سیکولرزم: لادینیت یا غیر فرقہ واریت؟

176

سیکولرازم کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے میں کیا حرج ہے؟

اگر مولانا مودودیؒ اور ان جیسے اکابر کے نزدیک سیکولرازم کا ایک معنی لادینیت ہے تو اس کے لیے دوسری تعبیر ’غیر فرقہ وارانہ نظام‘ بھی ہو سکتی ہے۔ سیکولرازم کو جب ہم مغربی تہذیب کے اس تناظر میں دیکھتے ہیں کہ جب کلیسا کے استبداد کے خلاف ایک ہمہ گیر بغاوت ہوئی اور ردعمل نے مذہب کے عنوان سے موجود ہر چیز کو سیاسی اور ریاستی نظام سے دیس نکالا دے دیاتو حکومتیں آزاد ہو گئیں کہ وہ کسی مذہبی دستاویز کو قانون سازی کی بنیاد نہ بنائیں بلکہ عوام کی اکثریتی آرا کو قانون سازی کی اساس قرار دیں۔ چاہے عوام کی اکثریت مذہب کی کسی بنیادی تعلیم کے خلاف ہی کوئی رائے کیوں نہ اختیار کرلے۔ قانون سازی کے اس تصور کو لادینیت کہا جاسکتا ہے لیکن اس تصور کے ساتھ یہ امر منسلک ہے کہ ریاست کو اگرچہ مذہب اور اس کی تعلیمات سے کوئی سروکار نہیں ہوگا لیکن عوام انفرادی طور پر کسی بھی مذہب کی تعلیمات کو آزادانہ اختیار کر سکیں گے اور مذہبی رسوم ادا کر سکیں گے۔ اس طرح سے مذہب ہرفرد کا اپنا ذاتی معاملہ قرار پا گیا اور ریاست سے اس کا کوئی لینا دینا باقی نہ رہا۔ اسی طرح سے اگر کوئی شخص کوئی  مذہب اختیار نہیں کرتا، ریاست کو اس سے کوئی دلچسپی نہ ہوگی۔

دوسری طرف مشرق میں مذہب کے خلاف کوئی ایسا ہمہ گیر ردعمل پیدا نہ ہوا۔ یہاں تک کہ بعض ادیان اور خاص طور پر اسلام کے ماننے والوں کی اکثریت اس امر پر متفق رہی کہ مذہب کو ریاستی امور سے جدا نہیں کیا جاسکتا بلکہ بہت سے مذہبی گروہ اس بات پر آج بھی اصرار کرتے ہیں کہ قانون سازی ان کے تصور مذہب یا ان کے ہاں رائج مذہبی احکام کی بنیاد پر کی جانا چاہیے۔ اس مسئلے میں ایک طرف فرقہ واریت نے کچھ مشکلات پیدا کردیں اور دوسری طرف خاص طرح کی طرز حکومت کے مختلف تصورات نے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ ا س کے ساتھ ساتھ اصطلاحوں کے مختلف استعمال اور ان پر بعض خاص گروہوں کے اصرار نے بھی مسئلے کو گنجلک بنا دیا۔ قانون سازی کے جدید تصورات اور مذہبی استنباطات کا بھی بعض مقامات پر ٹکراؤ پیدا ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں شدت پسندی، دہشت گردی، فرقہ واریت، تکفیریت اور انتہا پسندی کی مختلف شکلیں وجود میں آئیں۔ اس صورت حال سے انسانیت کے دشمنوں اور استعماری قوتوں نے بھی سوئے استفادہ کیا۔

اس پس منظر میں یہ سوال بھی سامنے آیا کہ کیا مسلمانوں کے پاس کوئی ایسا تصور فکر و عمل بھی موجود ہے جسے ساری دنیا کے لیے پیش کیا جاسکے، ہر دین کے ماننے والے کے لیے جس میں راہنمائی یا جاذبیت موجود ہو؟ اس کے لیے بہت ٹھنڈے دل سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ فی الحال تو کسی ایک مسلمان ملک کے ہاں کوئی نظام اسلامی سمجھا جاتا ہے تو اسے پورے پیکیج کی شکل میں دوسروں کے لیے تجویز کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ ایسے میں غیر مسلموں کے لیے کوئی نسخہ کیمیا کیسے پیش کیا جاسکتا ہے۔

اصطلاحوں اور شخصیات پر جنگ آزمائی ترک کرنا ہوگی۔ کوئی ایسا تصور حکومت پیش کرنا ضروری ہے جس کی روح سے پوری دنیا میں یکساں استفادہ کیا جاسکے

