امکانات کی دنیا لامحدود ہے

247

انسان کی سب سے بڑی لڑائی اور جنگ اپنے آپ سے ہے۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہو جائے تو وہ بہت برے حالات میں بھی Survive کر جاتا ہے، صرف Survive ہی نہیں بلکہ حالات پہ غالب آجاتا ہے۔ مقابلہ کبھی ذہانت، کبھی حاضر دماغی، کبھی حوصلہ اور کبھی اعصاب و اوسان کا ہوتا ہے۔ اگر شکست کا خوف دل سے نکال دیا جائے اور ہر حال میں آگے بڑھنے کا عزم ہوتو دل میں محرومی کا احساس اور پچھتاوا نہیں رہتا۔

زندگی امکانات کا دوسرا نام ہے جس میں ایک امکان، ناکامی، موت اور شکست کا ہے۔ دوسرا امکان پہلے امکان سے کسی طرح بھی کم نہیں ہے۔۔۔ کامیابی، زندگی اور فتح بھی بانہیں کھولے انسان کا انتظار کرتے ہیں۔ امکانات کی اس دنیا میں انحصار انسان پہ ہے وہ اپنی سوچ اور نفسیات میں کسے اپنا مقصد بناتا ہے۔ ہم نے بہت سے لوگوں کو بخار کے ہاتھوں گِرتے دیکھا ہے اور بہت سے لوگوں کو کینسر جیسے موذی مرض کو پچھاڑتے بھی دیکھا ہے۔ امریکہ میں ایک شخص کو موت کی سزا میں  کہا گیا تمہیں کوبرا کے زہر سے مارا جائے گا۔ اس کی آنکھوں پہ پٹی باندھ کر صرف سوئی چبھوئی گئی اور وہ پِن کی چبھن کو کوبرا کا ڈنگ سمجھ کر مرگیا۔ حالانکہ وہ سوئی کی چبھن تھی۔ ہم دیکھتے ہیں، ہسپتال میں ایک شخص کی رپورٹیں بدل جانے کی صورت میں وہ خود کو اس  بیماری میں مبتلا خیال کرنے لگتا ہے، جس میں وہ در حقیقت مبتلا نہیں ہوتا۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا،پینا، سونا، گفتگو اور خیال سب اس  بیماری کی گرفت میں آجاتے ہیں جیسے ہی اس کو معلوم ہوتا ہے وہ رپورٹیں اس کی نہیں ہیں وہ دوبارہ اپنی اصلی حالت میں لوٹ آتا ہے۔

اس سے میری مراد ہر گز یہ نہیں ہے کہ بیماری اور مرض کا اصل وجود نہیں ہے یا انسان کے لیے یہ ایک تکلیف دہ مرحلہ نہیں ہے۔ مراد یہ ہے زندگی کی ایک حقیقت کے اثبات کے ساتھ ساتھ دیگر حقیقتوں کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ کشمکشِ حیات میں ہر حقیقت کو قبول کرکے آگے بڑھا جاتا ہے۔ انسان کو کمزور دل نہیں ،مضبوط دل سے ہر حقیقت کو قبول کر کے زندگی گزارنی چاہیے۔ انسان کو کمزور اعصاب سے نہیں، مضبوط اعصاب سے کارزارِ حیات میں اتر کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ انسان ہار بھی جائے، کم از کم یہ پچھتاوا تو نہیں ہوتا کہ اگر میں کوشش کرتا تو کامیاب ہو جاتا، میری ناکامی کی وجہ، میرا بے حوصلہ اور بے ہمت ہونا ہے۔ کئی لوگ یہ کہہ اور سوچ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ میرے کرنے سے کیا ہونا ہے حالانکہ انسان کو نتیجے کا نہیں، عمل کا پابند ٹھہرایا گیا ہے۔

کشمکشِ حیات میں ہر حقیقت کو قبول کر کے آگے بڑھا جاتا ہے

زندگی اللہ کی بہت خاص اور اعلیٰ نعمت ہے۔ اسے گزارنے سے بہتر ہے اس میں سے گزرا جائے۔ اس کے ہر رنگ سے پیدا ہونے والے پھولوں کی خوشبو سے اپنے من و تن کو معطر رکھا جائے۔ ایک بھرپور زندگی صرف اس وقت نہیں گزرتی جب ڈھیر ساری دولت ہو۔ زندگی کی تجوری سے، فقط دولت ہی نہیں، اور نعمتیں بھی برآمد ہوتی ہیں۔ خوشی زندگی کے کسی کونے میں چھپی بیٹھی ہوتی ہے بس اسے وہاں سے ڈھونڈنا ہوتا ہے۔ سکھ اور دکھ میں سے انسان آسانی سے کسی کو بھی لے سکتا ہے۔ جب وقت نے ٹھہرنا نہیں ہے اور رواں دواں رہنا ہے تو پھر اسے ہنس کر، بانٹ کر، مل جل کر کیوں نہ گزارا جائے۔

فرد سے قوم تک، جب کوئی بھی نفسیاتی شکست کو قبول نہیں کرتا وہ سب کچھ بدل سکتا ہے۔ اپنے آپ، اپنے ارد گرد کے ماحول، اپنے گھر اور اپنے زمانہ حال کو بدل سکتا ہے۔ اگر وہ اعصابی اور نفسیاتی شکست کے حصار میں بند ہو جاتا ہے تو پھر اسے روح کی موت سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ روح کی موت تب واقع ہو جاتی ہے جب وہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ شکست ہی میرا مقدر ہے اور میں اس کے لئے ہی تخلیق ہوا ہوں۔ وہ خود کو حالات کی لہروں کے سپرد کر کے ہاتھ پاؤں مارنا چھوڑ دیتا ہے تو پھر قدرت بھی اس کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیتی ہے کیونکہ قدرت کا کہنا ہے خدا اسی قوم کی حالت کو بدلتا ہے جو خود اپنے حالات کو بدلنے کی تگ ودو کرتی ہے۔

نعمت بھی اسی قوم کو میسر آتی ہے جو “آمادہ تغییر” رہتی ہے۔ جو ” گونگی بہری اندھی” ہو جائے اور اس پہ قناعت کر لے تو وہ زمانہ اور اقوام کے ہاتھوں مسل دی جاتی ہے۔ الغرض فرد ہو یا قوم اسے اپنا وقت اور میسر صلاحیت کو استعمال کر کے دیگر فرد اور قوم سے آگے بڑھنا ہے۔ فقط یہ نہیں بلکہ اپنے اندر داخلی چیلنجز کا مقابلہ کر کے دنیا کے لئے ایک مثال بننا ہے جو ہر شخص کے لئے حوصلہ بھی بنے اور طاقت بھی۔ مستقبل میں آنے والی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ بھی۔

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...