل شاہ کوٹ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 140 تک پہنچ گئی ہے۔ فیلڈ سٹاف سروے کے مطابق تحصیل میں یہ بیماری تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیاگیا ہے کہ اگر ٹیسٹ کرائے گئے تو ضلع کے دیگر علاقوں میں بھی ایسی ہی صورتحال سامنے آسکتی ہے۔ اس سے قبل سندھ میں لاڑکانہ کی ایک تحصیل رتو ڈیرو میں جُون تک کے میڈیکل معائنوں میں 707 افراد کے اس مرض میں مبتلا ہونے کی تشخیص کی گئی تھی۔

یواین ایڈز 2019 کی حال ہی میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے اندر ایچ آئی وی اور ایڈز میں اضافے کی شرح 13 فیصد ہوگئی ہے جو دنیا کے باقی ممالک  کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے دنیا 2030 تک اس بیماری سے چھٹکارا پانے کا عزم رکھتی ہے لیکن پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت  ڈاکٹر ظفر مرزا کہہ چکے ہیں کہ ملک میں ایڈز سے متأثرہ 1 لاکھ 63 ہزار افراد موجود ہیں جن میں 25 ہزار رجسٹرڈ ہیں اور جن کا علاج ہو رہا ہے ان کی تعداد محض  16 ہزار ہے۔

پوری دنیا میں اس مہلک بیماری پر قابو پانے کے لیے مختلف سطح پر کام ہو رہا ہے اور اس میں کامیابی بھی ہوئی ہے۔ پچھلے سال ایچ آئی وی اور ایڈز سے ہونے والی اموات میں 33 فیصد تک کمی آئی ہے۔ لیکن پاکستان میں عدم توجہی کے باعث  گزشتہ ایک سال میں تقریباََ 22 ہزار شہری ایڈز کے جراثیم میں مبتلا ہوئے۔ پاکستان جس رفتار کے ساتھ اس مرض سے متأثر ہو رہا ہے اس کے لیے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جس علاقے میں زیادہ تعداد میں ایڈز کے جراثیم ملتے ہیں وہاں معائنوں کے لیے اس کی Kits تک قسط وار فراہم کی جاتی ہیں۔ علاج کے لیے ادویات کی فراہمی ایک الگ مسئلہ ہے۔ تقریباََ ڈیڑھ لاکھ شہری جن کا نہ علاج ہو رہا ہے، نہ وہ رجسٹرڈ ہیں، ان تک رسائی کے لیے  کوئی پلان زیرغور نہیں۔

صوبائی حکومتیں اس مرض سے نمٹنے کے لیے ورلڈ ہیلتھ آرگنائیزیشن اور بِل گیٹس فاؤنڈیشن سے رابطہ  کر رہی ہیں۔ ان سے ملنے والی امداد اور طبی سہولیات سے اس بیماری کا خاتمہ ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق بین الاقوامی رفاہی تنظیموں کی طرف سے امداد کی فراہمی میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ ایسا وسیع لائحہ عمل وضع کرنا ہوگا جس سے اپنے وسائل اور پروگرامز کے تحت ایڈز پر قابو پانے کے لیے کوششیں شروع ہوسکیں۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...