پُروقار خارجہ تعلقات

257

وقار وشرف، عزت نفس اور پذیرائی کے حصول کی تمنا رویوں پر اثرانداز ہونے کے ساتھ افراد اور قوموں کے اندر یکساں طور پہ تحریک پیدا کرتی  اور انہیں پرعزم رکھتی ہے۔ یہ خواہش، تحقیر اور مسترد کیے جانے کے خوف سے جنم لیتی ہے۔ وقار و شرف ایسا سرمایہ ہے جسے ایک قوم  شائستہ سیاسی بندوبست، طاقتور معیشت اور اپنی جغرافیائی وتزویراتی مضبوطی کے ساتھ  حاصل کرسکتی ہے۔ اور نتیجتاََ اسی سے ہی کسی قوم کے دوستوں اور مخالفین  کا تعین ہوتا ہے۔

کشمیر میں بھارتی جارحیت پر مسلم اُمہ کی سردمہری کے حوالے سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان اس بات کا عکاس ہے کہ دیگر اقوام کے ساتھ صحت مند اور برابری کی بنیاد پر دو طرفہ تعلقات کی استواری  کے لیے بعض ناگزیر پہلوؤں وعناصر کے حوالے سے پاکستان شدید کمزوریوں کا شکار ہے۔ جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے اسی دن سے قوم کو اُمہ اور اسلامی بھائی چارے کا سبق پڑھایا جا رہا ہے۔ بہت سے پاکستانی تو اس بات پر حیران ہیں کہ آخر کیوں مسلم امہ پاکستان سے اسی وقت اظہار یکجہتی کرتی ہے جب ہم اندرونی طور پر متحد اور اقتصادی طور پر مضبوط پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ اقوام کے مابین باہمی تعلقات میں مذہب اور نظریات کبھی بھی مضبوط خارجہ تعلقات کی بنیاد نہیں ہوتے۔ حقیقت میں قوموں اور ممالک کے تعلقات میں ان کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے اور مجموعی طور پر معاشی مفادات اور سٹریٹجک اہمیت اقوام کو باہم جوڑے رکھتی ہے۔

جب پاکستان کے نام نہاد دوست مشکل کی گھڑی میں اس کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے تو اس سے پاکستانیوں کی دل آزاری ہوتی ہے اور وہ اس قسم کے طرز عمل کو اپنی توہین تصور کرتے ہیں۔ آج کے جدید دور میں جہاں مقامی سیاست میں مقبولیت اور شناخت کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے وہاں یہ عوامل بین الاقوامی سیاست میں بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ معروف امریکی پولیٹیکل سائنٹسٹ فرانسس فوکویاما نے اپنی نئی تصنیف Identity: the Demand for Dignity and Political Resentmentمیں شناخت کی سیاست پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے اپنے تھیسس کو انسانی روح کے تین پہلوئوں کی وضاحت کر کے سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ پہلی ضروریات کو جبلت کے زمرے میں رکھا گیا ہے جیسے بھوک پیاس وغیرہ۔ دوسرے نمبر پر منطق اور استدلال آتا ہے مثال کے طور پر ہم بھوکے ہوں تب بھی گلے سڑے گوشت کو نہیں کھاتے۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر ہارمونز سے پیدا ہونے والا احساس ہے۔ جو دوسرے لوگوں میں وقار، احترام، قبولیت کا متقاضی ہوتا ہے۔ مصنف کا ماننا ہے کہ شناخت کی سیاست کی خواہش بھی ہمارے ہارمونز سے جنم لیتی ہے۔ کیونکہ ہر گروہ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کو دوسرے گروہوں سے ممتاز حیثیت حاصل ہو۔ لوگ اپنی شناخت کو تسلیم کروانے کے لئے لڑتے ہیں۔

