بی آر ٹی منصوبے کی لاگت میں مزید اضافے کا خدشہ

166

بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آرٹی) عام انتخابات 2013 کے بعد پاکستان تحریک انصاف صوبائی حکومت کا پشاور میں سب سے بڑا منصوبہ تھا جس کو اُس وقت کے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے 2018 کے انتخابات کو سامنے رکھ کر شروع کیا تھا تاکہ اسی کو بنیاد بناکر اگلے عام انتخابات میں، بالخصوص پشاور سے کامیابی حاصل کریں۔ ستمبر 2017 میں شرو ع کیے جانے والے اس منصوبے کو وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے چھ مہینوں کے اندر اندر یعنی 2018 کے عام انتخابات سے پہلے مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ بغیر کسی تیاری اور ہوم ورک کے شروع کیے گئے اس منصوبے کو دوسال ختم ہونے کو ہیں لیکن یہ مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے، بلکہ یہ پاکستان تحریک انصاف کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے جسے نہ اُگلا جاسکتا ہے نہ نگلا۔

47 ارب اخراجات کے تخمینے سے شروع کیےجانے والے اس منصوبے کے کوریڈو پر تقریبا ً100 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور اس کے تمام 35 اسٹیشنوں میں صرف 12 فیصد کام رہ گیا ہے۔ لیکن جس طرح یہ ڈھانچہ کھڑا کیاگیا ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کےڈیزائن میں نقائص سامنے آرہے ہیں جس کے وجہ سے نہ صرف اس میں مسلسل تبدیلیاں کی جارہی ہیں بلکہ اس سے منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر اور افراط زر کی شرح میں اضافے سے اس کے اخراجات میں اضافہ بھی ہوتا جارہا ہے۔

ذرائع کے مطابق بی آر ٹی منصوبے میں اب تک 100سے زائد تبدیلیاں کی جاچکی ہیں۔ حال ہی میں آٹھ مختلف موڑوں اور شہر کی دیگر سڑکوں سے رابطے کے لیے بنائی گئی جگہوں کو توڑ کر ازسرنو تعمیر کروایا گیا کیونکہ ان جگہوں سے 18 میڑ لمبی بسوں کا گزرنا ناممکن تھا۔ اسٹیشن نمبر 26 کی چو ڑائی کم ہونے کی باعث اس پہ تبدیلی کا کام جاری ہے۔ اس اسٹیشن پر بسوں کے ٹکراؤ کے خدشے کی وجہ سے ٹھکیدار نے نئے ستونوں کی تعمیر شروع کردی گئی ہے۔

بی آرٹی منصوبے کو مالی تعاون دینے والے ایشین ترقیاتی بنک نے اپنی رپورٹ میں تحفظات کا اظہار کیا ہےاور تقریباََ 22 نقائص کی نشاندہی کی تھی جس میں روڈکی چوڑائی، ناقص میٹریل کا استعمال،  لین کی 5.6 میڑسے کم چوڑائی، ناقص ٹائلز اور غیرمعیاری جنگلوں کا استعمال شامل ہے۔ اس رپورٹ  کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے  تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔

خرید کر کھڑی کی گئی 70 بسیں بھی متأثر ہورہی ہیں۔ ان بسوں کی گارنٹی دو سا ل ہے، جب تک منصوبہ مکمل نہیں ہوتا تب تک ان میں موجود نقائص کا بھی پتہ نہیں چل سکتا

پشاور بس منصوبے میں کئی اسٹیشنوں میں بنائے گئے واش رومز کو توڑکر دوبارہ تعمیر کیا جارہا ہے کیونکہ کئی اسٹیشنوں میں یہ باہر بنائے گئے تھے جبکہ ایشین ڈویلپمنٹ بنک نے ان واش رومز کو اسٹیشنوں کے اندر تعمیر کرنے پر زور دیاتھا۔ لنک روڈ کے قریب اسٹیشنوں میں بیت الخلا دوبارہ اس لئے تعمیر کئے جارہے ہیں کہ ان کے ردوازے مین روڈ کی طرف تھے۔ نہ صرف کئی اسٹیشنوں میں توسیع کی جارہی ہیں بلکہ نکاسی آب کے لیے ملحقہ سڑکوں کو بھی دوبارہ کھودا جارہا ہے۔

