کشمیر پر دُنیا سے شکوہ بجا، مگر کچھ سوال اپنے آپ سے کرتے ہیں

156

بھارت کی جانب سے بھارتی آئین کے دفعات 370 اور 35A کو ختم کرتے ہوئے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی لانے کے بعد خطے میں کشیدگی اپنے انتہا کو پہنچ گئی ہے۔ اس صورتِ حال میں پاکستان اور کشمیری عوام و قیادت کا رد عمل توقعات کے عین مطابق ہے کیونکہ بھارتی فیصلے سے کشمیری برادری اور پاکستان براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔ بھارت کے اس فیصلے پر پوری دنیا میں تنقید ہو رہی ہے اور کشمیر میں جاری ظلم پر میڈیا اپنی آواز بلند بھی کر رہا ہے اگرچہ مغربی قیادت اور اقوام متحدہ عملاََ کچھ کرنے سے ہچکچا رہے ہیں اور اب تک ان کی جانب سے کوئی ایسا اقدام سامنے نہیں آیا جس سے بھارت پر دباؤ پڑتا اور وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرتا۔

یہ تو بھارت کا اقدام اور اس حوالے سے موجودہ صورتحال ہے جس پر ہم چیں بجبیں ہیں، لیکن اب یہ بھی ضروری ہے کہ اس فیصلے کے بعد ہمیں اپنی کمزوریوں اور خامیوں پر بھی غور کرنے کے لئے بحیثیت قوم اپنے آپ کو بھی احتساب کے لئے پیش کرنا چاہیے۔ کیا ہم اپنی کشمیر پالیسی کو اس کے تقاضوں اور ضرورت کے مطابق صحیح معنوں میں اُجاگر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں؟ کیا بھارت کا یہ اقدام کسی فوری فیصلے کے تحت  اُٹھائے جانے والا قدم تھا، یا اس کے لیے اس نے کئی سال غور و فکر اور ہوم ورک میں صرف کیے ہوں گے؟ بی جے پی نے کشمیر سے متعلق یہ دعویٰ اپنے حالیہ انتخابی منشور میں بھی کیا تھا تو ہم نے اسے کتنا سنجیدہ لیا؟

پچھلی حکومت میں ہم بغیر وزیر خارجہ کے چلتے رہے اور کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شب کے عہدے کو اپنی کرسی مضبوط کرنے کے لیے سیاسی رشوت کے طور پر ایک ایسی شخصیت  کو دیے رکھا جو اس عہدے کے تقاضوں کے مطابق اس کی اہل نہیں تھی۔ کشمیر کمیٹی کا بنیادی کام عالمی برادری کے سامنے کشمیر کے مقدمے کو اُجاگر کرنا اورہمارے اصولی موقف کے حق میں لابنگ کرنا ہے لیکن جس  بندے کو یہ عہدہ دیے رکھا اُسے کیا بین الاقوامی کمیونٹی کی زبان تک آتی تھی؟ جس کی بنیاد پر وہ کشمیر کاز کے لئے آواز بلند کرتے؟ اور موجودہ حکومت میں جس شخص کو کشمیر مسئلے کی ذمہ داری سونپی گئی اسے کسی طور بھی اس کا اہل تصور کیا جاسکتا ہے؟

ہماری آنکھیں کھولنے لئے کیا بھارت کی جانب سے سال 2017میں اُٹھائے جانے والا یہ قدم کافی نہیں تھا کہ جب اس نے گلگت بلتستان پر اپنے (غیر منطقی) دعویٰ کو بنیاد بناتے ہوئے گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھارتی پارلیمنٹ میں نمائندگی دینے کے لئے بل پیش کردیا تھا؟