کیا پاکستان کو بھی اسی قسم کی تحلیل نفسی کی ضرورت نہیں کہ پاکستان کے دوستوں اور دشمنوں کو ازسر نو اس معیار پر پرکھا جائے؟ شاید یہی وقت ہے کہ ہم پاکستانیوں کو اسلامی دنیا اور اُمہ کے فریب سے باہر نکل کر حقائق کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے، کیونکہ آج کی دنیا میں یہ تصور اقوام کی عظمت کا معیار ہی نہیں رہا۔ اس حقیقت کا سامنا ہم حالیہ دنوں میں کشمیر کی صورت حال پر خلیجی ممالک کی خاموشی کی صورت میں کر چکے ہیں۔ ان ممالک کی بھارت سے 100ارب ڈالر کی تجارت ہے جو بھارت کو خلیج کے ممالک کا معاشی پارٹنر بنائے ہوئے ہے۔ جبکہ پاکستان اپنے عرب اتحادیوں کے مابین تجارتی توازن کھو چکا ہے اور پاکستان کے تعلقات خلیجی ممالک کے ساتھ صرف بیل آئوٹ پیکیج تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ پاکستان کے خلیجی ریاستوں سے پروقار تعلقات اس وقت تک خواب ہی رہیں گے جب تک پاکستان اپنی معیشت اور عزت نفس بحال نہیں کر لیتا۔

جب پاکستان کے نام نہاد دوست مشکل کی گھڑی میں اس کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے تو اس سے پاکستانیوں کی دل آزاری ہوتی ہے اور وہ اس قسم کے طرز عمل کو اپنی توہین تصور کرتے ہیں

پاکستان کے عرب دنیا اور ایران سے تعلقات کبھی بھی اتنے آسان نہیں رہے ہیں۔ پاکستانی معاشرے پر اثر انداز ہونے کے لئے ایران اور عرب دنیا نے پاکستان میں اپنی پراکسیز بنا رکھی ہیں جو تشدد پسند قوتوں سے مراسم بنائے ہوئے ہیں اور پرتشدد کاروائیاں بھی کرتی ہیں۔ پاکستان کے عرب دنیا پر انحصار کے دور کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو نے خارجہ پالیسی میں کلیدی تبدیلی کر کے کیا تھا۔ بھٹو کے اس اقدام کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور سینٹو کے بجائے عرب دنیا کو بنا لیا گیا۔ اس وقت بھی شہنشاہ ایران نے بھٹو کو متنبہ کیا تھا کہ یہ تعلقات پاکستان کے لئے کبھی بھی سٹریٹجک لحاظ سے سود مند ثابت نہیں ہوں گے۔ شاہ ایران نے عالمی اسلامی کانفرنس جو 1974ء لاہور میں ہوئی تھی اس کا بائیکاٹ بھی کیا تھا۔ اس کے باوجود بھی ایران نے دولخت ہونے کے بعد پاکستان کے پاؤں پر کھڑے ہونے میں بھر پور مدد کی تھی۔ اس وقت بھٹو نے بھی عرب دنیا کی بھر پور مدد حاصل کی تھی۔

ایرانی امور کے ماہر ایلیکس وٹانکا نے اپنی کتاب میں ایران پاکستان سکیورٹی اور سفارتکاری پر امریکی اثرورسوخ پر مفصل روشنی ڈالی ہے اور لکھتے ہیں کہ کس طرح اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد پاکستان اور ایران کے تعلقات میں سرد مہری بڑھتی گئی۔ در حقیقت شاہ ایران نے تمام تر اختلافات کے باوجود لاہور میں اپنا وزیر خارجہ بھیجا تھا۔ پاکستان کو اس نئی پالیسی کی قیمت چکانی پڑی۔ 1974 سے قبل پاکستان نے کبھی کسی عرب ملک سے براہ راست  مالی مدد طلب  حاصل نہیں کی تھی۔بھٹو نے روایت بدل دی۔ اس کے بعد عربوں کے تیل کا پیسہ بہنا شروع ہوا۔