دعوے کے مطابق چھ مہینوں میں مکمل ہونے والے منصوبے کی افتتاحی تقاریب کو کو کام مکمل نہ ہونے کے باعث چھ بار منسوخ کرنا پڑا۔ مارچ میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے نامکمل منصوبے کا افتتاح کرنے سے انکار کیا تھا اور اسے ہر صورت میں جُون کے آخر تک مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ بعد میں صوبائی حکومت نے افتتاحی ڈیڈلائن دینے سے گریز کیا اور خاموشی ہی میں اپنی عافیت سمجھی۔  جُون ڈیڈلائن گزرنے کے بعد حکام نے تمام تر تعمیراتی کا م ستمبر تک ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اب نئی خامیاں سامنے آنے سے یہ منصوبہ مزید التوا کا شکا ر ہوجائے گا۔

منصوبے میں تاخیر کی وجہ سے شہری اور ٹریفک پولیس اہلکار سانس اور آنکھوں کی بیماریوں میں بھی مبتلا ہو رہے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ٹریفک پولیس نے اپنے محکمہ سے بی آر ٹی رُوٹ پر ڈیوٹیاں سرانجام دینے والے لگ بھگ 50 اہلکاروں کا علاج کروانے کا مطالبہ کیا تھا جو سانس اور آنکھوں کی بیماریوں میں مبتلا ہوگئے تھے۔

بس منصوبے کی تعمیر اور تکمیل میں تاخیر سے پشاور کے شہری بالخصوص تجارت اور دیگر معاشی سرگرمیوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بہت پریشان ہیں۔ عوام کی مشکلات کے پیش نظر سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے منصوبے پر کام تیز کرنے اور اس جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے پشاور قومی جرگہ بھی تشکیل دیا تھا۔ پچھلے دو سالوں سے بس منصوبے پر تعمیر سے نہ صرف پشاور شہر بلکہ صوبے کے دیگر اضلاع اورعلاقوں کے معاشی و تجارتی شعبوں پر بھی منفی اثرات پڑرہے ہیں۔ بس منصوبے کے دونوں جانب ہزاروں کی تعداد میں دکانوں اور تجارتی پلازوں کے سامنے پارکنگ ایریا تقریبا ختم کردیا گیا ہے جبکہ جی ٹی روڈ اور یونیورسٹی روڈ پر قائم  قدیم سروس روڈ بھی اس منصوبے کی نذر ہوگئی ہے۔

پشاور کے ایک سینئر صحافی عزیز  بونیری جو پچھلے دو برسوں سے اس منصوبے پر نظر رکھے ہوئے ہیں نے کہا کہ منصوبے کی ڈایزئنگ میں باربار تبدیلیوں سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہورہا ہے اور اس کی وجہ سے خرید کر کھڑی کی گئی 70 بسیں بھی متأثر ہورہی ہیں۔ ان بسوں کی گارنٹی دو سا ل ہے۔ جب تک منصوبہ مکمل نہیں ہوتا تب تک ان میں موجود نقائص کا بھی پتہ نہیں چل سکتا۔ اس طرح آنے والے وقت میں مزید  اخراجات بڑھنے کا خدشہ بھی  ہے۔ تاہم پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے عہدیدار کا دعویٰ ہے کہ یہ منصوبہ اگست 2018 کے نظر ثانی شدہ 67ارب روپے کے اخراجات ہی سے مکمل ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس وقت کو ریڈور کی تعمیر کا کام 100 فیصد مکمل ہے جبکہ صرف اسٹیشنوں میں 15 فیصد کام مکمل ہے جو ان کے بقول ستمبر تک پایہ تکمیل کو پہنچادیا جائے گا۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...