ایک مسئلہ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ عام طور پر مسلمان علماء غیر مسلم ملکوں کے لیے تو مغرب کے سیکولرازم کو تجویز کرتے ہیں جب کہ اپنے ہاں وہ مذہبی حکومت کے قیام پر زور دیتے ہیں۔ بعض آزاد خیال بلکہ روشن فکر مسلمان بھی اس طرز فکر کو منافقت سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں ہم یہ گزارش کرنے کی جسارت کررہے ہیں کہ سیکولرازم کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے میں کیا حرج ہے؟

قائداعظم محمد علی جناح کی 11اگست 1947ء کی تقریر کو اس تعبیر کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر میثاق مدینہ کی بنیاد پر اسے سمجھنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ اس تعبیر کے مطابق سیکولرازم یعنی غیر فرقہ وارانہ نظام، بے خدا نظام نہیں ہوگا بلکہ با خدا نظام ہوگا، حکومت اور حکومتی ذمہ داران ایمان باللہ ہی کی بنیاد پر تمام مسلمانوں کے ساتھ یکساں سلوک کریں گے اور غیر مسلموں کو بھی اپنی ریاست میں عدل و انصاف اور برابر کے انسانی حقوق فراہم کرنے کی ذمہ داری لیں گے۔ اس میں کسی فرقے کو دوسرے پر بالادستی حاصل نہیں ہوگی۔

حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری، سماجی عدل وانصاف کی فراہمی، انسانی جان و مال اور عزت کا تحفظ، قانون کی مساویانہ حکمرانی، تمام گروہوں کو ان کے مذہبی افکار و تعلیمات کے مطابق عمل کرنے کی آزادی جو دوسروں کی آزادی میں حائل نہ ہو اور ظلم و جور کا خاتمہ قرار پائے گی۔

امام مہدی ؑکے بارے میں جو کہا جاتا ہے کہ دنیا جیسے ظلم و جور سے بھری ہو گی وہ اسے عدل و قسط سے بھر دیں گے تو یقینی طور پر وہ یہ کام مسلم و غیر مسلم دونوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کی بنا پر کریں گے۔ ایسے میں شیعہ، سنی مسائل تو ثانوی قرار پا جاتے ہیں۔

سیکولرازم کی ”غیر فرقہ وارانہ“ تعبیر سے ہماری مراد یہی ہے۔ کسی کو یہ اصطلاح پسند نہ آئے تو وہ کوئی بہتر اور مترادف اصطلاح تجویز کر سکتا ہے۔

اس ”تصور“ کو کچھ فرق کے ساتھ مسلم و غیر مسلم سب ریاستوں کے لیے تجویز کیا جاسکتا ہے چہ جائیکہ شیعہ یا سنی ریاست کو موضوع بنایا جائے۔ اس کی روح ہر جگہ زمان و مکان کے تقاضوں کی روشنی میں کچھ جمع و تفریق کے ساتھ اختیار کی جاسکتی ہے۔ ہمیں اصطلاحوں پر اصرار اور شخصیت پرستی نے رسوا کر دیاہے لہٰذا اصطلاحوں اور شخصیات پر جنگ آزمائی ترک کرنا ہوگی۔ کوئی ایسا تصور حکومت پیش کرنا ضروری ہے جس کی روح سے پوری دنیا میں یکساں استفادہ کیا جاسکے اگر ہم ایسا نہیں کر سکتے تو اپنے دین کو آفاقی، دائمی اور حتمی قرار دینا ترک کر دینا چاہیے۔

ہر دور اور ہر علاقے کے انسانوں کو اپنی جزئیات فکر و عمل تجویز کرنا انسانی عقل و خرد کی توہین کے مترادف ہے۔ ایسا کم فکر اور جمود زدہ افراد ہی کر سکتے ہیں وگرنہ کسی نظام اصطلاحات، قانونی جزئیات اور حکمرانی کے خاص خدوخال کی تفصیلات پر ایمان لانے والا اور اسے تمام انسانیت کے لیے ناگزیر قرار دینے والا بالآخر تکفیری روش ہی اختیار کرے گا۔

اگر ہماری ان معروضات کو پوری طرح سے نہ پڑھا گیا اور نہ سمجھا گیا تو پھر ہمارے ساتھ بھی وہی ہوگا جو اوپر آخری جملے میں بیان کیا گیا ہے لیکن آخر کار موجودہ پیچیدہ صورت حال سے نکلنے کے لیے کچھ تو غوروفکر کرنا ہی ہوگا اور کوئی صورت حال تجویز کرنا ہی پڑے گی، اگرچہ ہم اپنی تجویز میں اصلاح کی گنجائش قبول کرنے کو آمادہ ہیں۔ بہرحال پھر بھی اگر بعض احباب خلوص نیت سے سنگ زنی کرنا چاہیں تو ان سے گزارش ہے کہ ہم تو پہلے ہی سینہئ داغ داغ رکھتے ہیں اور بقول فیض:

نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا

جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا

یہ آرٹیکلز بھی پڑھیں مصنف کے دیگر مضامین

فیس بک پر تبصرے

Loading...