لہذا آج جب کشمیر کے معاملے پر عالمی برادری کی تائید و حمایت کی ہمیں فوری ضرورت تھی تو ہمیں تنہائی محسوس ہو رہی ہے۔ مغربی ممالک کی تو بات ہی نہیں،اہم اسلامی ممالک بھی بد قسمتی سے اِسے بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دے رہے ہیں، بلکہ اس کے ذمہ دار شخص کو بعض نے تو اپنے ملک کے اعلیٰ ترین اعزاز سے بھی نواز دیا۔ ہماری آنکھیں کھولنے لئے کیا بھارت کی جانب سے سال 2017میں اُٹھائے جانے والا یہ قدم کافی نہیں تھا کہ جب اس نے گلگت بلتستان پر اپنے (غیر منطقی) دعویٰ کو بنیاد بناتے ہوئے گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھارتی پارلیمنٹ میں نمائندگی دینے کے لئے بل پیش کردیا تھا؟ جموں و کشمیر کو تو اپنا اٹوٹ انگ ہونے کا راگ وہ شروع سے ہی الاپتے رہے تھے۔ بھارت کے اتنے بڑے قدم کے بعد ہم نے مسئلہ کشمیر اور گلگت  بلتستان سے متعلق اپنی پالسیوں میں کتنی تبدیلی لائی؟

صرف یہی نہیں بلکہ حد تو یہ ہے کہ بھارت نے تمام حدود کو پھلانگتے ہوئے 5 اگست کو جب ریاست جموں کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت کا حصہ بنا دیا جسے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہمارے سابق صدر آصف زرداری نے سانحہ مشرقی پاکستان کے برابر کا سانحہ قرار دیا۔ اس غیر معمولی سانحے کے بعد بھی ہماری پالسیوں میں کوئی بڑی اور واضح تبدیلی نظر نہیں آئی۔ ہم ابھی تک دوسروں کو طعنے دے رہے ہیں۔ اس سانحے کی  مذمت اور اس پر رد عمل دینے کے لئے 6 اگست کو ہماری پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تو اسمبلی میں اس حوالے سے جو قرارداد پیش کی گئی اُس میں اس سانحے کا ذکر تک کیوں موجود نہیں تھا؟ جب اپوزیشن کی جانب سے اس معاملے کی نشاندہی کی گئی تو ان نکات کو شامل کرنے کے لئے اسمبلی کا اجلاس جو 20 منٹ کے لئے ملتوی کیا گیاتھا۔ اُسے دوبارہ شروع کرنے میں پانچ گھنٹے کیوں صَرف ہوئے؟

اُسی روز گلگت  بلتستان اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتا ہے اور اس اجلاس میں بھی کشمیر کے مسئلے پرقرارداد لائی جاتی ہے لیکن قومی اسمبلی کی طرح اس اسمبلی کی قرارداد میں بھی بات مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم کی مذمت سے آگے کیوں نہیں بڑھی؟ اس قرارداد میں بھی کشمیر کی حیثیت تبدیل کئے جانے کا ذکرکیوں نہیں آسکا تھا؟ ان سوالات کا جواب تلاش کرنے کے لئے ہمیں اپنے گریباں میں سرڈال کر خود سے سوالات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر اس مرحلے پر ہم ان سوالات کے جواب تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے تو آنے والے وقتوں میں صحیح پالیسی کے تعین کرنے اور منزل کی جانب بڑھنے کے لئے راستہ تلاش کرنے کی جستجو کی ضرورت نہیں پڑئے گی بلکہ از خود راہ متعین ہوتی جائے گی۔

اس تبدیل شدہ صورت حال کے بعد ماضی کی طرح اب بھی گلگت بلتستان کے عوام اپنے مظلوم کشمیری عوام سے بھر پور یکجہتی کے لئے سڑکوں پرہیں اور بھارت کے اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ اس ضمن میں پچھلے جمعہ کو گلگت بلتستان بھر میں یوم یکجہتی کشمیر بنایا گیا جہاں کشمیری عوام کے اصولی موقف کی تائید و حمایت کے ساتھ ساتھ بھارتی اقدام اور کشمیر میں جاری مظالم کی بھر پور مذمت کی گئی۔ لیکن گلگت بلتستان کے عوام یہ سوال کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو جس استصواب رائے میں شمولیت کے نام پر ملکی پارلیمنٹ میں نمائندگی سے محروم رکھا گیا، یہاں کے لوگوں کے خدشات کے عین مطابق آج اگر استصواب ِراے کا معاملہ کھٹائی میں پڑ رہا ہے تو سوال یہ ہے کہ یہاں کے لوگوں کو گذشتہ 72 سالوں سے پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...