البتہ ایران میں تختہ الٹنے اور پاکستان میں فوجی مارشل لاء کے بعد حالات تیزی سے تبدیل ہونا شروع ہوئے۔ شاہ ایران کے بعد مغرب کا اپنے عرب دوستوں پر انحصار بڑھتا گیا اور انہوں نے خلیج میں امن اور افغانستان میں سوویت یونین کو شکست دینے کے لئے اپنے عرب دوستوں پر انحصار کیا۔ پاکستان کو بھی خطہ کے جیوسٹریٹجک حالات کے پیش نظر اپنی پالیسی میں تبدیلیاں کرنا پڑیں۔ اب جبکہ منظرنامہ مختلف ہوگیا ہے تو پاکستان کا زیر التوا تیل کی ادائیگیوں اور بیل آوٹ کے لیے عربوں پر بہت زیادہ انحصار ان کے ساتھ برابری کی سطح کے تعلق کو متأثر کر رہا ہے۔

آج پاکستان کو کشمیر کے معاملے میں تین اطراف سے حمایت مل رہی ہے جن میں پہلے نمبر پر مغربی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ہیں جو صورتحال کو اجاگر کر کے بھارت پر دباؤبڑھا رہی ہیں۔ دوسرے نمبر پر چین ہے جس کی مدد سے ہم کشمیر ایشو کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے میں کامیاب ہوئے۔ چین کے کشمیر میں اپنے مفادات ہیں، دوسرے سی پیک اور بی آر آئی کی صورت میں چین کی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری بھی مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی متقاضی ہے۔  تاریخی طور پہ امریکا اور چین، دونوں  پاکستانی خارجہ تعلقات  میں اہم   حیثیت کے حامل رہے ہیں۔ پاکستان ان دونوں کے ساتھ روابط بحال وفعال رکھنے میں کامیاب رہا ہے اور اس سے فوائد بھی حاصل کیے۔ اب بھی پاکستان کو دونوں ممالک کے ساتھ  تعلقات میں  توازن یرقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ تزویراتی اور سیاسی  مفادات میں اشتراک کی وجہ سے  پاکستان کے لیے چین کی سرمایہ کاری  انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔امریکا کے ساتھ  تعلق بھی ناگزیر ہے۔  نہ صرف معاشی وتزویراتی  مفادات کے سبب، بلکہ عالمی سطح پر اپنے  اچھے امیج کی تشکیل کے لیے بھی۔ دنیا میں پاکستان کا امیج ہی  اقوام کے مابین  اس کے وقار وشرف  اور احترام  کی حیثیت کو بھی طے کرے گا۔

ان حالات میں بظاہر پاکستان کے لئے ایران سے تعلقات اور سٹریٹجک اہمیت بنائے رکھنا یقینا مشکل ہے لیکن پاکستان ایران کے ساتھ معاشی شراکت داری قائم رکھ کر دونوں ممالک میں خلیج کو پاٹنے کی کوشش ضرور کر سکتا ہے۔ ایران اور پاکستان کے تعلقات میں توازن بنائے رکھنے میں چین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ایران چین کے ساتھ بہترین شراکت داری کے ذریعے نہ صرف پاکستان اور ایران بلکہ پاکستان اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کر سکتا ہے۔

تاہم عالمی برادری میں اپنے وقار، شرف اور عزت نفس کی بحالی کے لیے جن بنیادی پہلوؤں پر توجہ کی ضرورت ہے ان سب کا تعلق داخلی امور سے ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی اہم ہے کہ دہشت گردی وانتہا پسندی کے خلاف کوششوں اور افغانستان میں امن کے قیام کے لیے عالمی برادری کے ساتھ تعاوی جاری رکھا جائے۔ شدت پسند سب سے زیادہ پاکستان کے وقار اور عزت نفس پر ضرب لگاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ انہیں واپس آنے کا موقع  نہ دیا جائے۔

بشکریہ: روزنامہ 92

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...